آل سعود کی من مانیوں کے باعث یمن میں 30 ہزار مریضوں کی جان خطرے میں

یمن میں 30 ہزار مریض ایسے ہیں جنہیں علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی ضرورت ہے۔

فاران: یمن کی وزارت صحت کے ترجمان نے جارح سعودی-اماراتی اتحاد کی طرف سے جنگ بندی کی پابندی نہ کئے جانے کی مذمت کی ہے۔
المسیرہ ٹی وی چینل کے مطابق، یمن کی وزارت صحت کے ترجمان نجیب القباطی نے اتوار کو بتایا کہ جارح اتحاد جنگ بندی کے معاہدے پر عمل سے پیچھے ہٹ رہا ہے اور یہ ایسا جرم ہے جس کا انجام انسانی جانوں کے ضیاع کی شکل میں سامنے آئے گا۔
انہوں نے سعودی اتحاد کی طرف سے یمنی عوام کی مشکلات بڑھانے کے مقصد سے انجام دئے جانے والے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں 30 ہزار ایسے مریض ہیں جنہیں علاج کے لئے فورا ملک سے باہر جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 12 ہزار ایسے مریض اس دنیا سے جا چکے ہیں جنہوں نے بیرون ملک علاج کے لئے اپنا نام درج کرایا تھا مگر وہ ملک سے باہر نکلنے میں ناکام رہے۔

یمن کی وزارت صحت کے ترجمان نے کہا کہ بیماروں کی جان بچانے کے لئے جنگ بندی معاہدے میں طے شدہ ہفتے میں دو پروازیں کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے شعبے صحت کو پیشرفتہ میڈیکل سازوسامان کی ضرورت ہے۔
القباطی نے کہا کہ جارح اتحاد میں شامل ممالک یمنی عوام کی مشکلات کو جان بوجھ کر بڑھا رہے ہیں اور اس تعلق سے اقوام متحدہ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔