اتھارٹی کے خلاف پابندیاں منظم منصوبہ یا ردعمل؟ مقابلہ کیوں کر ممکن ہے؟
فاران: فلسطینی اتھارٹی پر قابض اسرائیل کی طرف سے عائد کردہ نئی پابندیوں کے باوجود رام اللہ اتھارٹی نے اسرائیل کے لیے اپنی سکیورٹی پالیسی کو تبدیل نہیں کیا۔ حالانکہ اسرائیل کے مسلسل جرائم کے باوجود فلسطینی قوم اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اسرائیل کے انتقامی حربوں کے باوجود اگرچہ سکیورٹی کوآرڈینیشن ابھی بھی جاری ہے۔ سیاسی گرفتاریاں اور مزاحمت کاروں ، طلباء اور کارکنوں کے خلاف محض سیاسی اختلاف کی وجہ سے انتقامی کارروائی جاری ہے، لیکن یہ سب کچھ نئی صہیونی حکومت کےاختیار میں مداخلت نہیں۔ اقوام متحدہ نے حال ہی میں دی ہیگ کی عالمی عدالت انصاف کو ایک سفارش ارسال کی۔ یہ سفارش 78 ارکان کی اکثریت سے ارسال کی گئی ہے جس میں عالمی عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی غیرقانونی بستیوں کے حوالے سے اپنی رائے دے۔
تاہم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں نئی صہیونی غاصب حکومت کو فلسطینی اتھارٹی کو نئے اقدامات اور تعزیرات کا نشانہ بنانے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔
سزائیں اور دھمکیاں
قابض وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ فلسطینیوں کے خلاف بین الاقوامی ٹریبونل میں جانے کے بعد پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
بیان کے مطابق قابض حکومت نے ہلاک ہونے والے صہیونی آباد کاروں کے اہل خانہ کے لیے کلیئرنگ فنڈز سے تقریباً 139 ملین شیکل تقریباً 39 ملین ڈالر کی کٹوتی کرنے اور ایریا ’C‘ میں فلسطینیوں کی تعمیرات منجمد کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ سیکٹر مقبوضہ مغربی کنارے کے تقریباً 60 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔ اسرائیل نے بعض اہم فلسطینی شخصیات کو محروم کرنے کے لیے ان کو ملنے والی مراعات بھی بند کردیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ قابض وزیر خارجہ ایلی کوہن نے فلسطینی اتھارٹی کو دھمکی دی کہ بین الاقوامی میدان میں اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی اُنہیں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے خلاف پابندیاں صرف شروعات ہیں، وہ امید کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں گے جو “دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ”
رد عمل نہیں ایک منظم منصوبہ ہے
فلسطینی سیاسی تجزیہ نگار اور مصنف ابراہیم المدھون کا خیال ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے خلاف صہیونی پابندیاں بین الاقوامی ٹریبونل میں جانے کا ردعمل نہیں ہے بلکہ فلسطینی اتھارٹی کو سیاسی طور پر کمزور کرنے، اسے کمزور کرنے اور اسے سکیورٹی کے کردار تک محدود کرنے کا ایک منظم منصوبہ ہے۔
المدھون نے مرکزاطلاعات فلسطین کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ جو کچھ بھی کرے، وہ نیتن یاہو اور بن گویر کی حکومت کو مطمئن نہیں کرے گی، اس کے برعکس نئے مطالبات، پابندیاں اور جرمانے عائد ہوں گے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ قابض حکومت فلسطینی شراکت دار کو نہیں دیکھتی، اور اتھارٹی کے ساتھ سابقہ معاہدوں میں غلطیاں دیکھتی ہے۔ جنہیں درست کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ ہر اس چیز پر حملہ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے جو فلسطینی ہے، حتیٰ کہ اس اتھارٹی پر بھی جو اس کی سکیورٹی مدد کررہی ہے۔ اس پر حملہ کرنے اور اس کا محاصرہ کرنے اور اس کے کردار کو کم کرنے اور اسے سکیورٹی کے کردار تک محدود کرنے کا کام کرتی ہے جو قابض ریاست کی خدمت کرتا ہے۔”
مزاحمت کیسے کی جائے؟
فلسطینی تجزیہ نگار اور مصنف ابراہیم المدھون کا خیال ہے کہ فلسطینی اتھارٹی جو کچھ بھی پیش کرے، اس سے موجودہ انتہا پسند صہیونی حکومت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے اتھارٹی پر زور دیا کہ وہ اندرونی ہم آہنگی کی طرف بڑھیں، فلسطینیوں کی صفوں میں اتحاد کی کوشش کرے۔ صہیونی بلیک میلنگ کا شکار نہ ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ حکومت فلسطینیوں کی صفوں میں اتحاد کے ایک موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔ خاص طور پر الجزائر میں گذشتہ سال ہونے والی مفاہمتی کانفرنس کے بعد کے بعد فلسطینی دھڑوں میں اتحاد قائم کیا جائے۔
انہوں نے قومی اقدام کو مضبوط بنانے اور انتہا پسند حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جامع قومی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
المدھون نے کہا کہ “فلسطینی صدرمحمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی کے رہ نماؤں کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ صہیونی حملوں سے محفوظ نہیں ہیں، خاص طور پر یہ کہ ہم اس مرحلے پر ہیں جہاں صہیونی فیصلے کی قیادت نیتن یاہو، بن گویر اور دیگر جیسے شدید انتہا پسند کر رہے ہیں۔”
فلسطینی مصنف ذوالفقار سویرجو کا کہنا ہے کہ فوری طور پر “گول میز” کانفرنس کا مطالبہ حب الوطنی ہے۔ اس اسرائیلی حکومت کا مقابلہ کرنے کے بارے میں بات کرنے کے لیے ایک فوری قومی منصوبہ تیار کرنا ضروری ہے، حقیقی قومی ایکشن کمیٹیاں تشکیل دینا جو آئندہ سفارتی، سیاسی اور میدانی جنگ کے لیے پروگرام ترتیب دینے کے قابل ہوں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس کے لیے PLO کے تمام اداروں کی تنظیم نو اور جغرافیہ کے مطابق کاموں کی تقسیم کی ضرورت ہے۔ تاکہ تمام فلسطینی اندر اور باہراس میں شریک ہوں۔
انہوں نے “دو ریاستی حل” سے متعلق تمام پرانے وہموں کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ایک مکمل مزاحمت پروگرام ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا جس میں تمام فلسطینی شرکت کریں اور فلسطینی سفارتخانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اپنے محاذ پر سفارتی کردار ادا کریں۔













تبصرہ کریں