اردن کو “اسرائیل” سے وجودی اور اسٹریٹجک خطرے کا سامنا ہے:تجزیاتی رپورٹ

ماہرین  کا کہنا ہےکہ اسرائیلی پوزیشنوں میں سب سے خطرناک یہ ہے کہ یہ صرف سابق وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، یا موجودہ وزیر اعظم نفتالی بینیٹ تک محدود نہیں ہے، بلکہ تمام اسرائیلی جماعتوں تک ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: اردن کے دارالحکومت عمان میں ایک غیر منافع بخش ادارے ’انسٹی ٹیوٹ فار پولیٹکس اینڈ سوسائٹی‘ نے ایک “پوزیشن اسسمنٹ” پیپر جاری کیا ہے جس میں اردن کے مفادات پر اسرائیل کے موجودہ موقف اور بیانیے کو خطرناک  قرار دیا گیا ہے۔ اس میں اردن کے تصور میں ایک بنیادی تبدیلی کو ظاہر کیا گیا ہے اور اس پر عمان کے تحفظات واضح کیے گئے ہیں۔

“صورتحال کی تشخیص” کے مقالے میں کہا گیا ہے کہ “اسرائیلی سیاسی یا میڈیا کی غنڈہ گردی  میں کھردری زبان میں بات کی جاتی ہے۔ اس میں ان اسٹریٹجک تبدیلیوں کو پڑھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جو خطہ قابض ریاست کی پالیسیوں  یا امریکی کردار کی شکل میں سامنا کررہا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ نے زور دیا کہ اسرائیل کے ساتھ نمٹنے کے معاملے میں اردنی حکام کے ایک گروپ کے ذہنوں میں ایک طویل عرصے سے رہنے والے نظریات کے منظر کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات چیت کو وسیع پیمانے پر کھولنے کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔ بات چیت تمام فلسطینی قوتوں کے ساتھ ہونی چاہیے اور اسے  فلسطینی اتھارٹی یا رام اللہ ہیڈ کواٹر تک محدود نہ رکھا جائے۔

اسیسمنٹ جائزے کو’تبدیل ہوتی صورت حال میں اسرائیل اردن اور فلسطین کے تعلقات‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ ماہرین کی آرا پر مبنی ہے جن میں سابق اردنی وزیر خارجہ مروان المعشر کا بیان بھی شامل ہے۔ انہوں نے اردن اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے اتار چڑھاؤ کے مسئلہ فلسطین پر مرتب ہونے والے اثرات کا اعتراف کیا۔

اس سیشن میں اردن کے موجودہ کردار سے متعلق بہت سے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی بڑھتی جارحیت کے جلو میں اگلے مرحلے میں دستیاب آپشنز پر بھی بات کی گئی ہے۔ اسرائیل کی یہ جارحیت اردن کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط  کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ کیونکہ اردن نے سنہ  1994 میں اسرائیل کے ساتھ خطے اور دنیا کے وسیع تر مفاد میں امن معاہدہ کیا تھا۔

ماہرین  کا کہنا ہےکہ اسرائیلی پوزیشنوں میں سب سے خطرناک یہ ہے کہ یہ صرف سابق وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، یا موجودہ وزیر اعظم نفتالی بینیٹ تک محدود نہیں ہے، بلکہ تمام اسرائیلی جماعتوں تک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی ریاست اسرائیلی یہودی برادری کے لیے ترجیح نہیں ہے۔ جو بھی آج اسرائیل کے اندر فلسطینی ریاست کی بات کرتا ہے، سیاسی مساوات میں اس کا کوئی وزن نہیں ہے۔”

مقالے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں ایک چوتھائی صدی سے دائیں بازو سے انتہائی دائیں بازو کی سیاست چلی آرہی ہے اور اردن کو اسرائیل کی اس سخت گیر سیاست سے واسطہ پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اردن اور دوسرے ممالک کی طرف سے تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کی طرف کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی کیونکہ ان حالات میں اہم فریقن مذاکرات ہی سے انکاری ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ “اس اسرائیلی انقلاب اور اردن اسرائیل تعلقات میں سیاسی انحراف کی کیفیت کے باوجود اس سیاسی انحراف کے متوازی میدان میں دونوں فریقوں کے درمیان اقتصادی اور سلامتی کے تعلقات کا مشاہدہ کیا  سکتا ہے۔ اس باب میں دونوں ملکوں کے درمیان پانی اور توانائی کے شعبوں میں اردن اور اسرائیل  کا معاہدہ بھی شامل ہے۔