اسرائیلی دہشت گردی کے بعد غرب اردن اور القدس میں مزاحمتی کارروائیاں
فاران: کل جمعرات کو مقبوضہ مغربی کنارے کےشمالی شہر جنین میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں نو فلسطینیوں کی شہادت کے بعد غرب اردن اور القدس میں آج جمعہ کے روز بڑے پیمانے پر مزاحمتی کارروائیاں اور جلوس نکالےگئے۔ فلسطینیوں کی طرف سے قابض فوج اور ریاست کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی قابض فوج کے بیت المقدس کے علاقے سلوان میں عین اللوزا محلے پر دھاوا بولنے کے بعد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
قابض فوجیوں نے شہریوں اور ان کے گھروں پر گیس کے گولے برسائے جب کہ نوجوانوں نےقابض فوج کی دراندازی کا جواب پٹرول بموں سے حملوں اور سنگ باری سے دیا۔
جھڑپوں کا دائرہ راس العامود محلے تک پھیل گیا، جہاں قابض فورسز نے شہریوں کے گھروں پر گیس بم برسائے اور اس جگہ پر جھڑپیں شروع ہوئیں۔
باغی نوجوان مولوٹوف کاک ٹیلوں سے نشانہ بننے کے بعد العیزریہ قصبے کے قریب قابض فوج کے ایک فوجی ٹاور کو نذرآتش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
سور باھرقصبے میں قابض فوجوں نے قصبے پر دھاوا بول دیا اور جہاں ان کے ساتھ محاذ آرائی شروع ہو گئی اور دوسری افواج نے القدس کے الطور گاؤں پر دھاوا بول دیا جو کہ تصادم میں بھی تبدیل ہو گیا۔
بیت المقدس میں شعفاط کیمپ میں شدید تصادم جاری رہا اور فوجی چوکی پر فلسطینیوں کی طرف سے پٹرول نم پھینکے گئے۔
ادھر رام اللہ میں قابض فوج کے شہر کے شمال مغرب میں واقع گاؤں نبی صالح پر دھاوا بولنے کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں اور نوجوانوں نے گاؤں میں قابض فوج کی دراندازی کے بعد قابض گاڑیوں پر پتھر سنگ باری کی۔
نابلس میں، “عرین الاسود ” گروپوں نے نابلس کے گرزیم پوائنٹ پر قابض فوجیوں کے اجتماعات کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کے حملے کیے۔













تبصرہ کریں