اسرائیلی زندانوں میں قید فلسطینیوں کی عید کیسے گذرتی ہے؟

قابض دشمن کی عید کی خوشیوں سے محرومی کا دائرہ 200 سے زائد اسیر بچوں تک پھیلا ہوا ہے جو جیل سے باہر معاصر بچوں کی طرح اس ماحول میں نہیں اور جیل ان کی ماؤں کی خوشیوں سے محروم ہے جو اپنے بیٹوں کی رہائی کی منتظر ہیں۔

فاران: قابض دشمن کی جیلوں میں قیدی فلسطینی عیدالاضحی کے موقع پر ایک خاص ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اہل خانہ کے لیے پرانی یادیں ان پر قابض رہتی ہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں قیدی قابض ریاست  کی جیلوں میں بند ہیں اور قابض دشمن اُنہیں ان کی آزادی اور اہل خانہ کے ساتھ خصوصی اور مذہبی مواقع کو زندہ کرنے کے حق سے محروم کر دیتا ہے۔

عید کی رسومات

اگرچہ اسرائیل نے ان قیدیوں کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید کی رسومات کو بحال کرنے سے روکا، لیکن وہ اسے ایک دوسرے کے ساتھ گزارتے ہیں۔ بہت زیادہ آرزؤں اور جذبات کے ساتھ گذارتے ہیں۔

قیدی نماز فجر کے فوراً بعد دعوت کی تیاری کرنے لگتے ہیں۔ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں اور صحن میں نکل جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے کھجور، جوس اور کچھ مٹھائیاں تیار کرتے ہیں، جو عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد تقسیم کی جاتی ہیں۔

عید کی نماز کے بعد قیدی صحن میں ایک دائرے میں بیٹھتے ہیں۔ ایک دوسرے کو دوبارہ مبارکباد دیتے ہیں۔ بلند آواز سے مزاحمت کے گیت گاتے ہیں۔ وہیں اجتماعی کھانا کھاتے ہیں۔

قابض اسرائیلی جیلوں کی انتظامیہ کی جانب سے عید کے دنوں میں قیدیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان سے جان بوجھ کر گرم پانی کاٹ دیا جاتا ہے۔ اس کٹی ہوئی خوشی کو سبوتاژ کرنے کا کام کیا جاتا ہے جو ان کی حقیقی خوشی کو پورا نہیں کر پاتی۔

قابض دشمن کی جیلوں میں یہ رسومات دو گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتیں جس کے بعد ہر قیدی اپنے بستر پر واپس آجاتا ہے اور اپنے خاندان کے بارے میں اپنے خوابوں اور خیالات میں ڈوب جاتا ہے۔ اس کی عدم موجودگی میں وہ عید  کس ماحول میں گزارتا ہے۔

قابض دشمن کی عید کی خوشیوں سے محرومی کا دائرہ 200 سے زائد اسیر بچوں تک پھیلا ہوا ہے جو جیل سے باہر معاصر بچوں کی طرح اس ماحول میں نہیں اور جیل ان کی ماؤں کی خوشیوں سے محروم ہے جو اپنے بیٹوں کی رہائی کی منتظر ہیں۔

قیدیوں کی تعداد

اس سال عیدالاضحی کی بابرکت آمد کے ساتھ ہی تقریباً 4600 قیدی قابض ریاست کی جیلوں میں بند ہیں۔ان میں سے بعض ایسے ہیں جو برسوں سے عیدوں پر اپنے خاندان سے دور ہیں۔

اسرائیل کی تقریبا 23 جیلوں اور حراستی مراکز میں 43 خواتین، 225 بچے، 540 انتظامی قیدی، اور 500 سے زائد مختلف امراض میں مبتلا قیدی ہیں۔

تقریباً 85 قیدی اندر 20 سال سے زائد عرصہ گزار چکے ہیں۔ ان میں سے 34 قیدی 25 سال سے زائد عرصے سے قید  ہیں اور 13 ایسے قیدی بھی ہیں جو 30 سال سے مسلسل پابند سلاسل ہیں۔

م