اسرائیلی سکیورٹی میں 1044 آبادکاروں کا مسجد اقصیٰ پر حملہ

اطلاعات کے مطابق اتوار کی صبح  اسرائیلی پولیس کے سخت سکیورٹی میں 1400 یہودی آبادکاروں نے مراکشی دروازے کی سمت سے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا۔

سینکڑوں یہودی آبادکاروں نے اتوار کی صبح مسجد اقصیٰ پر حملہ کر دیا جس کے بعد اسرائیلی پولیس نے الرحمہ جائے نماز بند کر کے مسجد قبلی میں نماز ادا کرنے والے فرزندان توحید کو محاصرے میں لے لیا۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کی صبح  اسرائیلی پولیس کے سخت سکیورٹی میں 1400 یہودی آبادکاروں نے مراکشی دروازے کی سمت سے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا۔

اسرائیلی پولیس نے القبلی جائے نماز کی تالا بندی کرتے ہوئے اندر موجود نمازیوں اور معتکفین کو حصار میں لے لیا۔ اس دوران باب السلسلہ سے 10 نوجوانوں کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

القدس کے مقامی ذرائع کے مطابق یہودی آبادکاروں نے حرم قدسی پر جتھوں کی شکل میں حملہ کیا، ہر گروپ 40 انتہا پسندوں پر مشتمل تھا۔ انہوں نے اشتعال دلانے کے انداز میں حرم قدسی میں گشت کیا۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہودی آبادکاروں نے پہلی مرتبہ مسجد اقصیٰ کے صحن میں ملحمی سجدے ادا کیے۔

ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ کے صحن اور باب السلسلہ سے 10 فلسطینی نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ ایک عمر رسیدہ شخص کو تشدد کا نشانہ بنا کر اسے مسجد اقصیٰ سے نکال دیا گیا۔

خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ فلسطینی خاتون پر تشدد کے نتیجے میں ان کے جسم پر نیل کے نشان اور فریکچر کی شکایت دیکھی گئی۔