اسرائیلی عدالت نے نہتے فلسطینی کے گھر کی مسماری کا حکم دے دیا

انہدام کے فیصلے میں اسیر کے خاندان کے ایک چار منزلہ عمارت شامل ہے، جس میں وہ رہائش پذیر ہیں۔اسے گرانے سے عمارت کے تمام مکین بے گھر ہو جائیں گے۔

فاران: کل سوموار کو اسرائیلی سپریم کورٹ نے شمالی مغربی کنارے میں جنین کے مغرب میں واقع گاؤں رمانہ میں قیدی صبحی عماد صبیحات کے گھر کو مسمار کرنے کے فیصلے کی توثیق کی ہے۔

قابض حکام نے اسیر صبیحات پر الزام عائد کیاہے کہ اس نے گذشتہ مئی کی 5 تاریخ کو اپنے ساتھی قیدی اسد الرفاعی کے ساتھ تل ابیب کے قریب “ایلاد” آپریشن کیا تھا، جس میں تین آباد کار ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوئے تھے۔

انہدام کے فیصلے میں اسیر کے خاندان کے ایک چار منزلہ عمارت شامل ہے، جس میں وہ رہائش پذیر ہیں۔اسے گرانے سے عمارت کے تمام مکین بے گھر ہو جائیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ صبیحات اور الرفاعی کو “العاد” آپریشن کے بعد پیچھا کرنے کے چند دن بعد گرفتار کیا گیا تھا۔دونوں ابھی تک فیصلے کے اجراء تک زیر حراست ہیں۔

اسرائیلی عدالت نے قبل ازیں رمانہ میں الرفاعی خاندان کے گھر کو مسمار کرنے کی منظوری دی تھی۔

5 مئی کو تل ابیب کے مشرق میں ایلاد میں “الرفاعی” اور “صبیحات” کی طرف سے چاقو اور فائرنگ کے حملے میں 3 آباد کار ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے تھے۔

4 دن کی کارروائی اور تعاقب کے بعد قابض فوج نے حملے کی جگہ سے 500 میٹر کے فاصلے پر دو نوجوانوں 19 سالہ اسد یوسف الرفاعی اور بیس سالہ صبحی عماد صبیحات کی گرفتاری کا اعلان کیا۔