اسرائیلی فوج کا فلسطینی یونیورسٹی پر چھاپہ، طلبا اور اساتذہ پر تشدد

فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے کہا کہ دو طالب علم ربڑ کی کوٹیڈ دھاتی گولیوں سے زخمی ہوئے اور اندھا دھند آنسوگیس کی شیلنگ سے دم گھٹنے کے درجنوں واقعات پیش آئے۔

فاران: منگل کو قابض اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد نے طولکرم میں واقع فلسطینی خضوری ٹیکنیکل یونیورسٹی کے کیمپس پر چھاپہ مارا اور یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ سمیت عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس موقعے پر قابض فوج نے یہودی آباد کاروں پر ربڑ کی گولیاں چلائیں اور ان پر آنسوگیس کی شیلنگ کی۔

فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے کہا کہ دو طالب علم ربڑ کی کوٹیڈ دھاتی گولیوں سے زخمی ہوئے اور اندھا دھند آنسوگیس کی شیلنگ سے دم گھٹنے کے درجنوں واقعات پیش آئے۔

اس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے طلباء کی یونیورسٹی کو خالی کر دیا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ یونیورسٹی کو خالی کرانے کے بعد نوجوانوں اور قابض فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں اور علاقے میں کسی نئے زخمی کی اطلاع نہیں ملی۔

قابل ذکر ہے کہ مغربی کنارے میں پیر کو مختلف علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں، اور قابض افواج کی جانب سے 14 مقامات اور رابطہ علاقوں پر فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔