اسرائیلی فوج کا وحشیانہ تشدد، غرب اردن میں 131 فلسطینی زخمی

فاران: کل جمعہ کو قابض اسرائیلی فوج نے شمالی مغربی کنارے میں الگ الگ مقامات پر یہودی بستیوں کی مذمت میں نکالی جانے والی فلسطینی ریلیوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 131 فلسطینی زخمی ہو گئے۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج نے نابلس کے مشرق میں بیت دجن، شہر کے جنوب […]

فاران: کل جمعہ کو قابض اسرائیلی فوج نے شمالی مغربی کنارے میں الگ الگ مقامات پر یہودی بستیوں کی مذمت میں نکالی جانے والی فلسطینی ریلیوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 131 فلسطینی زخمی ہو گئے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج نے نابلس کے مشرق میں بیت دجن، شہر کے جنوب میں بیتا اور قریوت اور قلقیلیہ کے مشرق میں کفر قدوم میں بستیوں کی مذمت میں مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے دھاتی گولیوں اور آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا۔

ایک بیان میں فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے کہا کہ اس کے عملے نے 131 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی، جن میں سے 9 دھاتی گولیوں سے زخمی ہوئے تھے۔ ایک رضاکار پیرامیڈک بھی اسرائیلی فوج کا آنسوگیس کا شیل لگنے سے زخمی ہوا۔ اسرائیلی فوج کی آنسوگیس کی شیلنگ سے 117 فلسطینی دم گھٹنے سے متاثر ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کو مغربی کنارے کے الگ الگ علاقوں میں قابض اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں اور آباد کاروں کے حملوں میں درجنوں شہری زخمی ہوئے جن میں ایک ایمبولینس اہلکار بھی شامل ہے۔

نابلس کے جنوب میں واقع قصبے بیتا میں جبل صبیح کے قرب و جوار میں جھڑپیں ہوئیں۔ قابض فوج نے جبل صبیح کے قرب و جوار میں نماز جمعہ کے بعد ہفتہ وار مارچ کو کچل دیا۔

قابض فوج نے جبل صبیح کے قرب و جوار میں مارچ کو دبانے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ربڑ کی گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوگئے۔

نابلس کے مشرق میں بیت دجن قصبے کے وسط میں نماز جمعہ کے بعد جلوس نکالا گیا اور قابض فوج نے ہفتہ وار جلوس کو کچل دیا۔ قابض فوج نے زہریلی گیس کے بم اور ربڑ کی دھاتی گولیوں سے فائرنگ کی جس سے متعدد شہری زخمی ہوئے۔ .

طبی ذرائع کے مطابق بیت دجن کے تصادم میں ایک ایمبولینس اہلکار کو براہ راست چہرے پر گیس بم سے نشانہ بنایا گیا، اس کے علاوہ دھاتی گولیوں سے 3 افراد زخمی ہوئے۔