اسرائیلی فوج کی غزہ میں مزاحمتی ٹھکانوں اور زرعی مراکز پر بمباری

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: صبح صیہونی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں نصیرات کیمپ کے مغرب میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے شہیدوں کے مقام کو نشانہ بنانے کے لیے نئے حملے شروع کیے اور کم از کم 3 میزائل داغے۔ اسرائیلی گن بوٹس نے شمالی غزہ کی پٹی کے سمندر میں […]

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: صبح صیہونی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں نصیرات کیمپ کے مغرب میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے شہیدوں کے مقام کو نشانہ بنانے کے لیے نئے حملے شروع کیے اور کم از کم 3 میزائل داغے۔

اسرائیلی گن بوٹس نے شمالی غزہ کی پٹی کے سمندر میں ماہی گیروں کی کشتیوں پر فائرنگ کی جب کہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے جنگی طیاروں کا جواب اینٹی ایئر کرافٹ سے دیا۔

قابض فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ طیاروں نے صبح سویرے غزہ کی پٹی میں راکٹ سے چلنے والے دستی بموں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی زیر زمین پروڈکشن ورکشاپ پر حملہ کیا۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی پر یہ حملہ راکٹ حملے کے جواب میں کیا گیا۔

قابض اسرائیلی فوج نے کل نصف شب کے بعد اعلان کیا کہ اس نے غزہ کی پٹی سے مضافات کی بستیوں کی طرف دو راکٹ داغے جانے کا پتہ لگایا ہے۔

دوسری طرف اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے کہا ہے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری اور امریکی صدر “بائیڈن” کے دورے کے فوراً بعد ہونے والی کشیدگی، اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قابض کو اپنی جارحیت جاری رکھنے اور جرائم کے ارتکاب کے لیے کس حد تک امریکی حمایت اور حوصلہ ملا ہے۔

تحریک کے ترجمان فوزی برہوم نے ایک پریس بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم یائر لپیڈ اسرائیلی معاشرے پر یہ ثابت کرنے کی شدت سے کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اس کھوئی ہوئی ڈیٹرنس کو حاصل کرنے اور اسے بحال کرنے کے قابل ہیں جو کہ مزاحمت کے نتیجے میں ضائع ہو گئی تھی۔

انہوں نے مزاحمت کاروں کو سلام پیش کیا جنہوں نے غزہ کی پٹی پر بمباری کے دوران اسرائیلی جنگی طیاروں کا مقابلہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بہادر مزاحمت فلسطینی عوام کے لیے حفاظتی ڈھال رہے گی۔