اسرائیلی فوج کی چھاپہ مار کارروائی میں مزید دو فلسطینی شہید، تین زخمی

اسرائیلی قابض فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں مزید تین فلسطینی شہری شہید اور کم سے کم تین زخمی ہوگئے۔

فاران: کل جمعرات کی شام مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین کے قصبے قباطیہ میں اسرائیلی فوج کے خصوصی دستوں کے حملے میں دو نوجوان شہید اور 3 زخمی ہوئے اور ایک اور نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی سپیشل فورس نے قباطیہ قصبے میں گھس کر ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ فورس نے نوجوانوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 5 شہری شدید زخمی ہوئے جن میں سے دو بعد میں دم توڑ گئے۔

ذرائع نےبتایا کہ نوجوان کو گرفتار کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پہنچنے والے مزاحمتی کارکنوں کے ساتھ مسلح تصادم شروع ہونے کے بعد قابض فوج گاؤں سے پیچھے ہٹ گئی۔

فلسطینی وزارت صحت نے قباطیہ قصبے میں نوجوان حبیب محمد عبدالرحمن کامل (عمر25 سال) کی سر میں گولیاں لگنے سے شہادت کا اعلان کیا ہے۔موت کا اعلان کیا

اسی آپریشن میں 18 سال کےعبدالھادی نزال کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

گذشتہ 48 گھنٹوں کےدوران اسرائیلی ریاستی دہشت گردی میں فلسطینی شہداء کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ جمعرات کی صبح رام اللہ کے جنوب میں قلندیہ کیمپ پر اسرائیلی فوج کی کارروائی میں اکتالیس سالہ سمیر اصلان اور الخلیل کے جنوب میں سند محمد عثمان سمرا کو شہید کیا گیا۔ سمرا کی عمر 19 سال تھی۔ اس سے قبل رات گئے اسرائیلی فوج کی دہشت گردی میں نابلس میں 21 سالہ احمد عامر ابو جنید کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ اسرائیلی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں 3 نوجوان زخمی ہوئے۔

پچیس سالہ نوجوان حبیب محمد علاونہ کمیل کئی دنوں کے سفر کے بعد کل سہ پہر اپنے آبائی شہر قباطیہ میں اپنے گھر واپس آئے۔ اس کے چند ہی گھنٹے بعد مسلح جھڑپیں شروع ہوئیں تو اسرائیلی اسپیشل فورسز نے قصبے پر دھاوا بول دیا۔

حبیب قباطیہ کے قصبے میں ایک دکان میں کپڑوں کے سیلز مین کے طور پر کام کرتا ہے اور وہ آج ترکی کے سفر سے یہاں پہنچا ہے، جہاں وہ اپنی دکان کے لیے کپڑے اور جوتے درآمد کرنے کے لیے گیا تھا۔

حبیب دوپہر کے وقت اپنے گھر پہنچا۔ مگر دنیا کے سفر کا یہاں اختتام اور ابدی جنتوں کا سفریہاں سے شروع ہوا۔ مشرقی محلے میں عرب امریکن یونیورسٹی روڈ وہ اپنے چچا کے گھر تھا جب اسرائیلی فوجیوں نے اسے گولیاں مار کر شہید کردیا۔

درایں اثنا القسام بریگیڈز کی جنین برانچ نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ “ہمارے مجاہدین قابطیہ قصبے میں قابض فوج کو بھاری اور پے در پے گولیوں سے نشانہ بنا رہے ہیں۔”