اسرائیلی فوج کے قتل کے الزام میں حماس کے چار کارکنوں کو عمر قید

عبرانی سیروگیم نیوز ویب سائٹ منگل کو عوفر جیل کیمپ میں اسرائیلی فوجی عدالت نے 2019 میں جنوبی مقبوضہ مغربی کنارے میں بیت لحم کے قریب ایک فوجی کو قتل کرنے کے جرم میں چار فلسطینی قیدیوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔

فاران: اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے سنہ 2019 میں ایک فوجی کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے 4 کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ چاروں کارکنوں کے خلاف اسرائیل کی ’عوفر‘ فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور انہیں قصور وار ثابت ہونے کے بعد کل منگل کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

عبرانی سیروگیم نیوز ویب سائٹ منگل کو عوفر جیل کیمپ میں اسرائیلی فوجی عدالت نے 2019 میں جنوبی مقبوضہ مغربی کنارے میں بیت لحم کے قریب ایک فوجی کو قتل کرنے کے جرم میں چار فلسطینی قیدیوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔

ویب سائٹ نے بتایا کہ عدالت نے قیدی احمد عصافرہ کو 25 سال کے علاوہ عمر قید اور 1.5 ملین شیکل مالیت کے معاوضے کی سزا سنائی۔ ان پر میگدال عوز یہودی کالونی میں ایک اسرائیلی فوج کے قتل کے الزام میں تین دیگر افراد کے ساتھ مقدمہ چلایا گیا تھا۔

اس کے علاوہ قاسم عصافرہ کو ایک بارعمر قید اور40 سال قید کی سزا، نصیر عصافرہ کو عمر قید اور 20 سال اضافی قید کی سزا جب کہ سیل کے چوتھے رکن کو جو اسرائیلی فوج کے قتل میں ملوث نہیں تھے کوایک بار عمر قید اور پندرہ سال اضافی قید کی سزا سنائی تھی۔