اسرائیل اور سقوط ڈھاکہ کی کہانی

ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان عوام، جماعتیں اور نوجوان یہودی، صیہونی، مغربی، عربی سازشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت میں موجودہ شیطانی طاقتوں کیخلاف قیام کا حصہ بنیں اور عالمی عادلانہ نظام کے قیام میں اپنا حصہ ڈالیں۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں بدلنے والی عالمی طاقتوں کے منحوس مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے عالم اسلام کو داخلی انتشار سے نکل کر اسلامی اصولوں کو اپناتے ہوئے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر ہوس پرست حکمران اشرافیہ عالمی شیطانی طاقتوں کے ایماء پر سقوط ڈھاکہ کی تاریخ کو دہراتی رہیگی۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: جنگ عظیم دوئم کے بعد دنیا سرد جنگ کا شکار ہوئی۔ اس وقت دنیا دو عظیم طاقتوں اور شیطانی نظام کے درمیان پھنسی ہوئی تھی۔ امریکی استعمار اور روس، سپر طاقت ہونے کے ناطے دونوں ممالک کے مفادات دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ دنیا کا ایک حصہ روس کی تجاوز پسندانہ پالیسی اور دوسرا حصہ امریکی سرمایہ کارانہ نظام کی ہوس پرستانہ روش کا نشانہ تھا۔ ترقی پذیر ممالک بظاہر آزاد تھے، لیکن برطانوی استعمار کے بعد امریکہ اور روس نے پوری دنیا کو جنگ و جدل اور خونریزی کی بھیانک دلدل میں ڈال دیا تھا۔ نوزائیدہ ممالک بھارت اور پاکستان دو الگ الگ بلاکوں کا حصہ بن چکے تھے۔ صورتحال ایسی تھی، یا فرض کر لی گئی تھی کہ کسی ایک سپر طاقت کی حمایت اور سرپرستی کے بغیر کوئی ترقی پذیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پاکستان کو تو شروع دن سے ہی اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل تھا۔ نظریہ اپنی جگہ لیکن قیادت کے فقدان کیوجہ سے مملکت ڈانواں ڈول تھی۔ رہی سہی کسر سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کے لگائے مارشل لاء نے نکال دی۔ جمہوری سیاسی عمل ختم ہو کر رہ گیا، اقتدار کی باگ ڈور افسر شاہی نے سنبھال لی۔

برطانوی راج سے چھٹکارے کے بعد جہاں پاکستان کے لیے وجود برقرار رکھنا سب سے پہلی ترجیح اور مشکل تھی، وہاں برہمن ذہنیت اکھنڈ بھارت کے خواب کو تعبیر دینا چاہتی تھی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بنگلہ دیش کے قیام کی ذمہ داری سیاستدانوں کے سر ڈال دی ہے، لیکن بھارت نے عالمی طاقتوں کے ایماء پر ایوب خان کے دور میں اس سازش کی بنیاد رکھی، جو جنرل یحییٰ کے دور اقتدار میں سقوط ڈھاکہ کی صورت میں انجام کو پہنچی۔ روس اور امریکہ دونوں اس سازش میں بھارت کے طرفہ دار، ہمکار اور مددگار تھے۔ جنرل ایوب خان کے زمانے میں امریکہ نے روس پر آنکھ رکھنے کے لیے پاکستان کی سرزمین اور پاکستانی اڈے استعمال کیے تھے۔ لیکن جب سقوط ڈھاکہ اس وقت وقوع پذیر ہوا، جب اقتدار جنرل یحییٰ کو منتقل ہوچکا تھا۔ امریکہ نے 65ء میں بھی پاکستان کو دھوکہ دیا تھا، لیکن دھوکہ کھانے کے باوجود حکمرانی کا مزہ لینے کے لیے فوجی آمر چمٹے رہے، بنگلہ دیش میں سی آئی اے بنگالیوں کو پاکستان سے متنفر کرنے کا کام کرتی رہی، روسی خفیہ ایجنسی کیمونزم کو ہوا دیتی رہی، کامریڈ بھرتی ہوتے رہے، لیکن ہمارے حکمران فقط بنگالیوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھ کر ان کی سنی ان سنی کرتے رہے۔

قیام پاکستان کے ساتھ ہی بنگالیوں کو نظرانداز کیے جانے کی وجہ سے ایک خلاء پیدا ہوا، جس سے روس اور امریکہ نے سوء استفادہ کیا اور بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے مکتی باہنی کو کھڑا کیا۔ حکمران اشرافیہ کی جانب سے اسہزاء، تنفر، حقارت اور حق تلفی کا نشانہ بننے والے بنگالی مسلمانوں کو احساس ہونے لگا کہ قیام پاکستان میں سر دھڑ کی بازی لگانے والے بنگال کو ایک بار پھر غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ آزادی اولین مقصد عزت نفس، وقار اور آبرومندانہ زندگی ہے، جو مفاد پرست اشرافیہ کے ہاتھوں شاید پہلے سے زیادہ مجروح ہونے لگا۔ قومی زبان صرف اردو قرار دینے، فوج سمیت مختلف محکموں میں حصہ نہ ملنے اور سیاسی عمل میں مناسب شمولیت کے فقدان سے یہ برا احساس مزید بڑھتا گیا۔ ادھر تاک لگائے دشمن نے اسے غنیمت جانا اور وقت کا انتظار کرنے لگا۔ دوسرے فوجی آمروں طرح عوامی حمایت کے بغیر فوجی بادشاہت کو برقرار رکھتے ہوئے اقتدار کے مزے لوٹنے کے لیے جنرل ایوب خان نے امریکی سرپرستی کو اپنی ضرورت سمجھا اور روس کیخلاف امریکہ کو جاسوسی میں معاونت فراہم کی۔ جس سے پاکستان روس کے لیے دشمن اور دشمن کا اتحادی قرار پایا۔

بھارتی قیادت پہلے ہی امریکہ کیساتھ معمول کے تعلقات بگاڑے بغیر روس کیساتھ قریبی تعلقات قائم کرچکی تھی۔ امریکہ ایک طرف پاکستان کو روس کیخلاف استعمال کر رہا تھا، دوسری طرف عالم اسلام کے قلب میں اسرائیل کی صورت میں گھونپے جانے والے خنجر کی مکمل سرپرستی اور حمایت کر رہا تھا۔ اسلامی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہونیوالی مملکت پاکستان کو اندرونی چینلنجز کا سامنا تھا، لیکن اسلامی عقیدے کی بنیاد پر اللہ تبارک تعالیٰ کی مدد و نصرت پر بھروسہ کرنیکی بجائے ہمارے حکمران امریکہ کو خدا مان چکے تھے۔ البتہ جس طرح برصغیر کے مسلمانوں نے اللہ تبارک تعالیٰ کی نصرت پر ایمان کیساتھ تحریک پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں کامیاب بنایا تھا، اب بھی پاکستانی عوام کے دل امت مسلمہ کے ساتھ دھڑکتے تھے۔ لیکن ایوبی مارشل لاء نے سب سے زیادہ نشانہ ایسی ہی قوتوں کو بنایا، جو اسلامی نظریے کی بنیاد پر قائدانہ کردار ادا کرسکتے تھے۔ ایوبی حکومت کا یہ طرز عمل صرف امریکی حکومت کو یقین دلانے کے لیے تھا کہ برطانوی استعمار اور امریکہ شیطان دنیا بھر میں عالم اسلام کیخلاف جیسے بھی اقدامات کریں، ایوب خان کی حکومت مزاحم نہیں ہوگی۔

اس کے باوجود امریکہ شیطان کے لیے یہ اطمینان کرنا ممکن نہیں تھا، کیونکہ بیت المقدس کو جب صیہونی شرپسندی نے جلایا تو پاکستان میں امریکی ایمبیسی کا گھیراو کیا گیا۔ جس طلبہ تنظیم نے امریکی ایمبیسی جا کر احتجاج کیا، اسی مذہبی سایسی جماعت کی قیادت کو ایوب خان کے دور میں سزائے موت سنائی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے لیے جاسوسی کیوجہ سے روس کی پاکستان کیخلاف مخاصمت اور رقابت نہ صرف موجود رہی بلکہ آنے والے دور میں پاکستان کے دو لخت ہونے میں روس نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ امریکی حکومت یہ سمجھتی تھی کہ پاکستان کے عوام اسلامی اقدار اور دین پر ایمان رکھتے ہیں۔ قرارداد مقاصد کو آئین کا حصہ بنایا گیا ہے، اس لیے پاکستان بطور ریاست اگر پھیلتا پھولتا اور مستحکم ہوتا ہے تو دنیا میں اسلامی مفادات کو نقصان پہنچانے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ اس وقت اسرائیل نواز عالمی طاقتوں کو معلوم تھا کہ نوازائیدہ صیہونی شیطانی ریاست کو شروع میں اگر پاکستان سے کوئی خطرہ نہیں، لیکن مستقبل میں اگر یہ مملکت استحکام حاصل کر لے تو عالم اسلام کے لیے موثر کردار ادا کرسکتی ہے۔

اسی لیے متحدہ پاکستان کو دو ٹکڑے کرنیکی ہندوستانی سازش کو تکمیل تک پہنچانے میں امریکہ اور روس دونوں نے مکمل اور بھرپور کردار ادا کیا۔ دراصل عالمی طاقتوں کا یہ کردار یورپ سے لیکر ویتنام تک پھیلی ہوئی روس امریکہ جنگوں کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا، لیکن متحدہ پاکستان کے لیے ایک کاری ضرب تھی، کیونکہ اسے عملی جامہ پہنانے والی بھارتی متعصب قیادت اور خفیہ ایجنسی را تھی۔ اندرونی طور پر سیاسی اور معاشی عدم توازن پیدا کرنیوالے فوجی اور نیم فوجی حکمرانوں نے اپنا الو سیدھا رکھنے کے لیے امریکہ کا سہارا لیا اور اس اقتدار کی ہوس میں اتنے آگے نکل گئے کہ مشرقی پاکستان کو اپنے اقتدار کو طول دینے میں ایک رکاوٹ اور بوجھ سمجھنے لگے۔ امریکہ، روس اور بھارت پاکستان کو دولخت کرنے میں اس لیے کامیاب ہوئے کہ پاکستان پر مسلط آمروں کا وژن اقتدار پرستی کیوجہ سے اتنا چھوٹا تھا کہ ان کے نزدیک متحدہ پاکستان مسلمانوں، عالم اسلام اور پاکستانیوں کی ضرورت ہی نہیں تھا۔ اب موجودہ نسل کی ذمہ داری ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے اس ایمان کیساتھ پاکستان کو مضبوط کریں کہ عالم اسلام کے اوج، ترقی اور اسرائیل جیسے ناسور کو ختم کرنے کے لیے اپنا وظیفہ انجام دیں سکیں۔

ہمیں سمجھنا چاہیئے کہ صیہونی شیطانی ریاست کو وجود میں لانے کے لیے پوری دنیا میں جنگیں چھیڑی گئیں۔ خلافت عثمانیہ کے ٹکڑے کیے گئے، سعودی ریاست وجود میں لائی گئی، پھر صیہونی شیطانی ریاست اسرائیل کے تحفظ کے لیے متحدہ پاکستان کو دو لخت کیا گیا۔ آج عربوں کی خیانت اور پاکستان سمیت مسلمان ممالک پر حکمرانی کرنیوالے کوتاہ ذہن ٹولوں کیوجہ سے اسرائیل بے خوف ہو کر فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان عوام، جماعتیں اور نوجوان یہودی، صیہونی، مغربی، عربی سازشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت میں موجودہ شیطانی طاقتوں کیخلاف قیام کا حصہ بنیں اور عالمی عادلانہ نظام کے قیام میں اپنا حصہ ڈالیں۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں بدلنے والی عالمی طاقتوں کے منحوس مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے عالم اسلام کو داخلی انتشار سے نکل کر اسلامی اصولوں کو اپناتے ہوئے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر ہوس پرست حکمران اشرافیہ عالمی شیطانی طاقتوں کے ایماء پر سقوط ڈھاکہ کی تاریخ کو دہراتی رہیگی۔