اسرائیل اپنے بدترین دور سے گزر رہا ہے

لندن میں واقع عربی زبان کے آن لائن اخبار رای الیوم نے فلسطینی صحافی نادر صفدی کی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں اسرائیل کے اندرونی حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

فاران: صحافی اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ اسرائیل میں اس وقت جو گھبراہٹ اور سنسنی کا ماحول ہے حالیہ برسوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔

اسرائیل نے اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی طور پر صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے ذریعے فلسطینیوں کے اندر غم و غصے کی آتشفشاں کو طویل مدت سے ہوا دی ہے۔

اسرائیل نے فلسطینی نوجوانوں کو قتل کیا، ان کے گھر گرائے، انہیں بے گھر کیا، ان کے حقوق سلب کئے جس کے نتیجے میں فلسطینی غصے کے آتشفشاں کا جو لاوا اب نکلنے لگا ہے اس کی وجہ سے اب حالات یہ ہیں کہ اسرائیلی ایجنسیوں اور اداروں کو کچھ نہیں پتہ کہ کب کہاں سے حملہ ہو جائے؟

یہ حالات صرف ان علاقوں میں نہیں ہیں جو غزہ پٹی کے قریب ہیں بلکہ پورے اسرائیل میں یہی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ حالیہ دنوں میں فلسطینی نوجوانوں کے حملوں میں 11 اسرائیلی ہلاک ہوئے اور درجنوں زخمی ہوئے جبکہ اسرائیلی انٹلیجنس اور سیکورٹی ایجنسیوں میں بہت زیادہ گھبراہٹ اور ناامیدی نظر آ رہی ہے۔

اس حالت میں اسرائیلی ایجنسیاں فلسطینی نوجوانوں کو قتل کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔ گزشتہ سنیچر کی صبح اسرائیلی فوجیوں نے جنین شہر کے نزدیک تین فلسطینی نوجوانوں کو گولیوں سے بھون دیا اور انہیں تب تک تڑپنے دیا جب تک ان کی موت نہیں ہو گئی۔

اسی علاقے میں صبح ہونے والی جھڑپوں میں کئی اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے۔ ایک فوجی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

تحریک جہاد اسلامی نے جنین میں فلسطینی نوجوانوں پر اسرائیلی فوجیوں کے حملے کو پوری فلسطینی قوم پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ اس جرم کا انتقام ضرور لیا جائے گا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کا خون ضائع نہیں ہوگا۔