اسرائیل سالہا سال سے غزہ کا جاری محاصرہ ختم کرے: اقوام متحدہ

سالہا سال کی مسلسل ناکہ بندی نے غزہ کی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ہے، بد ترین بے روزگاری جنم لے چکی ہے، فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ اور عام طور پر لوگوں کو امداد پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

فاران: اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے اسرائیلی فوج کی طرف سے سالہا سال  سے غزہ کی ناکہ بندی کی مذمت کرتے ہوئے اسے فوری کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔  ذیلی ادارے او سی ایچ اے انسان دشمنی پر مبنی، انسانی حقوق کے خلاف اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ناکہ بندی ہے۔

سالہا سال کی مسلسل ناکہ بندی نے غزہ کی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ہے، بد ترین بے روزگاری جنم لے چکی ہے، فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ اور عام طور پر لوگوں کو امداد پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

یو این کے ذیلی ادارے کے بقول اسرائیل کی طرف سے  اس ناکہ بندی  کا مقصد عملا یہاں کے لوگوں کو  اجتماعی سزا  دینا ہو چکا ہے ۔ یہ بین الاقوامی قوانین  اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ کی قرار داد نمبر 1860 کے تحت  اس ناکہ بندی کا فوری خاتمہ کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کا  اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ زمینی ، سمندری اور فضائی ناکہ بندی نے نمایاں طور پر پہلے سے جاری پابندیوں سے پیدا شدہ شہری مشکلات میں مزید  اضافہ کر دیا ہے۔  فلسطینی شہریوں کو اپنی روز مرہ کی ضروریات سے لے کر روزگار اور خاص ضروریات کے لیے اسرائیلی کنٹرول میں راہداریوں سے آمدو رفت کرنا ہوتی ہے۔

سنہ 2000 کے دوسرے انتفاضہ سے پہلے پانچ لاکھ فلسطینیوں کا غزہ سے اسرائیل کی جانب  انخلا ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر یہ مزدوروں کی تعداد تھی جو صرف ایک ماہ کے دوران باہر نکلی تھی۔  ناکہ بندی کے پہلے سات برسوں کے دوران میں یہ تعداد ماہانہ 4000 افراد تک کم ہو گئی۔

اگلے آٹھ برسوں میں یہ تعداد 10400 ہو گئی۔  اب 2022 تک یہ تعداد اسرائیلی اتھارٹی نے صرف مریضوں کی بھی 64 فیصد تعداد کو غزہ سے باہر مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم تک علاج کے لیے جانے دیا ہے۔ جبکہ پچھلے سال اسی اجازت کے ملنے میں غیر معمولی  تاخیر کی وجہ سے  کئی مریضوں کا انتقال ہو گیا تھا۔

اسی طرح مصری حکام نے بھی رفح کی راہداری  2014 کے بعد بند کیے رکھی کہ مصر میں سیاسی بے چینی پیدا ہو گئی تھی۔ رفح کی راہداری جو کہ مصر اور غزہ کے درمیان 2018 سے نسبتا دیر تک کھلی رہی مگر یہ تعداد 151 دنوں میں سے 95 دن بند کر دی گئی۔

رفح دوہزار اٹھارہ سے زیادہ تر وقت کے لئے کھلی رہی ہے۔  لیکن دوہزار بائیس کے پہلے پانچ مہینوں میں ایک سو اکاون دنوں میں سے پچانوے دن کھلی ۔

غزہ کے لئے سامان لانے ٹرکوں کی تعداد بھی نیچے چلی گئی۔ حتی کہ  2009 میں ایک ماہ کے دوران صرف دو ٹرک سامان لا رہے تھے۔ دو ہزار بائیس کے پہلے پانچ ماہ میں ٹرکوں کی  غزہ آمد تقریبا  آٹھ ہزار ماہانہ تھی یہ دو ہزار سات کی تعڈاد کے مقابلے میں تیس فیصد کم رہے۔ ناکہ بندی کے دوران غزہ کی آبادی پچاس فیصد سےزیادہ بڑھ گئی ہے۔۔

اسرائیلی فوج  نے غزہ کی پر لگائی گئی باڑ کے تین سو میٹراندر تک نقل و حرکت پر پابندی لگا رکھی ہے۔ کئی سو میٹر تک کا علاقہ محفوظ نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیلی فوج اس علاقے میں کاشتکاری کی بھی حوصلہ شکنی کرتی ہے اور روکتی ہے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کے ساحل تک بھی رسائی روک رکھی ہے۔ صرف ماہی گیروں کو اجازت دی جاتی ہے ۔ انہیں بھی اوسلو معاہدے کے تحت ماہی گیری کے لیے مختص پانی کے پچاس فیصد تک رسائی دی جاتی ہے۔ تیجتا غزہ میں بے روز گاری کی سطح  دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

آج 2022 میں بے روزگاری ی شرح 46 فیصد ہے جبکہ 2006 میں بے روزگاری 8۔34 فیصد تھی۔   نتیجہ غربت میں اضافے کی شکل میں ہے۔ غزہ کے 31 فیصد گھرانوں کو بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنا مشکل ہے۔

مالی مشکلات کی وجہ سے 21 لاکھ کی آبادی میں سے 13 لاکھ کی آبادی کو خوراک پوری کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔  غزہ کا اپنا پاور پلانٹ مقامی ضروریات پوری نہ ہونے کا یہ عالم ہے کہ لوڈ شیڈنگ دن میں گیارہ گھنٹے تک ہوتی ہے۔ ان مشکلات کے باوجود 21 لاکھ کی اس آبادی کو مسلسل محاصرے میں رکھا گیا ہے۔