اسرائیل میں ایک سال میں ہونیوالے آتشزدگی کے واقعات کی تفصیلات

بعض مقامی ذرائع اور سوشل میڈیا کی طرف سے شائع ہونے والی خبروں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حیفا پیٹرو کیمیکل میں دھماکے کے علاوہ ''ریشتون لتزیون'' شہر میں پٹرول پمپس پر بھی کوئی مشکوک فنی خرابی پیدا ہوگئی تھی۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: صیہونیوں کے زیر تسلط مقبوضہ فلسطین کہ جسے اسرائیل کہا جاتا ہے، میں سال گذشتہ شدید بد امنی کی لہر دیکھنے میں آئی ہے۔ عدم تحفظ کی اس آگ نے ”تل ابیب” اور غاصب صیہونی بستیوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اسرائیل میں گزرے ایک سال میں مختلف جگہوں پر آتشزدگی کے واقعات ہوئے اور صنعتی، تجارتی و اسلحہ کے انبار پر خوفناک دھماکے کی خبریں بھی سننے کو ملیں، حالانکہ صیہونی حکومت کی کوشش رہی ہے کہ ایسے واقعات کی خبریں اور تفصیلات میڈیا پر نہ ہی آئیں، لیکن سوشل میڈیا پر ان واقعات کی تصویریں اسرائیلی حکومت کے پریشر کے باوجود وائرل ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں صیہونی حکومت کے اہلکار مجبور ہو جاتے ہیں کہ ان واقعات کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کریں۔ مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے یہ واقعات صیہونی حکومت کے حامیوں کے لیے ایک اہم پیغام ہیں کہ فلسطینی سرزمین پر کبھی بھی صیہونیوں کو اطمینان اور امن نصیب نہیں ہوسکتا۔

اسرائیل میں آگ لگنے کی سب سے اہم خبر اپریل 2021ء میں سامنے آئی؛ جہاں اسرائیل میں راکٹ سازی سے وابستہ ایک صنعتی کمپلیکس میں بڑا دھماکہ ہوا۔ یہ کمپلیکس ”راملہ” شہر کے باہر اور مقبوضہ علاقوں کے مرکز کے قریب واقع ہے۔ یہ کمپلیکس ”ٹومر” نامی ایک سرکاری کمپنی کی ملکیت ہے، جو مختلف قسم کے میزائلوں کے لیے سسٹم اور انجن تیار کرتی ہے۔ اس کمپلیکس میں ہونے والے دھماکے کے بعد جائے حادثہ سے کئی کلومیٹر کے فاصلے سے دھویں اور بڑھتی ہوئی آگ کا منظر دیکھا گیا۔ اس واقعے کی تصویریں بعد میں منتشر ہوگئیں۔ اس حادثے کے بعد صیہونی حکومت اور مذکورہ کمپنی نے اس طرح کے کسی بھی واقعے سے صریحاََ انکار کر دیا۔ اسی کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر گمراہ کن ہیں اور یہ واقعہ ایک تجرباتی دھماکہ تھا، جس کے کوئی غیر متوقع نتائج نہیں تھے۔

کمپنی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اس تجربے کے بارے میں صیہونی حکومت کی وزارت جنگ کو پہلے سے مطلع نہیں کیا گیا تھا۔ ”ٹومر” کی بنیاد 2015ء میں میزائل پروپلشن سسٹم بنانے کے لیے رکھی گئی تھی اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق، یہ کمپنی تل ابیب کے کچھ بڑے میزائلوں میں استعمال ہونے والے انجن تیار کرتی ہے۔ یہ کمپنی اس کے علاوہ ایئر ڈیفنس کے لئے استعمال ہونے والے میزائل، سیٹلائٹ تک بھیجے جانے والے میزائل تیار کرتی ہے۔ ٹومر کمپنی میں آگ لگنے کے فوراً بعد نیوز ذرائع نے اطلاع دی کہ صیہونی حکومت کی ایٹمی تنصیبات کے قریب دھماکہ خیز آواز سنی گئی۔ صیہونی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایک میزائل مقبوضہ علاقوں کے مرکز میں واقع ”ڈیمونا” جوہری تنصیب پر فائر کیا گیا ہے۔ مقامی افراد نے بھی دھماکے کی آواز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے ان کے گھر لرز اٹھے۔

مذکورہ بالا واقعہ کے حوالے سے صیہونی میڈیا نے خبر دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی ڈیفنس سسٹم نے ایٹمی تنصیب کی طرف داغا جانے والا میزائل تباہ کر دیا ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ہر کوئی اسرائیل کے ڈیفنس سسٹم آئرن ڈوم کی ناقص کارکردگی پر بات کر رہا تھا۔ ”ڈیمونا” پر ایک کامیاب اور موثر میزائل حملے نے اسرائیل کے وسطی علاقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ حملے کا خطرہ اس وقت بڑھ گیا، جب چند گھنٹے بعد اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے سکیورٹی کے واقعے پر اپنے پہلے ردعمل میں اعلان کیا کہ جو کچھ ہوا، اس کا تعلق غزہ کی پٹی سے نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ کسی بیرونی سازش کا شاخسانہ ہے۔ ڈیمونا دھماکے میں تل ابیب اور اس کے حامیوں نے محسوس کیا کہ قابض حکومت پر کبھی بھی حملہ کیا جا سکتا ہے اور صیہونی ریاست کو نقصان پہنچانے کے امکانات مزید بڑھ چکے ہیں۔

دیمونا جوہری تنصیب کے بعد، مقبوضہ فلسطین میں آگ نے ایک بڑی عمارت کو لپیٹ میں لے لیا، جس سے ایک بڑا دھماکہ ہوا۔ اس حادثے پر صیہونی میڈیا کی خاموشی کے سبب مذکورہ واقعہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا۔ اسرائیلی میڈیا نے مقبوضہ علاقوں کے شمال میں واقع ”عکا” شہر کی عمارت میں لگنے والی آگ کی کوریج کرتے ہوئے صرف یہ اطلاع دی کہ آگ عکا شہر کی ”شالوم جلیل” اسٹریٹ پر باغ کے اندر ایک تعمیراتی منصوبے میں لگی۔ لیکن آگ اتنی شدید تھی کہ امدادی کارکنوں اور فائر فائٹرز نے آس پاس کے رہائشیوں سے کہا کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اس واقعے کے بعد فائر بریگیڈ کے سربراہ نے کہا کہ آگ کے بڑھنے کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر اطراف کی عمارتوں کو خالی کروایا گیا ہے۔ صیہونی اخبار نے اس حوالے سے رپورٹ دی کہ دھویں کے گہرے بادل چھانے کے بعد دور دراز کے علاقوں کے افراد بھی خوف کی وجہ سے اپنے گھروں سے باہر نکل گئے۔

پبلش ہونے والی تصاویر کے مطابق اس آگ کے نتیجے میں دھویں کے بادل آسمان پر اس قدر گہرے ہوگئے کہ دور دور تک دکھائی دینے لگے۔ اسرائیلی میڈیا اور حکام نے آتشزدگی کے اس واقعے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اور مالی و جانی نقصان کے صحیح اعداد و شمار بھی فراہم نہیں کیے، البتہ واقعے کی شدت کو دیکھتے ہوئے بعض ماہرین کا خیال تھا کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ مقبوضہ فلسطین کے شمال میں صحرائے ”النقب” کے شہر ”رھط” میں بھی ایک جگہ آگ بھڑک اٹھی۔ صیہونی حکومت تمام تر حفاظتی اقدامات اور میڈیا کی پابندیوں کے باوجود اس واقعے کو چھپانے میں ناکام رہی۔ اس حادثے کے کچھ لمحات کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لئے اور انہیں وائرل کر دیا۔ قابض صہیونیوں کے علاقے درہ اردن کے ایک صنعتی ایریا میں بھی ایک جگہ آگ بھڑک اٹھی۔ میڈیا رپورٹس اور صیہونی فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، گذشتہ سال درہ اردن میں “شلومتزیون” میں ایک صنعتی علاقے میں وسیع پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔

صیہونی حکومت کی طرف سے آگ لگنے والی عمارت کو خطرناک کیمیکل رکھنے والی فیکٹری قرار دیا گیا تھا۔ صیہونی اخبار کے مطابق، 30 سے ​​زائد فائر فائٹرز نے آگ بجھانے والے اس آپریشن میں حصہ لیا۔ صہیونی فوجیوں نے واقعے کے بعد تمام مراکز بند کرا دیئے، اس کے علاوہ ”یافیت”، ”ماسواہ” اور دیگر قریبی شہروں کے مکینوں سے گھروں میں رہنے کی تاکید کی۔ ”حیفا” بندرگاہ، پیٹرو کیمیکل کا اہم مرکز ہے۔ یہ مرکز بھی آتشزدگی کے واقعہ سے محفوظ نہ رہ سکا۔ بعض اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے مقبوضہ شہر حیفا کے گیس ٹینکرز میں آگ لگنے کی تصاویر شائع کیں، جس سے واقعے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ صیہونی حکومت کے سرکاری ذرائع نے اس واقعہ سے متعلق خبروں کو روکنے کی بھرپور کوششیں کیں، لیکن بعض مقامی ذرائع اور سوشل میڈیا کی طرف سے شائع ہونے والی خبروں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حیفا پیٹرو کیمیکل میں دھماکے کے علاوہ ”ریشتون لتزیون” شہر میں پٹرول پمپس پر بھی کوئی مشکوک فنی خرابی پیدا ہوگئی تھی۔

حیفا پیٹرو کیمیکل بندرگاہ پر آگ لگنے سے ایک روز قبل (24 مئی 2022)، بندرگاہ کے شپ یارڈ میں ایک حادثہ پیش آیا کہ کس کی وجہ سے صیہونی حکومت کی امدادی گاڑیاں اور کارکن اس علاقے میں مامور کر دیئے گئے۔ ان متواتر واقعات اور ان کی وجوہات کے بارے میں سوالات کے باوجود، تل ابیب نے حیفہ بندرگاہ کے واقعات کے بارے میں درست خبریں جاری کرنے سے روک دیا۔ ان دونوں واقعات سے قبل مقبوضہ علاقوں میں فوڈ انڈسٹری کے ایک مرکز میں بھی آتشزدگی کی اطلاعات تھیں۔ ”اسرائیل رپورٹ” ویب نیوز نے صیہونی حکومت کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کا بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ حیفا بندرگاہ پر فائر بریگیڈ کے عملے کی مستعدی کی وجہ سے آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ تقریباً دس روز قبل فلسطینی میڈیا نے خبر دی تھی کہ مقبوضہ بیت المقدس کے پرانے حصے میں واقع گاؤں ”العیساویہ” میں صہیونی فوجی اڈے میں آگ لگ گئی ہے۔ ضمنی خبروں کے مطابق العیساویہ میں صہیونی فوج کی فلسطینی نوجوانوں سے جھڑپ کے بعد فوجی اڈے میں آگ لگ گئی ہے جو کہ پھیلتی ہی جا رہی ہے۔

آگ بھڑکنے کے واقعے سے پہلے فلسطینی میڈیا نے خبر دی تھی کہ صیہونی افواج نے فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں فلسطینی نوجوانوں کی مزاحمت کا سامنا کرنے والے صہیونیوں کی ان سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔ دو روز قبل (بدھ) مقبوضہ علاقوں میں لگنے والی تازہ ترین آگ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے شمال مغرب میں واقع شہر حیفا کے گرد ایک بڑی آگ بھڑک اٹھی۔ عرب 48 نیوز ویب سائٹ کے مطابق حیفا شہر کے نواحی علاقے عرعرہ میں لکڑی کے کارخانے میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث کچھ مکانات خالی کرالیے گئے اور علاقے کی سڑکیں بند ہوگئیں۔ لکڑی کے کارخانے میں آگ اس وقت لگی، جب بعض نیوز ذرائع نے گذشتہ رات (منگل) کو اسرائیلی فوج سے تعلق رکھنے والے ایک ریستوران میں آگ لگنے کی اطلاع دی تھی۔