اسرائیل میں متنازع بل کی منظوری کے بعد حالات خراب، دھرنا اور بھوک ہڑتال

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے شدید مظاہروں اور مخالفت کے باوجود سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کا متنازع عدالتی اصلاحات کا ترمیمی بل منظور کر لیا۔

فاران: عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غاصب صیہونی پارلیمنٹ نے متنازع عدالتی اصلاحات ترمیمی بل منظور کر لیا، ترمیمی بل کی منظوری سے سپریم کورٹ کے چند اختیارات کو محدود کر دیا گیا ہے۔

بل پر ووٹنگ کے دوران ہزاروں اسرائیلی شہریوں نے پارلیمنٹ کی عمارت کا گھیراؤ بھی کیا جبکہ اسرائیلی پولیس نے وزیر خزانہ کے گھر کا گھیراؤ کرنے کے الزام میں 3 افراد کو گرفتار کر لیا۔

جبکہ اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے متنازع بل کی منظوری کے خلاف ملک گیر احتجاج اور بھوک ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، صیہونی ڈاکٹروں نے بھی 24 گھنٹے کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ جمہوریت کو بچانے کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کے لگ بھگ ایک ہزار 142 ریزرو اہلکاروں نے عدالتی اصلاحات بل منظور ہونے کی صورت میں رضاکارانہ خدمات سے سبکدوش ہونے کی دھمکی دی ہے۔

ترمیمی بل کے حق میں جعلی حکومتی اتحاد کے 64 اراکین نے ووٹ دیا جبکہ اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا۔

خیال رہے کہ عدالتی اصلاحات سے متعلق ترمیم بل پر حکومت کو شدید عوامی مزاحمت کا سامنا ہے اور مختلف شہروں میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔

صیہونی وزیر اعظم نتن یاہو کی دائیں بازوں کی سخت گیر حکومت نے رواں برس جنوری میں سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے بل لانے کا اعلان کیا تھا۔