اسرائیل کا وجود زلزلیاتی لکیر پر، شکست و ریخت کے آثار ہمیشہ سے زیادہ نمایاں

صہیونی ریاست کے اعلی اہلکاروں کے درمیان تنازعات نے زور پکڑ لیا ہے اور تل ابیب کی نئی کابینہ کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ سرزمین بحران سے بھی زیادہ سنجیدہ مراحل میں داخل ہوئی ہے، اور خانہ جنگی کے سلسلے میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: صہیونی ریاست کے اعلی اہلکاروں کے درمیان تنازعات نے زور پکڑ لیا ہے اور تل ابیب کی نئی کابینہ کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ سرزمین بحران سے بھی زیادہ سنجیدہ مراحل میں داخل ہوئی ہے، اور خانہ جنگی کے سلسلے میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔
عربی 21 نامی اخباری-تجزیاتی ویب گاہ نے خبر دی ہے کہ غاصب ریاست کے حکمرانوں کے درمیان سیاسی تنازعات نے زور پکڑ لیا ہے اور تل ابیب کے تکراری (Repeated) وزیر اعظم نیتن یاہو اور اس کی کابینہ کے خلاف مظاہروں میں شدت آئی ہے اور یوں مقبوضہ سرزمین گویا خانہ جنگی کے مرحلے میں داخل ہوئی ہے، اور ماضی میں اس کی موجودہ صورت حال کی مثال نہیں ملتی۔
رپورٹ کی تفصیل:
سیزر نیتن یاہو (Caesar Netanyahu)
تل ابیب میں بنیامین نیتن یاہو کی دائیں بازو کی کابینہ اور اس کے مخالفین کے درمیان دھمکیوں کے بے مثل تبادلے کے دوران تمام تر نظریں اس مظاہرے پر لگی ہوئی ہیں جس کی کال نیتن یاہو کے مخالفین نے سینچر (14 جنوری 2023ع‍) کی شب کے لئے دی ہے۔ کل رات کو ان مظاہروں کے دوران اور ان کے بعد پہلی بار “خانہ جنگی”، “عوامی زلزلہ”، “نیتن یاہو نے ریاست کو نذر آتش کیا” جیسے نعرے یہودی نوآبادیوں کے باشندوں اور بقیہ غاصبوں کے درمیان بہ وفور سنائے گئے۔
تل ابیب کی سیاسی چوٹیوں اور اپوزیشن سے بھی اسی طرح کے بیانات جاری ہوئے۔ صہیونی صدر اسحاق ہرزوگ نے یہ کہہ کر خطرے کی گھنٹی بجا دی کہ “رائے عامہ کے درمیان ایک حساس اور دھماکہ خیز دور کا آغاز ہو چکا ہے”۔ دو ہفتے قبل جب کنیسٹ (یہودی پارلیمان) نے تل ابیب کی مبینہ دائیں بازو کی کابینہ کو اعتماد کا ووٹ دیا، اپوزیشن جماعتوں نے اعلان کیا کہ اس کابینہ کی پالیسیوں کے نفاذ کے سامنے خاموش تماشائی بن کر نہیں رہیں گی۔
اس سے پہلے صہیونی ریاست میں فلسطین کے سلسلے میں صہیونی سرکاری موقف پر اختلاف ابھرتا تھا مگر آج یہ تنازعہ اس چیز پر شروع ہؤا ہے جسے اپوزیشن جماعتیں “جمہوریت کا جوہر” کہتی ہیں۔ اعتدال پسند اور بائیں بازو کی جماعتوں کو خدشہ ہے کہ مذہبی اور قوم پرست جماعتیں کہیں مقبوضہ سرزمینوں کے اقتدار کی باگ ڈور نہ سنبھالیں۔ اپوزیشن موجودہ کابینہ کے اقدامات کو بغاوت کا نام دیتی ہے اور “خانہ جنگی” کے سلسلے میں خبردار کرتی ہے اور اسرائیلیوں کو احتجاج کے لئے سڑکوں پر آنے کی دعوت دے رہی ہے۔
یہ اختلافات اس وقت شروع ہوئے جب کنیسٹ نے “یہودی اقتدار” نامی انتہائی دائیں بازو کی تشدد پسند جماعت کے سرغنے “ایتمار بن گویر” کو اندرونی سلامتی کا وزیر بنا کر وسیع اختیارات عطا کئے۔ وہ اختلافات جو مقبوضہ فلسطین میں یہودی قوانین کے نفاذ کے بارے میں دائیں بازو کی جماعتوں کے بیانات کی وجہ سے جاری رہے، اور یاریو لیوین (Yariv Levin) کے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کے اعلان پر منتج ہوئے۔ یاریو لیوین نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکود کے رہنماؤں میں شامل ہے۔
تناز‏عات کی رفتار میں اس وقت اضافہ ہؤا جب بن گویر کی انتہائی جماعت کے ایک رکن پارلیمان زویکا فوگل (Zvika Fogel) نے سابق وزیر اعظم یائیر لاپید اور سابق وزیر جنگ بینی گانٹز پر “غداری” کا الزام لگایا اور ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران بن گویر نے بھی دھمکی دی کہ وہ حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف پانی چھڑکنے والی گاڑیاں استعمال کرے گا اور احتجاج کے دوران سڑکیں بلاک کرنے والے افراد کو گرفتار گرفتار کرے گا۔ گذشتہ منگل کے دوران دائیں بازو کے ایک کارکن نے جنوبی علاقے “بئر السبع” میں مظاہرین کو اپنی کار سے کچلنے کی کوشش کی۔ وہ گرفتاری سے پہلے بائیں بازو کے کارکنوں کے خلاف نعرے بازی کر رہا تھا!
خونریزی
گذشتہ بدھ کو ہا آرتص نامی عبرانی اخبار نے اپنے اداریئے میں لکھا: “وہ وقت آن پہنچا ہے کہ حکومت مظاہرین کو خونریزی کے خطرے میں ڈال دے۔۔۔ معلوم نہیں ہے کہ مظاہرین کس سے زیادہ ڈرتے ہیں: بے احتیاط تماشائی، جو جانتے ہیں کہ بن گویر کی سرکردگی میں بائیں بازو کے کارکنوں پر حملے کے لئے ہری بتی دکھا دی گئی ہے یا وہ پولیس جو – حکومت مخالف مظاہرین کو سخت جواب دینے کے لئے – اپنے کمانڈر وزیر (بن گویر) سے ہدایات وصول کرتی ہے”۔
اس اخبار نے اپنی رپورٹ کو جاری رکھتے ہوئے لکھا تھا: “جب ایک حکومت اپنے مخالفین اور اقلیتی جماعتوں کو دھمکی دیتی ہے اور پولیس بیان کی آزادی کو محدود کرکے احتجاج کو کچلنے کے لئے شدید اقدامات بروئے کار لاتی ہے، تو گویا وہ انہیں خونریزی کے خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔۔۔ لوگ بھی اس مسئلے کے سمجھتے ہیں”۔
خانہ جنگی
گانتز نے گذشتہ ہفتے اتوار کے دن ٹویٹر پرایک پیغام میں خبردار کیا تھا کہ “حکومت عدالتی نظام کی اصلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی تو وہ گویا “خانہ جنگی” کے آغاز کے لئے دباؤ بڑھا رہی ہے، اور ہم اسرائیلیوں سے کہیں گے کہ وہ سڑکوں پر آکر احتجاج کریں اور بھونچال بن کر حکومت پر لرزہ طاری کریں”۔
بن گویر نے بینی کانٹز کے جواب میں ایک ٹویٹر پوسٹ میں لکھا: “خانہ جنگی کی دھمکی مت دو! تم اپنا اقتدار کھو چکے ہو، اس حقیقت کو تسلیم کرو۔ خانہ جنگی نہیں ہوگی؛ تم احتجاج یا تنقید کر سکتے ہو، لیکن لوگوں کو نہیں اکسا سکتے ہو ۔۔۔ یہ بہت خطرناک ڈھلوان ہے”۔
بن گویر نے احتجاجیوں کی سرکوبی کے لئے طاقت کے استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا: “برسوں سے احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے دائیں بازو کی جماعتوں، مذہبی دھڑوں اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان امتیازی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں۔ جب دائیں بازو کے حامی یا مذہبی لوگ سڑکوں کو بند کر دیتے ہیں تو وہ “صفر فیصد تحمل” کا سامنا کرتے ہیں: بغاوت کا پھیلاؤ، قانون نافذ کرنے والی فورسز کی نفری میں اضافہ اور اجتماعی گرفتاریاں؛ لیکن جب بائیں بازو کی جماعتیں سڑکوں کو بند کرتی ہیں، ہم اس طرح کا برتاؤ نہیں دیکھتے۔ A اور B قسم کے مظاہرے، بیان کی آزادی سب کے لئے، بغاوت کی روک تھام سب کے لئے”۔ اپوزیشن جماعتوں نے بن گویر کے موقف کو اپنے حامی کارکنوں کو دھمکی دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔
تل ابیب کے سابق وزیر اعظم یائیر لاپید نے ٹویٹر پر لکھا: “بن گویر کہتا ہے وہ ہمارے مظاہرین کے خلاف پانی چھڑکنے والی گاڑیاں استعمال کرے گا؛ [کنیسٹ کا تشدد پسند رکن] فوگل کہتا ہے کہ گانٹز کو غداری کے جرم میں گرفتار کرکے قیدخانے میں بند کرنا چاہئے۔ یونیورسٹیوں میں وہ ہمارے حامی طالب علموں کو پاؤں تلے روندنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیونکہ طالب علم معترض ہیں اور بیان کی آزادی کے ضمن میں اپنے حق سے فائدہ اٹھا رہے ہیں”۔
جمہوریت کی نابودی
گوکہ نیتن یاہو نے بینی گانٹز اور لاپید کی گرفتاری کے سلسلے میں رکن پارلیمان فوگل کے مطالبے کو مسترد کیا لیکن اس نے مخالفین کو بھی کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا اور انہیں ایک طعنہ آمیز پیغام دیتے ہوئے ٹویٹر پر لکھا: “ایک جمہوری ریاست میں سیاسی راہنماؤں کو گرفتار نہیں کیا جاتا؛ جیسا کہ تم حضرات بھی ہماری حکومت کے ایک وزارت خانے کو “نازیت” کا لقب نہیں دے رہے ہو، یہودی حکومت کو “تھرڈ ریخ” (Third Reich یعنی نازی حکومت) کا عنوان نہیں دیتے ہو اور عوام کو اندرونی بغاوت کی دعوت نہیں دے رہے ہو!”۔
لاپید نے ٹویٹر پر نیتن یاہو کا جواب دیتے ہوئے کہا: “اے نیتن یاہو! ایک جمہوری ریاست میں شہری یا عدالتی نظام تمہارا طُعمَہ (Bait) نہیں ہیں۔ تو ایک کمزور وزیر اعظم بن گئے ہو اور اپنے تشدد پسند اتحادیوں کے خوف سے کانپ رہے ہو۔ وہ اسرائیل کو زوال اور شکست و ریخت کی طرف دھکیل رہے ہیں، اور یوں ہم دیکھتے ہیں کہ جمہوریت کس طرح صرف ایک دن میں نابود ہو جاتی ہے”۔
گانٹز نے بھی نیتن یاہو سے مخاطب ہو کر پیغام دیا ہے کہ “اے نیتن یاہو! اسرائیل کو وسیع پیمانے پر اجماع اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے، نہ کہ اکسانے اور احتجاج کرنے کو جاری رکھا جائے۔۔۔ تم انفرادی حقوق نیز جمہوریت کے ابتدائی اصولوں کے خلاف تمہارے اقدامات نے عملی اور زمینی فیصلوں اور اقدامات میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ میں تم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مظاہرین پر حملوں اور تند و تیز بیانات کی مذمت کرو، اور اختلافات میں شدت لانے کی کوشش نہ کرو”۔
صدر کا انتباہ
ان الزامات کے تبادلے نے – جن میں سے کچھ تو بالکل عجیب اور جدید ہیں – یہودی ریاست کے صدر اسحاق ہرزوگ کو خطرے کی گھنٹی بجانے پر مجبور کیا۔ ہرزوگ نے گذشتہ ہفتے منگل کی شام کو ٹویٹر پر پیغام دیتے ہوئے لکھا: “میں نے حالیہ چند دنوں کے دوران بہت سے فریقوں سے تعاون اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا ہے، اور میں نے اپنی پوری کوشش کی ہے کہ آبرومندانہ اور احترام آمیز بات چیت کے لئے ماحول بنایا جا سکے اور یہ بات چیت وسیع تر مفاہمت پر منتج ہو جائے”۔
ہرزوگ نے “منتخب اہلکاروں” اور یہودی بستیوں کے نوآبادکاروں، “روحانی سکون اور آگ بجھانے” کی دعوت دیتے ہوئے عمومی شعبوں اور سیاسی دھڑوں کو صبر و تحمل اور ذمہ داری قبول کرنے کی دعوت دی ہے۔
………..