اسرائیل کو خطے میں ضم کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی:ھنیہ

ھنیہ نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی عوام دوبارہ وہم اور مذاکرات کے سراب کے جال میں نہیں پھنسیں گے۔ اسی سراب سے مسئلہ بنیادی طور پر متاثر ہوا ہے۔

فاران: اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے قابض صہیونی ریاست کو خطےمیں ضم کرنے کی بنیاد پر دوبارہ انجینئرنگ کی کوششیں ناکام ہوں گی۔”

ھنیہ نے ایک تحریری بیان میں مزید کہا کہ بعض عرب حکومتوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ناکام ہو جائے گی، کیونکہ یہ اقدام عرب اقوام کی مرضی کے خلاف ہے اور اس خطے کا ثقافتی اور فکری ورثہ اس کو قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے فلسطینی قوم کی اہم قوتوں کے درمیان ایک اسٹریٹجک ڈائیلاگ کھولنے پر زور دیا، جو ایک سیاسی اتحاد کی تعمیر کا باعث بن سکے۔ اور خطے میں استعماری سازشوں کو ناکام بنائے۔

ھنیہ نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی عوام دوبارہ وہم اور مذاکرات کے سراب کے جال میں نہیں پھنسیں گے۔ اسی سراب سے مسئلہ بنیادی طور پر متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ہمارا انتخاب یہ ہے کہ ہم جامع مزاحمت جاری رکھیں، جب تک کہ قابض کو شکست نہیں ہوجاتی اور ہمارے پناہ گزین ہم وطن بھائی واپس اپنے علاقوں میں آباد نہیں ہوجاتے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن مشرق وسطیٰ کے دورے پرہیں جہاں انہوں نے کل جمعرات کو اسرائیلی قیادت سے ملاقات کی ہے۔ آج جمعہ کو صدر بائیڈن غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر کا بھی دورہ کریں گے جس کے بعد وہ سعودی عرب جائیں گے۔