اسرائیل کیسے وجود میں آیا (تاریخی تناظر)

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: لفظ یہود، ہود سے نکلا ہے اور اس کے لغوی معنی ہیں رجوع کرنا، یہودی بنی اسرائیل کے قبیلے کا مذہبی نام ہے، جبکہ لفظ بنی اسرائیل یہودیوں کا آبائی نام ہے۔ حضرت ابرہیم (ع) عراق کے شہر بابل میں پیدا ہوئے اور پرچم توحید بلند کرنے کی وجہ سے نمرود نے […]

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: لفظ یہود، ہود سے نکلا ہے اور اس کے لغوی معنی ہیں رجوع کرنا، یہودی بنی اسرائیل کے قبیلے کا مذہبی نام ہے، جبکہ لفظ بنی اسرائیل یہودیوں کا آبائی نام ہے۔ حضرت ابرہیم (ع) عراق کے شہر بابل میں پیدا ہوئے اور پرچم توحید بلند کرنے کی وجہ سے نمرود نے ان کو ملک بدر کر دیا۔ آپ (ع) مختلف مقامات پر ہجرت کے بعد فلسطین پہنچے اور آپ نے ایک نئی آبادی قائم کی، جس کا نام قط تھا اور تاحیات یہی رہے۔ حضرت ابرہیم (ع) کے دو بیٹے تھے، حضرت اسماعیل (ع) جو کہ مکہ معظمہ میں مبعوث برسالت تھے جبکہ دوسرے بیٹے حضرت اسحق (ع) جو کہ کنعان میں مبعوث برسالت ہوئے۔ حضرت اسحٰق (ع) کے دو بیٹے عیص اور حضرت یعقوب (ع) تھے، حضرت یعقوب (ع) کو اسرائیل کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ حضرت یعقوب (ع) نے کنعان سے فلسطین کی طرف ہجرت کی، (کنعان کا علاقہ فلسطین اور لبنان کے درمیان واقعہ تھا)، حضرت یعقوب (ع) کے بارہ بیٹے تھے، بڑے بیٹے کا نام یہودا تھا، جس کی وجہ سے بنی اسرائیل کو یہودی کہا جاتا ہے۔

حضرت یوسف اپنے تمام بھائیوں میں اپنے حسن و جمال کی وجہ سے حسد کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ بھائیوں نے ان کو کنوئیں میں پھینکا، لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا اور قصہ مختصر کہ حضرت یوسف (ع) مصر کے ولی عہد منتخب ہوئے اور پھر بادشاہ بن گئے اور خدا نے برادران یوسف کو غلہ کے ختم ہونے کی وجہ سے یوسف کے در پر مصر میں پہنچا دیا، برادران یوسف نے حضرت یوسف (ع) کو پہچانا اور حضرت یوسف (ع) نے اپنے بھائیوں کو معاف کر دیا اور بنی اسرائیل مصر میں مقیم ہوگئے۔۔۔ اس زمانے میں جو بھی مصر کا بادشاہ بنتا اسے فرعون کہا جاتا تھا، یہ قوم مختلف ادوار کے فرعون کی غلامی میں رہی، لیکن اپنی کامیابی کی طرف گامزن تھی کہ حضرت موسیٰ (ع) نے اپنے وقت کے فرعون کے مقابل پرچم توحید بلند کیا تو فرعون نے قوم بنی اسرائیل کو مصر سے بے دخل کر دیا۔

حضرت موسیٰ (ع) قوم بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف روانہ ہوئے، لیکن خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ حضرت موسیٰ (ع) بنی اسرائیل کو کنعان کی سرحدوں سے آگے نہ لے کر جاسکے اور انتقال کرگئے۔ اس کے بعد حضرت یشوع (ع) جو کہ جانشین موسیٰ (ع) تھے، ان کی قیادت میں بنی اسرائیل دریائے اردن پار کرکے کنعان میں داخل ہوئے اور مقامی آبادیوں کو شکست دے کر یہاں آباد ہوئے۔ بالآخر بنی اسرائیل کی اپنی سلطنت قائم ہوئی، جس میں حضرت داؤد (ع) نے بھی حکومت کی اور پھر ان کے بعد حضرت سلیمان (ع) نے بھی حکومت کی۔ حضرت سلیمان (ع) کے جانے کے بعد یہ سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہوئی۔ شمالی حصہ بنی اسرائیل کے نام سے کہلایا، جبکہ جنوبی حصہ یہودہ کے نام سے، آٹھویں صدی ق م کے وسط میں مغربی ایشیا کی طاقت کا ایسا توازن تھا کہ 745 ق م میں اسیرین بادشاہ نے بنی اسرائیل نام کی شمالی ریاست کو فتح کیا اور وہاں دوسری قوموں کو بسا دیا، جنوبی ریاست یہودہ محفوظ رہ گئی۔

شہنشاہ کی دوستی کی وجہ سے 612 ق م میں بابل کے حکمرانوں نے اپنے آقا اسیریا کے خلاف بغاوت کی۔ یہودیوں نے اپنی سلطنت بچانے کی کوشش کی، لیکن 586 ق م یروشلم پر بنو کدرضر کی فوجوں نے قبضہ کر لیا اور پھر یہاں سے یہودیوں کی مہاجرت کا دور شروع ہوا، کچھ فلسطین میں، کچھ مصر چلے گئے۔ 539 ق م میں ایرانیوں نے بابلیوں کی حکومت فتح کی اور یہودیوں کو یروشلم جانے اور اپنے مذہبی امور انجام دینے کی اجازت دی۔ 333 ق م میں ایرانی حکومت پر سکندر یونانی کی فتح ہوئی، سکندر یونانی کے گزرنے کے بعد اس کے سرداروں میں جنگ شروع ہوئی تو فلسطین مختلف یونانی ریاستوں کے ماتحت رہا۔ البتہ یہودیوں نے 160 ق م میں جنگجوں تحریک کے ذریعے ایک خود مختار مکابی خاندان کی حکومت قائم کی، جو ایک صدی تک قائم رہی، پہلی صدی قبل مسیح کے وسط میں روم نے یونانی حکومت پر فتح کرلی اور ساتھ ہی 63 ق م میں فلسطین پر مکابی خاندان پر بھی فتح حاصل کرلی، البتہ رومی حکومت نے یہودیوں کو مذہبی آزادی دی۔

اسی عہد میں حضرت عیسیٰ (ع) کی ولادت ہوئی، یہودیوں نے رومی حکومت کے ساتھ مل کر حضرت عیسیٰ (ع) کے قتل کی سازش کی(اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (ع) کو محفوظ رکھا اور آسمان پہ اٹھا لیا)، 66ء میں یہودیوں نے رومی حکومت کے خلاف بغاوت کی، جس پر رومی بادشاہ نے یروشلم کو 70ء میں مکمل تباہ کر دیا۔ اس کے بعد 136ء میں رومی حکومت نے یروشلم کو دوبارہ آباد کیا اور اس شہر کا نام Aelia Capitolina رکھ دیا، البتہ 135ء میں یہودیوں نے دوبارہ بغاوت کا آغاز کر دیا تھا، جس سے بہت قتل و غارت ہوئی اور بالآخر یہودیوں کو یروشلم سے نکال دیا گیا۔ چوتھی صدی عیسوی میں روم کی سلطنت نے عیسائیت قبول کرلی، پھر عیسائیوں نے یہودیوں کی جانب سے حضرت عیسیٰ (ع) کو صلیب پر چڑھانے کی وجہ سے یہودیوں کو بہت سختی کا سامنا رہا، ان تمام حالات میں یہودیوں نے مختلف ممالک میں ہجرت کی، بہت سے یہودی یورپ ہجرت کرگئے، لیکن عیسائیوں کے رویوں کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت جاری رہی، جبکہ یہودیوں کی ایک تعداد ایران عراق، شام مصر میں منتقل ہوگئی۔

خلیفہ دوئم کے دور حکومت میں 17 ہجری میں فلسطین کو آزاد کروا لیا گیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے درمیاں ہی حکومتوں کا تبادلہ ہوتا رہا اور بنو عباس کی حکومت کے دوران مصر میں فاطمی خلفاء نے اپنی الگ حکومت قائم کی اور فلسطین بھی فاطمی خلفاء کی حکومت میں شامل تھا۔ اسی دوران عیسائیوں نے اپنے اس عقیدے کے تحت کے بیت المقدس سے حضرت عیسیٰ (ع) کا نزول ہوگا اور پوری دنیا پر عیسائی حکومت کریں گے۔ 1097ء میں مسلمانوں سے صلیبی جنگیں شروع کر دیں، جس کے نتیجے میں عیسائیوں نے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ بنو عباس کی فوجوں میں سلجوقی، جن کا تعلق ترک قبیلے سے تھا، شامل تھے اور انہوں نے اپنا سکہ منوایا۔ بنو عباس کی حکومت کے بعد یہی لوگ حکومت پر قابض ہوئے اور انہی میں سے ایک سلطان صلاح الدین ایوبی ہیں، انہوں نے 1187ء میں دوبارہ سے صلیبی جنگوں کا آغاز کیا اور فلسطین کو آزاد کروایا اور بعد میں سلجوقیوں سے یہ حکومت سلطنت عثمانیہ میں منتقل ہوئی تو فلسطین سلطنت عثمانیہ کے ماتحت ہوگیا، (اس کے بعد اسرائیل کے ناجائز وجود تک مسلمانوں کی ہی حکومت فلسطین میں رہی)۔

البتہ یہاں یہ بتانا ضروری ہے اسلامی حکومت کے قیام کے دوران یہودی اموی و عباسی حکومت میں مختلف سرکاری عہدوں پر بھی فائز رہے، کہا جاسکتا ہے یورپ کی نسبت مسلمان ممالک میں یہودیوں سے کافی حد تک اچھا سلوک رہا، ہاں البتہ 15ء میں یورپ میں روشن خیالی پیدا ہوئی تو یہودیوں کے ساتھ متصوفانہ رویہ رکھا گیا، اس تمام عرصے کے دوران چونکہ یہودی قوم مختلف اقوام اور حکمرانوں کی غلامی میں رہی تو ان کی مذہبی رسومات میں اور نظریات میں خاصی تبدیلی آئی، البتہ یہودیوں نے مختلف ادوار میں اپنے مدارس اور تاریخ کو محفوظ رکھا، یہودی قوم کی ایسی تربیت کی گئی کہ یہ اپنے مرکز کو کبھی بھی نہ بھولے اور جب بھی موقع ملا، بالآخر اپنی سرزمین میں ہی واپس آئے۔

انیسویں صدی میں یورپ میں مقیم یہودیوں کے خلاف یہودیوں کی مختلف جنگوں اور مختلف حکومتوں کے خلاف سازشوں کی وجہ تعصب کی فضا ابھری۔ اس دوران یہودیوں کو جو نجات کا راستہ نظر آیا، وہ ایک الگ ریاست کا قیام تھا، اسی سلسلہ میں یہودی عالم زوی کالسچر نے اپنی کتاب دریشت صیہون لکھی اور ایک تنظیم محبان صیہون کی بنیاد رکھی، اس تنظیم کے نتیجے میں 1882ء میں فلسطین میں پہلی یہودی بستی قائم ہوئی۔ ہالینڈ کے ایک وکیل اور صحافی تھیوڈور ہرزل نے یہودی ریاست نامی کتاب 1896ء میں لکھی اور اگلے سال ہی 29 اور 30 اگست کو سوئٹزر لینڈ میں تین سو نامور، سرمایہ کار اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کو جمع کیا اور بحث و تمحیص کے بعد فلسطین پر ناجائز قبضے پر اتفاق ہوا۔ ہرزل نے سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ عبد الحمید کو اسی سلسلہ میں تحائف دیئے، البتہ سلطان راضی نہ ہوئے، ہرزل نے ایک کمپنی بنائی، جو فلسطین میں مقیم یہودیوں کی مالی مدد کرتی۔

1914ء میں جنگ عظیم اول شروع ہوئی اور جنگ کو بہانہ بنا کر یہودیوں نے فلسطین میں ہجرت شروع کر دی، 1916ء میں سلطنت عثمانیہ فرانس اور برطانیہ کے حصے میں تقسیم ہوگئی اور فلسطین برطانیہ کے حصے میں آیا۔ 2 نومبر 1917ء کو برطانیہ نے ایک یہودی رچرڈ کو خط کے ذریعے اسرائیل کی ریاست کی آمادگی ظاہر کی اور اس کو اس کام پر مامور کیا۔ اس خط کی امریکہ نے بھی حمایت کی، یہودیوں نے برطانوی فوجیوں کے ذریعے فلسطینیوں سے املاک جائز اور ناجائز طریقے سے خریدنا شروع کیں، اٹلی میں 1920ء میں ایک قرارداد اسرائیل کے حق میں پیش کی گئی، جس کو اقوام متحدہ نے قبول کرلیا، 1920ء سے لے کر 15 مئی 1948ء اسرائیل کے قیام تک یورپ اور فلسطین کے درمیان بہت سے اتار چڑھاؤ آئے، اس دوران 1939ء میں فرانس اور جرمنی کے درمیان جنگ عظیم دوئم ہوئی، اس دوران جرمنی جرنیل ہٹلر نے یہودیوں کو ان کی سازشوں کی وجہ سے قتل کرنا شروع کیا، البتہ جتنی تعداد مقتولین کی بتائی جاتی ہے، وہ افواہوں کا بازار تھا۔

اس دوران مزید یہودیوں نے اسرائیل کی طرف ہجرت کی۔ 14 مئی 1948ء کو برطانیہ نے فلسطین سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا اور اسی دن اقوام متحد میں فلسطین میں ایک الگ ریاست کے سلسلے میں ووٹ ڈالا گیا، سب سے پہلے برطانیہ، اس کے بعد امریکہ اور پھر سویت یونین نے بھی اسرائیل کو قبول کر لیا اور اس طرح ایک ناجائز حکومت وجود میں آئی اور اس طرح ایک ناجائز حکومت فلسطین پر قابض ہوئی۔ ممکن ہے کہ میرے قارئین یہودیوں کی تاریخ کو پڑھ کر ان کو مظلوم سمجھ لیں کہ آخر یہ قوم صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میں تھی، تو ان کو حق حاصل ہے کہ اپنی ایک الگ حکومت حاصل کرسکتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہودی قوم نے اول دن سے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی توہین کی، سینکڑوں انبیاء (ع) کو قتل کیا، حضرت یحییٰ (ع) کو قتل کیا، حضرت عیسیٰ (ع) کو قتل کرنے کی سازش کی، آپس میں سازشیں کیں اور اپنی حکومتوں کو نقصان پہنچایا اور جس حکومت میں بھی رہے، چالاکی اور مکاری دکھاتے رہے اور ہمیشہ فسادات کا ساتھ دیا۔

یورپ میں رہے تو یورپ میں ہمیشہ فسادات کئے اور اگر عرب میں آئے تو رسول خدا (ص) کو شہید کرنے کی کوشش کی، ہمیشہ مسلمانوں کی حکومت میں مختلف عہدوں پر رہے، لیکن انہیں نقصان پہنچایا اور ان کے خلاف سازشیں کیں۔ اگر اسرائیل کی ناجائز حکومت پر بات کی جائے، تب بھی آپ دیکھیں یہودی یہ سوچ رکھتے ہیں کہ ہم ہزاروں سال پہلے یہاں آباد تھے تو ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم فلسطین پر حکومت کریں، حالانکہ مسلمانوں نے فلسطین کو جب فتح کیا، تب یہ قوم وہاں غلامی میں تھی اور پھر یہاں مسلمانوں کی آزاد حکومت بنی اور یہ حکومت یقیناً یہودیوں سے چھین کر قائم نہیں کی گئی۔ ایک سوال جو اس متن میں کہ فلسطینیوں نے وہاں املاک کو بیچا اور یہودیوں کو آباد کیا تو واضح سی بات ہے کہ فلسطینی قوم یہودیوں کی اس سازش سے کہاں واقف ہوگی اور اس کے علاوہ وہاں برطانوی فوج کے ذریعے املاک خریدی گئیں اور وہاں پہلے سے مقیم یہودیوں نے بھی ایک منصوبے کے تحت وہاں کی املاک کو خریدنا شروع کیا، تاکہ بعد میں یہودیوں کو آباد کیا جاسکے۔

ایک قابل غور نقطہ یہ بھی ہے کہ یہودیوں کو فلسطین میں پہلی جنگ عظیم میں عارضی پناہ دی گئی اور دنیا کے کسی قانون کے تحت بھی، اگر آپ کہیں عارضی پناہ رکھتے ہیں تو آپ کو پناہ دینے والا ملک کسی بھی وقت آپ کو اپنے ملک سے نکالنے کا حق رکھتا ہے،۔ اس کے علاوہ قابل غور نقطہ یہ بھی ہے کہ جب برطانیہ نے اپنا تسلط ختم کیا تو فلسطینی قوم آزاد ہوگئی تو ان کو حق حاصل تھا کہ ان کی ہی ریاست میں ایک الگ ریاست بنانے سے پہلے فلسطینی قوم کے جذبات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا، لیکن فلسطینیوں سے اس پر رائے نہ لی گئی، جس سے یہودیوں اور عیسائیوں کی اسلام دشمنی واضح ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کا وجود اس لئے بھی امریکہ اور برطانیہ کے لئے ضروری تھا کہ وہ اب مشرق وسطی میں ہر طرح سے مسلمانوں پر نظر رکھنا چاہتے تھے، تاکہ کوئی بھی ایسی تحریک وجود میں نہ آجائے، جو مسلمانوں کو متحد کرے اور ایک مضبوط اسلامی بلاک بنے اور اسلامی حکومت قائم ہوسکے۔۔۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں، جب اس مقدس سرزمین سے اسرائیل کا وجود ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا، مسلمان متحد ہو جائیں گے اور وہ ایک سنہری دور ہوگا۔