اسرائیل کے نئے جاسوسی نظام کا انکشاف

رپورٹر نے مغربی کنارے کے علاقوں میں لگائے گئے سینسرز کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کے "کلائنٹس" کے ساتھ مل کر سمارٹ فون کے ذریعے جمع کیے گئے تکنیکی ڈیٹا کو مربوط کرنے والے نئے انٹیلی جنس نظام کے بارے میں بات کی۔

فاران: قابض اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز ایک نئے جاسوسی ٹیکنالوجی کا انکشاف کیا ہے جو گذشتہ ہفتوں کے دوران اداروں کو فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے وہ اپنے دعوے کے مطابق کئی کارروائیوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہی۔

عبرانی چینل 12 کے فوجی نمائندے نیر ڈوری نے بتایا کہ نئی ٹیکنالوجی نے شن بیٹ اور خفیہ فورس کو اسلامی جہاد کے تین کارندوں تک پہنچنے کے قابل بنایا جوحال ہی میں ادارے کے اندر آپریشن کرنے کے لیے جا رہے تھے۔ اس جاسوسی سسٹم کے ذریعے قریب ہی انہیں قتل کر دیا۔ عرابہ جنین کے جنوب مغرب میں جہاں نظام کو ابتدائی طور پر آپریشنل میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

رپورٹر نے مغربی کنارے کے علاقوں میں لگائے گئے سینسرز کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کے “کلائنٹس” کے ساتھ مل کر سمارٹ فون کے ذریعے جمع کیے گئے تکنیکی ڈیٹا کو مربوط کرنے والے نئے انٹیلی جنس نظام کے بارے میں بات کی۔

تفصیلات میں چینل نے بتایا کہ جہاد سیل اپنے ارکان کی ہلاکت سے چند روز قبل کڑی نگرانی میں تھا۔ کیونکہ اس کے ارکان نے ایک دن قبل جنین میں ایک جنازے میں شرکت کی اور ایک کیفے میں گئے۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں سے ہتھیار نکال لیے۔ اس کے قریبی ٹھکانے، اور مستقل ڈرائیور سے کہا کہ وہ انہیں مقررہ وقت پر لے جائے۔

اس دن کی شامی سیل نے مغربی کنارے اور “اسرائیل” کے درمیان علیحدگی کی دیوار کی طرف مارچ شروع کیا اور وہ اندرون شہر میں سے ایک میں آپریشن کرنے کے لیے جا رہے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیا نظام ’جی پی ایس‘ سسٹم کے مطابق لاکھوں گھنٹے روزانہ کی کمیونیکیشن کا تجزیہ کرنے، اسمارٹ فونز میں گھسنے اور ان سے معلومات نکالنے کے علاوہ ان کے ٹھکانے کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاں آپریشنز کے نفاذ کے قریب لوگوں تک پہنچنے کے لیے اس تمام بڑی مقدار میں سے بہت کم اہم معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔