اسلامی جمہوریہ ایران کے بگڑتے حالات اور دشمن کی سازشیں
فاران تجزیاتی ویب سائٹ: آج کل مومنین کرام کے درمیان ایران کے حالات کو لیکر بڑی بے چینی و تشویش پائی جا رہی ہے ایمانی رشتے کی بنیاد پر ہونا بھی چاہیے ایسے میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس انقلاب اسلامی کے لئے دعاء کریں جس کی خاطر لاکھوں شہداء نے اپنا خون دیا ہزاروں ماوں نے قربانیاں دیں حال ہی میں ایران کے شہر شیراز میں چاہ چراغ کے مزار پر جو دہشت گردانہ حملہ ہوا ہے اس نے ہر ایک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اس حملے کے محرکات و اسباب کا جائزہ ہم پھر کسی وقت لیں گے پیش نظر تحریر میں ایران کی موجودہ صورت حال کا بے طرفی کے ساتھ جائزہ لینے کی کوشش کریں گے ہر اس فرد کے لئے جو اسلامی انقلاب کو ایک عظیم اسلامی ورثے کے طور پر دیکھتا ہے بلکہ ہم سبھی کے لئے جنکا دل اسلامی انقلاب کی کامیابی و کامرانی اور اس کی ترقی کے ساتھ دھڑکتا ہے ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں دعاء کے ساتھ ساتھ ہم اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں اور دشمن کے گیم کا حصہ نہ بنیں، حالات کا صحیح تجزیہ کریں میڈیا کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اس لئے کہ جو کچھ ایران میں ہو رہا ہے محض ایک لڑکی کی موت کے بعد عوامی احتجاج کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سب کچھ ہو رہا ہے چنانچہ فارس بین الاقوامی نیوز ایجسنی نے[1] ایران کی وزارت اطلاعات کی جانب سے مہسا امینی کی موت کے بعد شایع ہونے والی آشوب گروں و فسادیوں کی فہرست کو پیش کرتے ہوئے اس بات کو بیان کیا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اسلامی مزاحمتی محاذ کو کمزور کرنے کے لئے بیرونی عناصر کے ذریعہ کسی ملک میں نا امنی پھیلائی گئی ہو بلکہ اس سے پیشتر بھی ایسا ہوتا رہا ہے ۔
ایرانی وزارت اطلاعات کی جانب سے دی گئی فہرست کے مطابق ایران میں فساد پھیلانے والے مختلف گروپس کو جب پکڑا گیا تو ان میں ۴۹ لوگوں کا تعلق غیر قانونی تنظیم ( مجاہدین انقلاب )منافقین ۷۷ کا تعلق کردستان کے علیحدگی پسند گروپ سے ۵ کا تعلق تکفیری و دہشت گردانہ کاروائیاں کرنے والے گروہوں سے تھا جنہیں ۳۶ کلو دھماکہ خیز مواد کے ساتھ گرفتار کیا گیا ان کی منصوبہ بندی میں ایران کے ایک اعلی عہدے دار کو قتل کرنا شامل تھا ، ایرانی وزارت اطلاعات کی جانب سے بیان کی گئی فہرست کے مطابق ۹۲ لوگ ایسے تھے جو پہلوی سلطنت سے جڑے تھے اور ۹ ایسے افراد ایرانی سکورٹی فورسز نے گرفتار کئے جنکا تعلق ایران سے نہیں تھا جن میں جرمنی ، پولینڈ، اٹلی ، فرانس ، ہالینڈ ، سوئڈن کے باشندے بھی تھے ۔
ایران کے خلاف مشترکہ ترکیبی جنگ :
بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان مختلف دھڑوں کا آپس میں ایک ساتھ جڑ جانا جنکے اندورنی طور پر آپس میں خود ہی بڑے اختلافات اور غیر معمولی چپقلشیں ہیں اس بات کا بیان گر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ کا ایک مشترکہ محاذ تیار کیا گیا ہے ، جس میں سب کے سب متحد طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کمر بستہ نظر آ رہے ہیں ۔
اس مشترکہ جنگی محاذ کی ایک نشانی یہ ہے کہ محض یہ ایران نہیں ہے جہاں پر فتنہ و فساد و آشوب ہوا ہو بلکہ عراق میں بھی ایسی ہی صورت حال رہی ہے اور دشمن نے مزاحمتی محاذ میں شامل مختلف ممالک کو خانہ جنگی میں جھونکنے کی پوری کوشش کی ہے ، عراق میں انتخابات کے بعد ہونے والے واقعات میں جب مقتدی صدر کے حامیوں نے حکومت کی تشکیل نہ ہونے پانے پر ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور صدر گروپ اس بار پر مصر رہا کہ حکومت نہ بننے پائے اور اپنے موقف سے ذرہ برابر یہ لوگ پیچھے ہٹنے کو تیار نہ ہوئے تو نہ صرف ملک میں فساد و آشوب پھیل گیا بلکہ خطرہ یہاں تک سنگین ہو گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو امنیت و سکوریٹی کی مشکل پیدا ہو جائے اور داعش جیسے چھپے ہوئے تکفیری گروپس پھر سے سامنے آکر لوگوں کا جینا حرام کر دیں جو کہ حشد الشعبی و محافظین و مدافعین کی بے لوث قربانیوں کی بنا پر چھپ چھپا کر جینے پر مجبور تھے ۔
مزاحمتی محاذ کے مقابل دشمن کا فتنہ :
معاملہ صرف عراق ہی کا نہیں ہے بلکہ لبنان میں بھی ایسی ہی صورت حال تھی گزشتہ چند مہینوں میں ان تمام ممالک میں فتنہ و فسا دکا بازار گرم رہا جہاں سے صہیونیت کے خلاف آواز بلند ہو سکتی تھی اور ایک مزاحمتی محاذ مسلسل صہیونی اہداف کی تکمیل میں رکاوٹ بن رہا تھا ، لبنان میں آپ دیکھ لیں کس طرح یہ ملک گزشتہ مہینوں سے اب تک بحران کا شکار رہا ہے اب تو بات محض مزاحمتی محاذ تک ہی نہیں سمٹتی ہے بلکہ مشرق وسطی میں سبھی جگہ مسائل ہیں ، خطے میں اگر مزاحمتی محاذ کو ہٹا کر بھی دیکھا جائے تو آشوب و فتنہ کم نہیں ہے ، افغانستانی ہی کو لے لیں ہر کچھ وقفے کے بعد یہاں پر دھماکے ہوتے نظر آتے ہیں ، تازہ ترین حملہ لڑکیوں کے کالج پر ہوا جس میں ۶۰ سے زیادہ بچیوں کی جانیں گئیں اور کتنے ہی لوگ زخمی ہوئے ، یہ وحشیانہ حملہ اتنا خطرناک تھا کہ جس نے ہر صاحب احساس کو ہلا کر رکھ دیا کتنے ہی لوگ اس دھماکے کے مناظر دیکھ کر رات بھر سو نہیں سکے لیکن افسوس میڈیا نے اس پر پروگرام کرنا تو دور بعض نے سرخیوں میں بھی جگہ دینا ضروری نہ سمجھا ،اور اگر اپنی سچائی کا بھرم رکھنے کے لئے تھوڑا بہت کچھ تصاویر دکھا بھی دیں تو یہ لکھ کر جان چھڑا لی کہ ’’حادثہ اتنا دلخراش ہے کہ ہم آپ کو تمام مناظر نہیں دکھا سکتے ‘‘
جبکہ یہی میڈیا ایران میں ہونے والے فتنہ و فساد کی تصاویر کو نمک مرچ لگا کر دکھاتا رہا ،
خطے میں لبنان ہو ، افغانستان یا پھر عراق و پاکستان کہیں بھی ہمیں ثبات نہیں نظر آتا ہے ، عمران خان کی حکومت کے برخاست ہونے کے بعد سے لیکر اب تک جو پاکستان کی حالت ہے کسی پر پوشیدہ نہیں ہے ۔
ایران نشانے پر کیوں ؟ :
سیاسی مسائل کے تجزیہ کار جعفر قناد باشی نے علاقے کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ : ’’ ایران کا معاملہ مغرب سے تقابل کی بنیاد پر سیاسی مسائل سے ماوراء ہے یہ اقتصادی و ثقافتی مسائل کو بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے ، یہ ایک ایک جنگ ہے ایک تمدنی جنگ ہے جہاں مغرب کا اعتبار داوں پر لگا ہے مغرب و ایران کا تقابل مختلف پہلووں کا حامل ہے ، اس لڑائی میں کوئی ایک رخ نہیں ہے مختلف زاویے ہیں مختلف محاذ ہیں ، اس تقابل کا ایک حصہ مغرب و ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات اور ان مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ ایران پر دباو سے جڑا ہوا ہے ، جو ان مذاکرات میں ایران پر فل پریشر کی صورت ہمیں نظر آتا ہے ۔
علاوہ از ایں علاقے میں ایران کے وجود کا بھی مسئلہ ہے جہاں عالمی سامراج عام طور پر یہ کوشش کرتا نظر آتا ہے کہ ایران کے خطے میں موثر وجود کو ہلکا کرے اور ایران کے اظہار وجود کرنے کو روک سکے ، خطے میں ایران کے رنگ کو پھینکا اور ہلکا کرنا استکبار کا اہم ہدف ہے ، اس تقابل کا ایک اور میدان ثقافت و میڈیا سے جڑا ہے ، ثقافتی و فرہنگی اعتبار سے دشمن یہ چاہتا ہے کہ ایران کے اسلامی کلچر پر ضرب لگائے ، کیونکہ ایران سالہا سال سے مغربی کلچر کے خلاف نبردآزما رہا ہے اور چاہتا رہا ہے کہ مغربی کلچر کے ریشوں کو اپنے ملک سے اکھاڑ پھینکے تو اس کے مقابل اب اسکتبار یہ چاہتا ہے اپنی ثقافت کو ایران کے سر تھونپ دے وہ بھی اس طرح کہ لوگوں کے دماغ میں یہ بات گھسا دی جائے کہ جو تم مغربی کلچر کا مطالبہ کر رہے ہو یہی آزادی ہے ،اس طرح کئی محاذ پر ایران کو گھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
مہسا امینی کی موت ایک بہانہ :
مغرب نے مہسا امینی نامی ایک لڑکی کی موت کو بہانا بنا کر ایک مشترکہ و ترکیبی جنگ ایران کے خلاف چھیڑ دی ہے اسے محض ایک معمولی فتنہ و آشوب کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا ہے ، دشمن نے اپنی تمام صلاحیتوں کو استعمال کیا ہے میڈیا کو بھر پور انداز میں دشمن استعمال کر رہا ہے ، اقتصادی پابندیاں ، علیحدگی پسند گروہوں کی پشت پناہی اور انہیں تحریک کرنا قومی و مذہبی شگافوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقدسات سے کھیل جانا اور دوسرے مذاہب کے مقدسات کی اہانت یہ ساری وہ چیزیں ہیں جنہیں دشمن ایران کے خلاف ہتھکنڈوں کے طور پر استعمال کر رہا ہے ، جبکہ انہیں ساری چیزوں کے پیش نظر سالہا سال قبل رہبر انقلاب اسلامی نے ایک زمانے میں اس مشترکہ و ترکیبی جنگ کو لیکر وارننگ دی تھی اور کہا تھا ایران کو اس جنگ کے سلسلہ سے آمادہ رہنے کی ضرورت ہے ، جس جنگ کی وارننگ رہبر انقلاب نے دی تھی دشمن اس جنگ میں پوری طاقت سے کود پڑا ہے ۔
مثال کے طور پر آپ حالیہ ایران کے فتنہ و آشوب کے دوران ذرا حالیہ ٹوئیٹس اور میسجز اور ایران کے خلاف لگائی جانے والی خبروں کی شہ سرخیوں کو دیکھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو گا جنگ کتنی خطرناک ہے یہ سب کے سب چیزیں ایک مشترکہ و ترکیبی جنگ کی نشانیاں ہیں ، جو کچھ ان چند دنوں میں ایران کے خلاف ٹوئیٹس کا سیلاب آیا ہے اسکی مثال نہیں ہے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی ایک ملک کے داخلی حالات انتشار کے شکار ہونے کی بنا پر اس کے خلاف اتنے بڑے پیمانے پر ٹوئیٹس کئے گئے ہوں
ان ٹوئٹس کی کثرت اور انکی تعداد جس میں سے بہت سے ایسے ہیں جو روبوٹس کے ذریعہ کئے گئے ہیں یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا ہے ۔
دشمن کی نیرنگیاں اور رہبر انقلاب کا فتوی :
یہ ساری باتیں اس دشمنی کو بیان کر رہی ہیں جو عرصے سے ایران غرب کے بیچ چلی آ رہی ہے البتہ حالیہ مسائل اس دشمنی کے انداز کی تبدیلی کو بیان کر رہے ہیں یہ ایک نئی جنگ ہے جو ایران پر مسلط کی جا رہی ہے ۔
یہاں پر مسائل کو واضح کرنے اور حقیقت کو روشن کرنے کے سلسلہ سے رہبر انقلاب اسلامی کے جہاد کا فتوی اس بات کا سبب بنا کہ انقلابی طبقہ اس سلسلہ سے خود کو مضبوط بنائے اور آج دشمن کے شبہات کا جواب دے سکے ۔
یہی وجہ ہے کہ دشمن کے چو طرفہ حملوں کے بعد بھی اس انقلابی طبقے نے ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا اور مجازی فضا میں میدان پر دشمن کا تسلط نہ ہونے دیا بلکہ مجازی دنیا میں اچھا اثر چھوڑنے میں کامیاب ہوا۔
جہاں تک مشترکہ و ترکیبی جنگ کی بات ہے تو یہ ترکیبی جنگ ایک اسٹراٹیجی و منصوبہ بندی کے تحت لڑی جاتی ہے اور ایسی ہی جنگ پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جس میں معمولی و غیر معمولی انداز میں مقابلہ آرائیاں ہوتی ہیں اس میں سائبری میدان جنگ الگ ہوتا ہے اطلاعات کا الگ میدان ہوتا ہے اور نفسیات کا الگ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ترکیبی جنگ کا مطلب یہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ اس جنگ کے ذریعہ دشمن یہ چاہتا ہے کہ اپنے مد مقابل کو ڈھیر کرنے کے لئے مختلف روشوں کو استعمال کرے ایسے طریقے اور ایسے انداز اختیار کرے کہ جس کے ذریعہ جھوٹ کو سچ کا لبادہ پہنایا جا سکے اور ان طریقوں کو بروئے کار لائے جن سے اپنے اہداف کو حاصل کر سکے یہ سارے وہ طریقے ہیں جو میڈیا کے انداز اور اسکے ذریعہ جھوٹ کو پھیلائے جانے کے سلسلہ سے قابل غور ہیں ۔
دشمن اپنی پوری طاقت کے ساتھ سامنے ہے دشمن یہ چاہتا ہے کہ اپنی تمام استعداد کو چاہے وہ عسکری ہو یا اطلاعاتی ، ایران کے خلاف سب کو استعمال کرے ایران کے علیحدگی پسند گروہوں کا اس معرکہ میں کود پڑنا اس ترکیبی جنگ کے خطرناک موڑ پر پہنچ جانے کی علامت ہے
برطانیہ، امریکہ و اسرائیل اور علاقے کی متہجر رجعت پسند طاقتیں ان سب کے ساتھ انکا مکھیا اسرائیل یہ سبھی ایک ہی محاذ پر ہیں اور اس لئے ہیں کہ ایران اندر سے ٹوٹ جائے ، انہیں اپنے اہداف تک پہنچنے کے لئے لوگوں کی حمایت درکار ہے انہیں پتہ ہے کہ محض عسکری حملے سے محض ایران کے اقتصاد کونشانہ بنا کر ایران کے انفراسٹریکچر کو تباہ نہیں کیا جاسکتا ہے ، یہ طاقتیں چاہتی ہیں کہ مختلف اقوام کے درمیان گھس پیٹھ کر کے اپنے لئے ایک عوامی پلیٹ فارم بنا سکیں ، دشمن کو اپنے مفادات کے حصول کے لئے کچھ ایسے لوگ چاہیے جن پر سوار ہو کر یہ اپنے مقاصد شوم تک پہنچ سکیں ۔
ایران کی سڑکوں پر نئی نسل کی موجودگی کا مطلب :
ایران کے کچھ شہروں میں مغربی تہذیب کے دلدادہ افراد کو سڑکوں پر لا کر ایران کی نئی نسل کو ورغلا کر یہ طاقتیں اگر یہ سمجھ رہی ہیں کہ ہم اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ان کی بڑی بھول ہے ، اس لئے کہ جو نوجوان و جوان نسل ہمیں سڑکوں پر احتجاج کرتی نظر آ رہی ہے جو اپنے اسکارف کو نذر آتش کرتی نظر آ رہی ہے وہی حقیقی ایران کی ترجمان نہیں ہے نہ جانے کتنے ایسے انقلابی مومن و غیور نوجوان ہیں جو اپنے رہبر کے ایک اشارے کے منتظر ہیں جنہیں آپ مشہد و قم کے روضہ ہائے مقدس میں مساجد میں نماز جماعت کے دوران امام بارگاہوں اور حسنیوں میں مجالس و محافل کے ساتھ د عائے کمیل و دیگر ماثورہ دعاوں میں دیکھ سکتے ہیں ، یہ سکے کا وہ رخ ہے جسے مغربی میڈیا نے نہ آج تک دکھایا ہے اور نہ دکھائے گا مغربی میڈیا کی پوری کوشش ہے کہ لوگوں کو یہ باور کرا سکے کہ پورے ایران میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے ہر طرف حکومت کے خلاف بغاوت کے آثار ہیں حکومت حالات کو کنٹرول کرنےمیں ناکام ہے ، لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے ، یہ حالات پہلی بار رونما نہیں ہوئے ہیں اس قسم کے حالات کئی بار سامنے آئے ہیں اور ہر بار پہلے اسلامی جمہوریہ ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے بس تھوڑا صبر و تحمل کے ساتھ بصیرت کی ضرورت ہے ، اقتصادی پابندیوں کی مار کو جھیل رہی عوام یقینا مشکلات میں ہیں اس پر دشمن نیرنگ و مکر و فریب کے تانے بانے بن کر سامنے ہے ، ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لچکدار رویہ اختیار کرتے ہوئے عوام کے ان بنیادی مسائل کو حل کر کے جنکا وعدہ معمار انقلاب نے اسلامی اصولوں کے تحت دیا تھا ، امید کہ ایک بار پھر دشمن کی تمام چالیں ناکام ہوں گی اور ایک بار پھر اس فتنہ و آشوب کی گرد جب تھمے گی تو اسلامی انقلاب کا چہرہ اور بھی درخشان و تابندہ ہوگا۔
[1] ۔ https://www.farsnews.ir/news/14010710000474/%D8%A7%D8%BA%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%B4-%D9%85%D9%88%D9%84%D9%81%D9%87%E2%80%8C%D8%A7%DB%8C-%D8%A7%D8%B2-%D8%AC%D9%86%DA%AF-%D8%AA%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D8%A8%DB%8C-













تبصرہ کریں