القسام نے اسرائیلی بریگیڈ کمانڈر کی گرفتاری کو کیوں مخفی رکھا؟

فاران: فلسطین کےعسکری اور تزویراتی ماہر کرنل حاتم کریم الفالحی نے کہا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی غزہ ڈویژن میں اسرائیلی فوج کے سدرن بریگیڈ کے کمانڈر اساو حمامی کی قیدیوں میں موجودگی کا اعلان کرنے میں تاخیر پر اپنی رائے دی ہے۔ حمامی کوالقسام بریگیڈز نےگذشتہ 7 […]

فاران: فلسطین کےعسکری اور تزویراتی ماہر کرنل حاتم کریم الفالحی نے کہا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی غزہ ڈویژن میں اسرائیلی فوج کے سدرن بریگیڈ کے کمانڈر اساو حمامی کی قیدیوں میں موجودگی کا اعلان کرنے میں تاخیر پر اپنی رائے دی ہے۔ حمامی کوالقسام بریگیڈز نےگذشتہ 7 اکتوبر سے زخمی حالت میں قید کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ حمامی کا نام خفیہ رکھنے کی القسام کے ہاں تزویراتی وجوہات اور مقاصد ہوسکتے ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو القسام نے ایک ویڈیو نشر کی جس میں کہا گیا کہ اساو حمامی کو 7 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور انکشاف کیا کہ وہ گرفتاری کے دوران زخمی ہوا تھا، لیکن فی الحال اس کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

الفلاحی نے غزہ کی پٹی کے فوجی منظر کے بارے میں اپنے تجزیے کے دوران واضح کیا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ القسام نے اپنی قید میں موجود دشمن کے کسی اعلیٰ عہدے دار کی شناخت کا اعلان کیا ہے۔ اس امکان کے واضح ثبوت ہیں کہ غزہ کی پٹی میں مزاحمت کے درمیان حمامی کی سطح پر یا اس سے زیادہ فوجی رہ نما ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس اعلان کا وقت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر رفح میں قابض فوج کی طرف سے قیدیوں کی بازیابی کے لیے فوجی دباؤ کے بہانے کیے گئے فوجی آپریشن کے دور میں سامنے آیا ہے۔

عسکری ماہر کا خیال ہے کہ یہ اعلان اندرونی عوام کے لیے ایک پیغام پر مشتمل ہے کہ قابض وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے اپنے فوجی رہ نماؤں کے ساتھ جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ اس سے مختلف نہیں ہے جو وہ باقی قیدیوں کے ساتھ کرتے ہیں۔

ویڈیو کلپ میں القسام نے اس جملے میں کہ “ایک قیادت اپنے فوجی کمانڈروں کو قید میں چھوڑ دیتی ہے” نیتن یاہو، ان کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور دیگر صہیونی عہدیداروں کے لیے پیغام ہے۔