امام حسین علیہ السلام اور معاشرے کے کمزور و نادار لوگ

فرش عزا محض ہمیں غم منانا نہیں سکھاتا بلکہ اس غم کے سایے میں معاشرے کی تعمیر کا ہنر بھی سکھاتا ہے اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم سماجی مسائل میں  کس انداز سے دلچسپی لے رہے ہیں  کتنا توجہ معاشرے میں کمزور و ضعیف طبقے پر ہماری ہے اور کتنا محض کچھ مجالس منعقد کر کے ہم مطمئن ہیں کہ ہم نے غم منا لیا۔ 

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: دنیا میں آج جس طرف نظر ڈالیں لوگ طاقتور اور دولت مند طبقے کے ارد گرد گھومتے نظر آ رہے ہیں کسی کو اپنے سے کمزور و ضعیف  طبقے کی فکر نہیں ہے جو جتنا محروم ہے اسے اتنا ہی حاشیے پر ڈال دیا گیا ہے، ہمارے سامنے جو ایام ہیں وہ اہل حرم کی اسیری کے ایام ہیں  یہ وہ غم و اندوہ کے دن ہیں جس میں جب ہم اسیران کربلا کا  تذکرہ کرتے ہیں ان کو یاد کرتے ہیں  تو ساتھ ہی ساتھ ہمارے وجود کے اندر اسیروں ، بے گناہوں اور ایسے لوگوں کی حمایت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جنہیں معاشرے میں کوئی ایک نظر دیکھنے کے لئے تیار نہیں  اسی لئے کہا جا سکتا ہے شہید کربلا امام حسین علیہ السلام اور انکے اصحاب با وفا کی یاد میں منائے جانے والے یہ غم کے ایام  بہت اہم ہیں  ان سے ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں  معنوی رزق ان ایام میں جس طرح ہم حاصل کرتے ہیں اور جس وسیع پیمانے پر یہ رزق ہم تک پہنچتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔

ایک اہم درس جو ہمیں سید الشہدا ع  کی سیرت سے ملتا ہے وہ لوگوں کے کام آنا ضرورت مندوں کی مدد کرنا نادار طبقے کا سہارا بننا ہے ۔

اس لئے کہ یہ وہ دن ہیں جب  ہر انسان مغموم و محزون ہوتا ہے اسکا دل نرم ہوتا ہے لہذا یہ ایک بہترین موقع ہے سماج و معاشرے کے مسائل کو حل کرنے کا  وہ چیز جس پر سید الشہداء  ع نے بہت توجہ دی ہے وہ لوگوں کے کام آنا ان کے مسائل کا حل  لوگوں کی مشکلات  کو  دور کرنا ہے ۔ اب اگر ہم دو مہینے ۸ دن سید الشہداء ع کی سیرت پر چلنے انکے پیغام کو عام کرنے  کا عہد کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو ہم پر لازم ہے  کہ اس بات پر توجہ دیں جس پر سید الشہداء ع نے توجہ دی  یہاں پر یہ کہنا ضروری ہے کہ  ایسا ضروری نہیں ہے  چاہے اپنے پاس ہو یا نہ ہو کسی کی ضرورت کو پورا ہی کیا جائے خود کو مشکل میں ڈال دیا جائے  نہیں ایسا ضروری نہیں لیکن یہ یقینا ضروری ہے کہ کسی کے اچھے اخلاق سے پیش آیا جائے  اسی لئے روایت میں ہے کہ ’’ مولائے کائنات فرماتے ہیں انہوں نے اللہ  کے رسول ص سے سنا :

تم سب کو مال کی بخشش و عطا سے راضی نہیں کر سکتے ہو اور مال کے ذریعہ لوگوں کی زندگی میں آسانیاں نہیں لا سکتے ہو  لیکن اپنے اچھے اخلاق سے انہیں اپنے سے راضی کو خوش رکھ سکتے ہو [1]۔

یہی وجہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی سیرت میں ملتا ہے کہ اگر کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ مادی و فوری طور پر کسی کی ضرورت  کو حل نہ بھی کر پاتے تو  کوشش کرتے اس انداز سے پیش آئیں کہ آنے والے کا کچھ تو بوجھ کم ہو سکے اور بالکل مایوس نہ پلٹے  چنانچہ ابن  مہران[2] سے نقل ہے  ایک بار  آپ کہیں تشریف فرما تھے ایک ضرورت مند آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا ائے فرزند رسول  ص میری مدد کریں  فلاں شخص  سے میں نے قرض لیا ہے  اس کے قرض کو ادا کرنے  کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہیں وہ مجھے  زندان میں ڈالنا چاہتا ہے  امام علیہ السلام سنے جواب دیا فی الحال تو میرے  پاس کچھ نہیں ہے جس سے تیری مشکل برطرف ہو[3] اس شخص نے کہا : مولا کم سے کم اس سے بات ہی کر لیں  شاید وہ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کر لے اور میں قید ہونے سے بچ جاوں  امام علیہ السلام نے جواب دیا تم نے جس سے قرض لیا ہے میری یوں تو اس سے کوئی جان پہچان نہیں ہے لیکن میں نے اپنے والد گرامی سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے رسول خدا ص نے فرمایا : جو بھی اپنے مومن بھائی کی حاجت روائی کے لئے کوشش کرتا ہے گوکہ اس نے ۹ ہزار سال اللہ کی عبادت کی وہ بھی ایسی عبادت جس میں دنوں میں اس نے روزہ رکھا ہو اور راتوں کو جاگ کر عبادت کی ہو [4]

چنانچہ امام علیہ السلام نے اس شخص کی وساطت کی اور اس کا معاملہ حل ہو گیا ، یہ بہت ہی اہم مسئلہ ہے کہ اگر ہم کسی کی مشکل کو حل نہیں کر سکتے ہیں تو جو بن پڑے اسے تو کریں کم از کم اچھے اخلاق ہی سے ایک پریشان حال انسان کے زخموں پر مرہم رکھیں  بیماروں کی عیادت کا حکم اسی لئے ہے کہ ممکن ہے تم کسی بیمار کی کوئی مشکل حل نہ کر  سکو  لیکن اسکے پاس کچھ دیر بیٹھ تو سکتے ہو  اسکا درد دل تو سن سکتے ہو    کسی نہ کسی طرح کسی کام تو آ ہی سکتے ہو  سید الشہداء ع کی حیات طیبہ میں بیماروں کی عیادت کی خاص اہمیت تھی آپ نہ صرف بیماروں کی عیادت فرماتے بلکہ انکی بعض  اقتصادی مشکلات کو بھی برطرف کرتے تھے تاکہ ایک بیمار اپنی بیماری کے درد کے علاوہ دوسرے درد میں نہ تڑپے  اس لئے کہ خدا نخواستہ اگر کوئی ایسا مریض ہے جس کی مالی حالت  اچھی نہیں ہے تو اسے اپنی صحت سے زیادہ  پیسوں کی فکر ہوتی ہے زندگی کے اخراجات کا ٹینشن ہوتا ہے  اب اگر کوئی مریض مقروض بھی ہے تو اسے اپنے قرض کی ادائگی کی فکر لاحق رہتی ہے ۔

امام حسین علیہ السلام اور بیمار کی عیادت :

ابن  شہر آشوب نے  لکھا ہے کہ امام حسین علیہ السلام ایک دن اسامہ بن زید کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو مریض تھے ۔

[5]اسامہ بستر  بیماری پر آہ و فغاں کر رہے تھے درد سے تڑپ رہے تھے  اور فریاد کر رہے تھے ’’ ہائے مجھے غم و اندوہ سے کیسے نجات ملے گی ہائے مجھے غموں سے کیسے نجات ملے گی‘‘ امام حسین علیہ السلام  نے سوال کیا تمہارا درد کیا ہے تمہیں کس چیز نے فکر مند کر رکھا ہے اسامہ نے جواب دیا  میں مقروض ہوں  ۶۰ ہزار درہم کے قرض نے  مجھے الجھن میں ڈال دیا ہے کیسے یہ قرض ادا ہو یہی میرا ہم و غم و ہے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:  پریشان نہ ہو فکر مند نہ ہو میں اس قرض کو ادا کر دونگا  اسامہ نے کہا مجھے ڈر لگتا ہے کہ  کہیں ایسا نہ ہو کہ قرض کی ادائگی سے قبل ہی میں دنیا سے گزر جاوں امام علیہ السلام نے فرمایا: میں اس سے قبل کے تمہیں موت آئے تمہارے قرض سے تمہیں سبکدوش کر دونگا  اور جیسا کے امام حسین علیہ السلام نے وعدہ کیا تھا ویسا ہی ہوا  امام علیہ السلام نے تمام قرض اسامہ کے انتقال سے قبل ادا کر دیا [6]۔

کمزور و ناتواں اور یتیموں کی مدد اور انکی پرسان حالی :

امام حسین ع کی زندگی میں کمزور ناتواں طبقے کا ایک خاص مقام تھا انکی خاص اہمیت تھی  آپ یتیموں کی مدد کرتے ان کی پرسان حالی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے  آپ اس بات کے منتظر نہیں رہتے تھے کہ کوئی یتیم مدد کی گہار لگاتا ہوا آپ کے پاس آئے کوئی کمزور و نادار اپنی مشکل لے کر آپ کے پاس پہنچے  بلکہ آپ خود آگے بڑھ کر لوگوں سے انکی مشکلات کو دریافت کرتے  تھے  لوگوں تک آذوقہ پہنچانا  انکے کھانے کا انتظام یہ وہ  چیز تھی جس پر  اپنے والد گرامی مولائے کائنات ع کی طرح کاربند تھے اور لوگوں تک اس خاموشی کے ساتھ انکی ضرورت کا سامان پہنچاتے کہ کسی کو کان و کان خبر نہ ہوتی ۔

شیعب بن خزاعی سے نقل ہے کہ  کربلا کے واقعہ کے بعد  جب بنی اسد آ پ کے جسد اطہر کو دفن کرنے کی غرض سے آئے تو ان لوگوںکو آپ کے دوش پر ایک زخم دکھا جو کسی تلوار کا زخم نہیں تھا نہ ہی نیزے کا زخم تھا یہ زخم ان تمام زخموں سے علیحدہ تھا جو جنگ میں لگتے ہیں  جنگی حراحت و زخم سے مختلف ایک زخم تھا  جس کی کوئی شباہت جنگ میں لگنے والے زخموں سے نہ تھی  لہذا ان لوگوں کو تعجب  ہوا یہ زخم کیا ہے  بن اسد نے جب امام سید سجاد علیہ السلام بذریعہ اعجاز دفن شہدا ء کربلا کے لئے آئے تو ان سے پوچھا کہ مولا یہ سمجھ نہیں آتا یہ زخم کون سا ہے اور کہاں لگا  آپ نے جواب دیا ’’ یہ وہ زخم ہے جو  میرے بابا کے کاندھے پر  غریب و نادار و یتیموں کے آذوقے کے تھیلوں کی وجہ سے  آشکار ہو اہے[7]  ۔

امام حسین علیہ السلام نے اسی بنیاد پر اپنے خطبوں میں اور دیگر ارشادات میں اس   بات کی طرف خاص توجہ فرمائی ہے کہ معاشرے کے لوگ غریب و نادار اور یتیم لوگوں سے غافل نہ رہیں ان  کی پرسان حالی میں غفلت  نہ کریں  چنانچہ  امیر شام کے واصل جہنم ہونے سے قبل  آپ نے اپنے تاریخی خطبہ منی میں  ان لوگوں کو خطاب کیا جو  ایک عالم ہونے کی بنیاد پر یا صاحب منصب ہونے کی بنیاد پر  معاشرے میں ایک کردار ادا کر سکتے ہیں  لیکن غریب و نادار طبقے کی ضرورتوں کو لیکر غافل ہیں ان کے مسائل کو لیکر  کوتاہی کرتے ہیں  آپ نے اپنے اس خطبے میں سماج کے نمایاں لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے  واضح کیا کہ  اللہ نے اگر تمہیں کسی لائق بنایا ہے تو  ہرگز ایسا نہ ہو کہ تم مستضعفین کو فراموش کر دو محروم طبقے کو بھول جاو  چنانچہ آپ فرماتے ہیں :

ائے بزرگان قوم و ملت  تم نے کمزور لوگوں کے حقوق کو پامال کر دیا تم نے جو تمہیں  لگا تمہارا حق ہے اسے تو طلب کیا  لیکن راہ خدا میں کچھ نہ دیا  تم نے نہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا  نہ ہی خدا کی رضا کے لئے اپنے رشتہ داروں کو کسی جوکھم میں ڈالنا گوارا کیا  کیا تم اس سیاہ نامہ اعمال کے ساتھ  خدا کی جنت میں جاوگے  کیا تم اپنے ان اعمال کے بعد بہشت میں پیغمبروں کے ساتھ ہمنشینی کی آرزو کرتے ہو  غریبوں کے بارے میں سوچتے نہیں  اور چاہتے ہو عذاب الہی سے امان میں رہو [8]

ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں : تم دیکھ رہے ہو کہ الہی عہد کو توڑا جا رہا ہے لیکن کسی کے کانوں ہر جوں نہیں رینگتی  جبکہ تمہارے باپ دادا کے عہد و پیمان پر اگر آنچ آئے تو تم بری طرح آشفتہ ہو جاتے ہو  رسول اللہ ص کا عہد  رسول ص کا پیمان  بے توجہی کا شکار ہے  نابینا لوگ ، ناتواں و نادار لوگ جو اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے  یہ سب کے سب شہر میں  بے پناہ و  بے یاور و مددگار ہو گئے ہیں کوئی انہیں نہیں پوچھتا   تم لوگ ان پر رحم نہیں کرتے  اپنی شان و منزلت کے مطابق تم عمل نہیں کرتے ہو جو لوگ اس راستے میں خدمت کر رہے ہیں تم انہیں پوچھتے بھی نہیں ہو  چرب زبانی کے ساتھ  ظالموں  کی ہمراہی کے ذریعہ تم نے انہیں  تحفظ فراہم کیا ہوا ہے [9]۔ آپ ایک اور مقام پر   صاحبان اقتدار کی سب سے بری صفت   دشمنوں سے خوف ، سخت دلی ،  اور دینے کے وقت  کمزوروں کو عطا میں کنجوسی  بیان فرماتے ہیں [10]۔

سید الشہداء علیہ السلام کی سیرت کو دیکھئے انکے وجود کے اندر غریبوں اور ناداروں یتیموں اور بے نواوں کے لئے خدمت کے  جذبہ کو دیکھئے  ، انکے وجود میں محروم و مظلوم طبقہ کو لیکر پائی جانے والی تڑپ کو دیکھئے اور اب غور کیجئے کہ ان ایام عزا میں ہم کتنا سید الشہدا ع  کے کردار سے خود کو نزدیک کرنے میں کامیاب ہو ئے ہیں ، ہم کہاں ہیں وہ کہاں ہیں ہماری فکر کہاں انکی فکر کہاں ہمارا انداز کہاں انکا انداز کہاں ؟  یقینا  ان مجالس کا ان پروگراموں کا ایک مقصد ہی ہے کہ ہم اس راہ سے آشنا ہوں جو سید الشہداء  ع کی تھی اس راستے پر چلنے کا ہم عہد کریں جس پر چلتے ہوئے سید الشہداء ع نے اتنی بڑی قربانی پیش کی ، اس قربانی کا تذکرہ ہے ہی اس لئے کہ ہم اپنے وجود  میں وہ جذبہ لے کر آئے جو امام حسین ع اور ان کے اصحاب با وفا کا جذبہ تھا حق کو حق کہہ سکیں باطل کو باطل کہہ سکیں  مظلوموں کی فریادوں کو اس کان سے سن کر اس کان سے نہ نکالیں بلکہ سید الشہدا ع کی طرح کوشش کریں کہ جس حد تک ممکن ہو کسی مشکل کو حل کر سکیں  اب کتنی عجیب بات ہوگی خدا نخواستہ یہی غم یہی فرش عزا کسی کو مشکل میں ڈالنے کا سبب بن جائے اس فرش عزا سے کسی کی دلآزاری ہو  اسی سے کسی مریض کو خدا نخواستہ تکلیف ہو

فرش عزا محض ہمیں غم منانا نہیں سکھاتا بلکہ اس غم کے سایے میں معاشرے کی تعمیر کا ہنر بھی سکھاتا ہے اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم سماجی مسائل میں  کس انداز سے دلچسپی لے رہے ہیں  کتنا توجہ معاشرے میں کمزور و ضعیف طبقے پر ہماری ہے اور کتنا محض کچھ مجالس منعقد کر کے ہم مطمئن ہیں کہ ہم نے غم منا لیا۔

حواشی

[1]  ۔الإمام علیّ علیه السلام: إنَّکُم لَن تَسَعُوا النّاسَ بِأَموالِکُم، فَسَعوهُم بِطَلاقَةِ الوَجهِ و حُسنِ اللِّقاءِ، فَإِنّی سَمِعتُ رَسولَ اللّهِ صلی الله علیه وآله یَقولُ: إنَّکُم لَن تَسَعُوا النّاسَ بِأَموالِکُم فَسَعوهُم بِأَخلاقِکُم (الأمالی (صدوق)، ص۶۲، ح۲۳ و ص۵۳۱، ح۷۱۸؛ ر. ک: کتاب من لا یحضره الفقیه، ج۴، ص۳۹۴، ح۵۸۳۹). عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَیْنِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّه علیه السلام یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّه صلی الله علیه وآله : یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! إِنَّکُمْ لَنْ تَسَعُوا النَّاسَ بِأَمْوَالِکُمْ، فَالْقَوْهُمْ بِطَلَاقَةِ الْوَجْه و حُسْنِ الْبِشْرِ (الکافی، ج۲، ص۱۰۳،

[2]  ۔ مِنْ كِتَابِ قَضَاءِ اَلْحُقُوقِ ، عَنِ اِبْنِ مِهْرَانَ قَالَ: كُنْتُ جَالِساً عِنْدَ مَوْلاَيَ اَلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا اِبْنَ رَسُولِ اَللَّهِ إِنَّ فُلاَناً لَهُ عَلَيَّ مَالٌ وَ يُرِيدُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَ اَللَّهِ مَا عِنْدِي مَالٌ أَقْضِي عَنْكَ قَالَ فَكَلِّمْهُ قَالَ فَلَيْسَ …

بحار الأنوار ؛ ج 71 , ص 315

[3]  ۔ وَ اَللَّهِ مَا عِنْدِي مَالٌ أَقْضِي عَنْكَ

بحار الأنوار ؛ ج 71 , ص 315

[4]  ۔ قَالَ فَكَلِّمْهُ قَالَ فَلَيْسَ لِي بِهِ أُنْسٌ وَ لَكِنِّي سَمِعْتُ أَبِي أَمِيرَ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ مَنْ سَعَى فِي حَاجَةِ أَخِيهِ اَلْمُؤْمِنِ فَكَأَنَّمَا عَبَدَ اَللَّهَ تِسْعَةَ آلاَفِ سَنَةٍ صَائِماً نَهَارَهُ قَائِماً لَيْلَهُ .

بحار الأنوار ؛ ج 71 , ص 315

[6]  ۔ ابن شہر آشوب ،  مناقب آل ابی طالب جلد ۳ ص ۲۲۱

[7]  ۔ قَالَ شُعَيبُ بنُ عَبدِالرَّحمنِ الخُزاعى: وُجِدَ عَلى ظَهْرِالْحُسَيْنِ بْنِ عَلِىٍّ عليهماالسلاميَوْمَ الطَّفِّ اَثَرٌ، فَسَأَلُوا زَيْنَ الْعابِدينَ عَنْ ذلِكَ. فَقالَ: هذا مِمّا كانَ يَنْقُلُ الْجِرابَ عَلى ظَهْرِهِ اِلى مَنازِلِ الأرامِلِ وَ الْيَتامى وَ الْمَساكينِ

[مناقب 4: 66 بحار 44: 190 ح 3]

[8]  ۔ فَأَمّا حَقُّ الضُّعَفاءِ فَضَیَّعْتُمْ وَ أَمّا حَقُّكُمْ بِزَعْمِكُمْ فَطَلَبْتُمْ أَنْتُم تَتَمَنَّوْنَ عَلَی اللّهِ جَنَّتَهُ وَ مُجاوَرَةَ رَسُلِهِ وَ أَمانًا مِنْ عَذابِهِ؟!

تحف العقول، ص 237 و 238، بحار الانوار، ج 97، ص 80.

[9]  ۔ «وَ قَدْ تَرَوْنَ عُهُودَ اللَّهِ مَنْقُوضَةً فَلا تَغْضَبُونَ وَانْتُمْ لِنَقْضِ ذِمَمِ آبائِکمْ تَقْرَعُونَ و ذِمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلی الله علیه و آله مَحْقُورَةٌ وَالْعُمْی وَالْبُکمُ وَالْزَّمِنُ فی الْمَدائِنِ مُهْمَلَةٌ لاتَرْحَمُونَ وَلا فی مَنْزِلَتِکمْ تَعْمَلُونَ وَلا مِنْ عَمَلٍ فیها تَعْتِبُونَ وَبِالْادِّهانِ وَالْمُصانَعَةِ عِنْدَ الظّلَمَةِ» تَأْمَنُونَ

تحف العقول، ص 237، 238؛ بحارالأنوار، ج 97، ص 80؛ فرهنگ سخنان امام حسين عليه السلام، ص 270.

[10]  ۔ شر خصال الملوك: الجبن من الأعداء، والقسوة على الضعفاء، والبخل عند الاعطاء

موسوعة كلمات الإمام الحسين (ع) – لجنة الحديث في معهد باقر العلوم (ع) – الصفحة ٩٢٨