امام خمینی رضوان اللہ تعالی اور ثقافتی یلغار سے مقابلہ

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا نظریہ تھا ’’ کسی بھی قوم کی سعادت کا سرچشمہ اسکا فرہنگ ہے کسی بھی قوم کی بدبختی کی پہچان بھی اسکا کلچر ہے ‘‘۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: امام خمینی اس عظیم شخصیت کا نام ہے جنہوں نے اسلامی بیداری کا ایسا چراغ جلایا کہ آج ہر طرف اس کی ضوباریوں کو اسلامی ثقافت واسلامی تہذیب کے آئینہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
یوں تو آپ کی شخصیت کے سلسلہ سے بہت کچھ لکھا گیا ہے اور مسلسل خطباء و مقررین مختلف کانفرنسوں اور سمیناروں میں آپ کے افکار و نظریات اور آپکی شخصیت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے نظر آتے ہیں کئی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں آپ کے اوپر پی ایچ ڈی کی گئیں کہی جگہوں پر آپ کے افکار و نظریات و آپکی کرشماتی و معجزاتی شخصیت پر آج بھی ڈاکٹریٹ کے لئے آج بھی تحقیق ہو رہی ہے ان سبھی کاوشوں کی افادیت اپنی جگہ پر ہے لیکن آپکے افکار و نظریات میں ایک غیر معمولی اور ایک اہم رکن اسلامی تہذیب ہے جس پر مستقل گفتگو کی ضرورت ہے ۔
ثقافتی یلغار اور اسلامی تہذیب کی شناخت کا قائم رہنا :
آج جس دور میں ہم زندگی گزار رہے ہیں وہ ثقافتی یلغار کا دور ہے ، ہر طرف سے اسلامی کلچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، اگر ایران میں اسلامی شناخت کو مٹانے کے لئے مغربی ممالک کی جانب سے ملینز ڈالرز کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے تو اسلامی دنیا میں بھی اسلامی تہذیب کے تارو پور اکھاڑ پھینکنے کے لئے مسلسل مغرب و لیبرل طرز فکر منصوبہ بندی کر رہا ہے ، چونکہ مغرب کے مقابل اگر کہیں دم دار انداز میں کوئی مقابلہ آرائی کر سکتا ہے تو یہ اسلامی کلچر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس صدی کے عظیم فقیہ و نامور عارف و مصلح امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے اسلامی کلچر کے تشخص اور اس کی اپنی انفرادیت و شناخت پر بہت توجہ دی ہے ۔آج اس ثقافتی یلغار کے میدان میں اسلامی تشخص اور اسلامی تہذیب کی شناخت کا قائم و دائم رہنا ہر ایک مسلمان کے لئے فکر مندی کا سبب ہونا چاہیے کہ کیسے ہم اپنی اسلامی تہذیب کے ساتھ جئیں کیسے اپنی شناخت کو باقی رکھتے ہوئے جئیں کس طرح چو طرفہ حملوں کے باوجود اسلامی تہذیب کو بچائیں اگر اسلامی تہذیب کے تئیں فکر مندی نہ ہو تو اسکا مطلب ہے ہمیں اپنے مستقبل کو لیکر کوئی فکر نہیں ہے، مستقبل کی تعمیر میں اپنی تہذیب کے تارو پود کو بچائے رکھنا بہت ضروری ہے ، نہ صرف مستقبل بلکہ آج کے اپنے سماج سماجی ساکھ کو بچانے میں تہذیب کی بقا بہت ضروری ہے اس لئے کہ سماج کی تشکیل کا اہم عنصر یہی تہذیب ہے ۔
سماج کی تشکیل میں کلچر و تہذیب کا بنیادی رول :
کسی بھی سماج کی تشکیل میں آپ غور کریں گے تو پائیں گے کہ کلچر ایک کلیدی حیثیت کا حامل ہے ، امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی نظر میں بھی معاشرے کے اہم ستونوں میں ایک کلچر ہے بلکہ معاشرے کے وجود میں کلچر سے بڑھ کر اور کوئی عنصر نہیں اس لئے کلچر ہی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے ، کلچر سے ہی ایک سماج پہچانا جاتا ہے ، کلچر ہی ایک سوسائٹی کا ترجمان ہوتا ہے ، آپ کلچر کو اس قدر معاشرے کی تعمیر و اس کے ارتقاء میں دخیل مانتے ہیں کہ آپ کا ماننا ہے ’’ اگر کسی ملک میں بگاڑ آ جائے اور ہمیں اس کی اصلاح کرنا ہو تو بغیر کلچر کی اصلاح کے ہم اس بگاڑ کو نہیں سدھار سکتے ، یعنی ایک ملک کی اصلاح بغیر اس کے کلچر کے ممکن نہیں ہے ۔
کلچر کی اصلاح کے بغیر قوم کی اصلاح کیا ممکن ہے ؟
سوچیں جب ایک پورے ملک کی اصلاح بغیر کلچر کے ممکن نہیں ہے تو ہمارے یہاں کے چھوٹے چھوٹے محلوں کو چھوٹے چھوٹے علاقوں کو بستیوں کو کیا بغیر کلچر کی اصلاح کے ٹھیک کیا جا سکتا ہے ، آج ہماری ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ہمارے یہاں کے مصلحین کو اس بات کی فکر تو رہتی ہے کہ ہماری بستیاں بگڑ رہی ہیں ، قریوں اور علاقوں میں معاشرتی بیماریاں ہیں محلوں میں فساد جنم لے رہا ہے اور اس کے لئے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لیکر اصلاح کرتے نظر آتے ہیں لیکن اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ ہمارا کلچر ہماری تہذیب وہ چشمہ ہے جس سے ساری اچھائیاں و برائیاں جنم لیتی ہیں ، حیا ، عفت ، شرافت ، امانت داری ، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ دینا یہ سب کلچر سے ہے ، اب ممکن ہے کسی جگہ مسلمان بہت ہوں شیعہ بہت ہوں لیکن ان کا کلچر وہ نہ ہو جو ہونا چاہیے ہو سکتا ہے دین اسلام ہو لیکن کلچر مغربی ہو ، تو آپ لاکھ وہاں پر کسی ایک بات کو لیکر چیختے رہیں کچھ نہیں ہونے والا ہے ،حجاب کی بات وہاں قابل قبول ہوگی جہاں آپ کے کلچر میں حجاب ہوگا دین میں تو حجاب ہے لیکن دین کی بات کو انسان ہر جگہ کہاں مانتا ہے ، آج بڑی مشکل یہ ہے کہ ہمارا کلچر الگ ہے ہمارا مذہب الگ ہے ، ہماری تہذیب اسلامی ہے لیکن جدید جاہلیت نے ہمیں اپنا لباس پہنایا ہوا ہے ،کتنی ہی ایسی جگہیں ہیں جہاں پر دیکھنے میں آتا ہے کہ مسلمان بچیاں پردہ کرتی ہیں اس لئے کہ وہاں پردہ رائج ہے لیکن جب یہی بچیاں ایک ایسی جگہ پہنچتی ہیں جہاں پردے کو مصیبت جانا جاتا ہے تو ان کا حجاب ختم ہو جاتا ہے ، اسے آپ کلچر کہیں دنیا کی ہوا کہیں یا فیشن کہیں یہ دیکھا دیکھی والا معاملہ بڑا خطرناک ہے اسکو حل کرنا ہے تو اسلامی ثقافت کو اسلامی تہذیب کو اختیار کرنا ہوگا اپنے کلچر پر توجہ دینا ہوگی ، آج کتنی ایسی جگہیں ہیں جہاں پر بعض خواتین مجالس خطاب کرتی ہیں اور بڑی اچھے انداز میں اپنے باتوں کو رکھتی ہیں لیکن بارہا دیکھنے میں آیا کہ وہ نہ قرآنی آیات کو پڑھ سکتی ہیں نہ روایات کو جو بھی لکھنا ہوتا ہے وہ انگریزی میں ہوتا ہے عربی تو دور اردو رسم الخط سے بھی واقف نہیں ہوتیں ایسا ہی ہمارے یہاں نوحہ پڑھنے والے بعض نوجوانوں کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے نوحہ بہت اچھا پڑھتے ہیں لیکن ان کی بیاض دیکھیں تو یا تو بیاض ہوتی ہی نہیں موبائل نے بیاض کا تصورہی ختم کر دیا اگر کہیں مل جائے تو بیاض میں یا دیوناگری میں لکھا ہوتا ہے یا رومن میں اردو رسم الخط سے یہ بڑے بڑے نوحہ خان نابلد ہوتے ہیں۔
ہمارا مذہبی سرمایہ اور ہماری زبان :
یہ افسوس کا مقام ہے ہندوستان میں اردو ہماری تہذیب کا حصہ ہے ہمارا تشخص ہے، ہمارا ایک بڑا دینی سرمایہ اردو میں ہے، یہ اردو سے ناواقفیت جو ایک عیب ہے آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے ایک حسن میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے ، کسی کو اردو آنا اب کوئی حسن کی بات نہیں بلکہ لوگ ترچھی نظر سے دیکھتے ہیں کہ اچھا آپ اردو پڑھتے لکھتے ہیں اور اسکا سیدھا مطلب لوگ یہ نکالتے ہیں کہ انہیں انگریزی تو آتی نہیں ہوگی اسی لئے اردو میں لکھتے پڑھتے ہیں ، یہ ایک بہت بڑی بیماری ہے ، سوچیں ہم بات اگر میڈیکل کی سائنس کی ، دنیا کے کسی شعبہ حیات کی کریں اور اس کے لئے انگریزی یا ہندی زبان کا استعمال ہو تو ٹھیک ہے لیکن جب ہم بات دین کی کرتے ہیں قوم کی کرتے ہیں کربلا کی کرتے ہیں دینی تعلیمات کی کرتے ہیں اس پر بھی اپنی قومی زبان میں لکھا پڑھا نہ جائے تو کیا یہ افسوس کی بات نہیں ہے؟ اور جب کسی سے پوچھا جاتا ہے سوال ہوتا ہے کہ آپ نے قصیدہ تو بہت اچھا پڑھا سلام تو بہت اچھا پڑھا نوحہ تو بہت پردرد تھا ذرا دیکھیں کیسا ہے تو ہمارے سامنے رومن یا ہندی رسم الخط یہ کہہ کر پیش کر دیا جاتا ہے کہ اردو و ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور اس بات کو لیکر کوئی پچھتاوا بھی نہیں ہوتا اسکا مطلب کیا ہے؟ ہم یورپ میں تو پیدا نہیں ہوئے نہ کسی انگریز کی اولاد ہیں پھر یہ تحریر سے لیکر تقریر تک کس کلچر کو لیکر آگے بڑھ رہے ہیں ؟

کامیابی و ناکامی کا معیار :
امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا نظریہ تھا ’’ کسی بھی قوم کی سعادت کا سرچشمہ اسکا فرہنگ ہے کسی بھی قوم کی بدبختی کی پہچان بھی اسکا کلچر ہے ‘‘۔
ہم دیکھیں ہمارا کلچر کیا ہماری سعادت مندی کو بیان کر رہا ہے یا ہماری بدبختی و ناکامی کو ۔کلچر و فرہنگ کی اہمیت اتنی ہی ہے کہ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : قوموں کی ترقی میں انکے کلچر کے رول کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کلچر کے بارے میں جتنا کہا جائے کم ہے ۔
الغرض آج ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ جس ملک میں ہم رہ رہے ہیں وہاں دوسرے مذاہب اور ہمارے قومی کلچر کے درمیان کوئی سرحد ہے یا نہیں ؟ گنگا جمنی تہذیب کے حدود کیا ہیں ؟ کیا گنگا جمنی تہذیب ہم سے یہ کہتی ہے کہ ہم اپنے اسلامی حدود کو فراموش کر دیں یا اسلامی دائرہ فکر کے اندر رہتے ہوئے بھی ہم دیگر ادیان و مذاہب کے ساتھ مل کر صلح آمیز زندگی جی سکتے ہیں ؟ کیا ہماری طرح دوسروں نے بھی ہمارے لئے اپنی زبان و اپنی تہذیب کو چھوڑ دیا ہے یا پھر وہ پہلے سے زیادہ سختی و شدت کے ساتھ اپنے اصولوں پر کاربند ہیں اور ہم ہی ہیں جنہیں اپنے کلچر کی فکر نہیں ۔
ایک طرف ایک جامع دین ہے اس کے جامع اصول ہیں اس کی ہمہ گیر تہذیب ہے ایک ایسی وراثت ہمارے دین نے ہمارے حوالے کی ہے کہ ہم ہر ایک چیز سے بے نیاز ہیں اگر دینی اصولوں کو لیکر آگے بڑ ھیں تو ایسا نہیں کہ یہ اصول ہمارے معاشرے کی ترقی میں رکاوٹ بنیں بلکہ یہ اصول تو ہمیں اور بھی آگے بڑھنے کا جذبہ دیتے ہیں ، اب سوچنے کی ضرورت ہے ہم کہاں جا رہے ہیں ؟ اگر ہمارا مقصد اسلام ہے ہمارا اسٹیشن آخرت ہے تو کیا ہم مغرب کی ٹرین میں بیٹھ کر آخرت کی نجات کی منزل تک پہنچ جائیں گے اگر ہمارا مطمع نظر ہماری منزل دین ہے تو کیا دنیا کی رنگینیوں کے جہاز سے ہم دینی فلاح کی منزل تک پہنچ جائیں گے ؟ ہم سب کو اس بات پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے گھر کا دین ہمارے محلے کا دین ہمارے قریے کا دین اگر اسلام ہے تو ہمارے گھر کا کلچر کیا ہے ہمارے رشتہ دار اگر اسلام کو اپنا دین مانتے ہیں تو قرآن ان کی زندگی میں کیوں نہیں ہے ؟
اسلامی تہذیب کے نشانات کہیں کیوں نہیں دکھتے اسلامی شخصیتوں کے نقوش کیوں نظر نہیں آتے امید ہے کہ ان مبارک و مسعود ایام میں جو سیدۃ النساء العالمین علیہا السلام و انکے فرزند امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی آمد کے ایام ہیں ان میں جشن منانے کے ساتھ ساتھ انکے بتائے ہوئے اصولوں پر بھی کاربند ہونے کا عہد کر کے زندگی کو اسلامی تہذیب کا آئینہ دار بنا سکیں گے ۔
اس لئے کہ وہ قوموں تاریخ کے قبرستان میں منوں ٹن خرافات و رسومات کی مٹی تلے دفن ہو جاتی ہیں جو اپنی تہذیب کو بچانے میں ناکام ہوتی ہیں ،قوموں کی شناخت و بقا انکی تہذیب و انکے کلچر سے ہوتی ہے ،ہر قوم اپنے کلچر سے جانی اور پہچانی جاتی ہے وہ قوم مردہ ہے جس کے وجود سے تہذیب کی روح نکل گئی ہو اس لئے ضروری ہے کہ اس ثقافتی یلغار کے دور میں اپنی ثقافت و اپنی شناخت کی جنگ اپنے قوت بازو سے لڑی جائے دوسروں کا دست نگر رہنا خود اپنی تہذیب کا سر اپنے ہاتھوں اتارنا ہے یقینا اس خوشی کے اس موقع پر جب ہم ان دو عظیم ہستیوں کے سینہ گیتی پر قدم رکھنے کا جشن منا رہے ہیں جنہوں نے اسلامی ثقافت کے درخت کی تہذیب شہادت سے آبیاری کر کے ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید و پربار و با ثمر بنا دیا۔ آج ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ یا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی با برکت ذات کی قربانیوں سے ہے یا انکے فرزندوں کی جانفشانیوں سے ہے تو ہم پر لازم ہے کہ جہاں ان ہستیوں کو جھک کر سلام کریں وہیں اپنا بھی محاسبہ کریں کہ ثقافتی جنگ کے آج کے میدان میں ہم کہاں کھڑے ہیں ۔۔۔؟