امت کی پیٹھ میں چھرا؛ یہودی ریاست کے سربراہ کے سامنے اردوگان کی کرنش پر رد عمل

عجیب دنیا ہے یہ، جہاں فلسطینی کاز کی حمایت اور صہیونی ریاست اور یہودیت کے خلاف جدوجہد کے دعویدار یکے بعد از دیگرے اپنا اصل چہرہ بےنقاب کررہے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ حق و باطل ابھر کر سامنے آیا ہے، ہدایت ضلالت سے الگ ہوکر ابھری ہے۔ تو جو طاغوت [بڑے اور چھوٹے شیطانوں] کو چھوڑ کر اللہ پر ایمان ﻻئے تو اس نے مضبوط رسی کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گی۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: یہودی ریاست [بدترین دشمن] کے ساتھ بھائی چارے کی پینگیں بڑھانے پر مسلمانوں نے اپنا رد عمل سوشل میڈیا پر دکھایا۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والا عمومی رد عمل کچھ یوں تھا:
* اردوگان نے یہودی صدر کا استقبال کرتے ہوئے ایک جملہ بولا جو اسلامی تاریخ میں ترکی کے اخوانی دیوار پر کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوگا.
1۔ برادر ایسا جسے نظرانداز نہ کیا جاسکے!
اردوگان نے یہودی صدر کا استقبال کرتے ہوئے ایک جملہ بولا جو اسلامی تاریخ میں ترکی کے اخوانی دیوار پر کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوگا؛ انھوں نے کہا: “اسرائیل وہ بھائی ہے جس کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا”۔
انھوں نے کہا: اسرائیلی صدر کا دورہ ترکی دو ریاستوں کے باہمی تعلقات میں ایک تاریخی موڑ ہے؛ اسرائیل اور ترکی کو چاہئے کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید گہرائی بخشیں۔
انھوں نے کہا: ترکی اور اسرائیل کے درمیان مالیاتی لین دین اطمینان بخش ہے مگر اس میں مزید بہتری آنے کی گنجائش ہے۔
۔۔۔۔۔۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مصر کے اخوانی صدر نے بھی آنجہانی یہودی صدر شمعون پیریز کو اسی طرح کا جملہ بولا تھا جس کے بعد ان ہی کی کوتاہ فکری کی وجہ سے مصری عوام کی طویل جدوجہد اکارت گئی اور یہودی نواز جنرل السیسی نے امریکہ، سعودیہ اور غاصب دشمن اسرائیل کی مدد سے بغاوت کرکے ان کی حکومت کا خاتمہ کیا اور انہیں جیل میں بند کیا جہاں بہت ہی افسوسناک صورت حال میں ان کا انتقال ہؤا۔
۔۔۔
2۔ اصطفائی افکار نظریئے کو مسخ کر دیتے ہیں
جناب اردوگان نے 2014ع‍ میں کہا تھا: ہم کسی وقت بھی اسرائیل کے دوست نہیں بن سکتے، کم از کم جب تک کہ میں ترکی کا صدر ہوں!
یہودی صدر ہرزوگ کے ساتھ انقرہ میں ملاقات کے وقت جناب اردوگان کا نیا جملہ 2022ع‍: “اسرائیل وہ بھائی ہے جس کو خطے میں کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا”۔
یہ اردوگان ہیں جنہوں نے ایک طرف سے اپنے عوام کو غربت اور بھوک میں مبتلا کیا ہے، اور دوسری طرف سے 19 سال کے طویل عرصے سے منافقت اور ریاکاری کا مظاہرہ کرکے اسلام اور انسانیت کا نعرہ لگایا اور اب ثابت ہؤا کہ وہ 19 سال بھی اور آج بھی صہیونیت اور دہشت گردی کی خدمت پر مامور ہیں۔
اس میں شک نہیں ہے کہ اصطفائی افکار کسی بھی نظریئے کو مسخ کر دیتے ہیں۔ اور اس کی مثالیں بہت ہیں۔
۔۔۔
3۔ اردوگانی نفاق و ریا کے پردے چاک ہو گئے
جن دنوں اردوگان نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاؤوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے دوران مکاری دھوکہ بازی اور منافقت کا شو کھیل رہے تھے اور اس وقت کے یہودی صدر شمعون پیریز کو [گویا] لتھاڑ رہے تھے، اور ہم میں سے بہت لوگ ایسے تھے جو خوش ہورہے تھے اور اس کو زمانے کے “خالد بن ولید” کا لقب دے رہے تھے، ہم اردوگان کے بارے میں ان کے استاد اور ترکی کے سابق وزیر اعظم مرحوم نجم الدین اربکان کے اقوال کو بھول گئے تھے جن کی حکومت کا تختہ بغاوت کے ذریعے الٹ دیا گیا تھا۔ ڈاؤوس میں اردوگان کے کردار نے میڈیا نے جو طوفان بپا کیا تھا اس میں جناب اربکان کا موقف بالکل دب گیا تھا جو اب ایک بار پھر منظر عام پر آنے لگا ہے۔
جناب اربکان مرحوم نے اردوگان کی منافقت اور اس کی جماعت کی ریاکاری کو عیان کیا تھا اور کہا تھا کہ اردوگان کی جماعت انصاف و ترقی (Justice and Development Party) کو صہیونیوں نے قائم کیا اور صہیونی ہی اس جماعت کے لئے منصوبہ سازی کرتے ہیں۔
اس زمانے میں اردوگان اور ان کی جماعت کے بارے میں جناب اربکان کا موقف ہمارے لئے ناقابل فہم تھا اور ڈاؤوس میں ان کے موقف کی وجہ سے تو اربکان کا موقف غلط نظر آنے لگا تھا لیکن اب ہم سمجھتے ہیں کہ وہ بہت زیرک، دوراندیش اور سچے انسان تھے، یہاں تک کہ اردوگان نے ناجائز یہودی ریاست کے سربراہ کے ساتھ ملاقات میں یہ تک کہہ دیا کہ “اسرائیل وہ بھائی ہے جس کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا”۔
۔۔۔
4۔ ناقص اسلام پسندی کی مضحکہ خیز تصویر / بوقلموں صفت ترین حکمران عالی جناب اردوگان
– کٹی ہوئی ناقص اسلام پسندی کی ایک مضحکہ خیز تصویر، تاریخ کی مسلّمہ تضحیک، اور نہ صرف اسلام بلکہ ترک قوم پرستوں اور کمال آتاتورک کے آتش مزاج عقیدتمندوں کا اعلانیہ مذاق اڑانا۔
غاصب اسرائیلی ریاست جو ایک ایسی سرزمین پر قائم کردہ غاصب اور جعلی ریاست کا سربراہ، جو عثمانی سرزمین کے ٹکڑوں پر مرحوم سلطنت کے ویرانوں پر سیاسی یہودیت کے آ ٹپکنے سے معرض وجود میں آئی ہے؛ کا سربراہ اسی سرزمین پر – جہاں جناب اردوگان ایک بار پھر مذکورہ سلطنت کے احیاء کے سپنے دیکھ رہے تھے – جناب اردوگان کی بانہوں میں بانہيں ڈالے، پوری امت پر ہنس رہا ہے اور فلسطین کی آزادی کو خیال باطل قرار دے رہا ہے، بےزبانی کی زبان میں۔
خطے کے اخوانیوں کے وہی سوپر اسٹار رجب طیب اردوگان، اپنے قرین (ہمزاد اور) غاصب صہیونی ریاست کے سربراہ اسحاق ہرزوگ کے کندھے سے کندھا ملا کر گھوم رہے ہیں، جو صرف دو عشرے قبل لادینیت کا گہوارہ بنی ہوئی سرزمین (ترکی) پر احیائے اسلام کا نعرہ لگا کر انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے، یہ وہ زمانہ تھا کہ آنجناب سیکولرزم کی مذمت کرتے تھے اور، اور تو اور، ہر سال جنوری میں منائے جانے والے “جشنِ سالِ نو” تک کو بھی “سیکولر کا اصول سمجھتے تھے!
– صہیونی صدر نے ایک اسلامی سرزمین پر، ایسے شخص کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر قبلہ اول کی آزادی کے لئے تڑپنے والی امت مسلمہ کی دل آزاری کی جو کسی وقت “مرمرہ” نامی بحری جہاز غزہ کے ساحل کے لئے روانہ کرتا تھا تاکہ عبرانی بولنے والی غاصب یہودی فوج اس پر گولہ باری کرے اور وہ ایک جہاز اور کچھ مخلص مسلمانوں کے خون کی قیمت دے کر اپنے لئے اسلام پسندی کا ایک بےبنیاد اور جعلی نسخہ خرید سکے۔
غاصب اسرائیلی صدر کا سربراہ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر غزہ کے مسلمانوں کے غم میں زخمی دلوں پر نمک چھڑکتا دکھائی دیا جس کے اسلام پسندی کے – ڈیڑھ عشرے پر محیط – نعروں اور دعؤوں نے بعض انقلابیوں اور مسلم ممالک کے حکمرانوں کے کٹھ پتلی پن سے ناامید ہونے والے مسلمانوں کو بھی ورغلایا تھا، اور کچھ لوگوں نے تو یہ تک بھی کہہ دیا کہ اب مسلم امہ کو امام خمینی کے اسلامی انقلاب سے رشتہ توڑ کر اپنا رشتہ اسلام کے اردوگانی نسخے سے جوڑنا چاہئے! اس وقت ان تبصروں کو دس برس اور اردوگان کی اٹھان – یعنی رنگ برنگے فرقوں اور اسلام پسندی کے جعلی اور ناقص نسخوں کے ظہور کو دو عشرے ہوئے ہیں؛ وہ اٹھان بھی پھیکی پڑ گئی ہے اور یہ نسخے بھی جعلی ثابت ہوئے ہیں۔
– مختلف جعلی نسخوں کی دھول بیٹھ گئی ہے، میدان بالکل عیاں اور واضح ہوگیا ہے پہلے سے کہیں زیادہ، فرعونوں کی سرزمین بھی انتہائی عبرتناک انداز سے اپنے انقلاب کا جنین (embryo) بیچ راستے گرا چکی ہے؛ قحط الرجال کی کیفیت سے جنم لینے والے اخوانی صدر محمد مُرسی بھی ناامیدیوں سے جنم لینے والی بےحسی کے قیدخانے میں اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں! وہی مرسی جو غیر وابستہ تحریک کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے چند گھنٹوں کے لئے تہران آئے لیکن مغرب، اسرائیل اور آل سعود کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر، ایرانی صدر اور دوسرے حکام سے ملاقات کئے بغیر چلے گئے ایران اور اسلام کے دشمنوں کو یہ جتانے کے لئے کہ “ہم ان کے ساتھ نہیں ہیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں” ہم تو ان کا تمسخر اڑا رہے تھے”؛ اور پھر فلسطینی مسلمانوں کے قاتل اسرائیلی صدر شمعون پیریز کو اسرائیل کی تاسیس کے موقع پر [جسے مسلمانان عالم یوم النکبہ (بد بختی کا دن) اور قبلہ اول کے یہودیوں کے ہاتھوں غصب کا دن سمجھتے ہیں] مبارکباد کا خط لکھ کر اخوانیوں کی طویل مگر سطحی جدوجہد اور مصری عوام کے اسلامی انقلاب پر پانی پھیر کر اس کو اپنا بھائی اور شقیق قرار دیا۔ اور اب رجب طیب اردوگان کی اسلام پسندی کا شربت سکنجبین صفراء کے التیام کے بجائے اس [صفراء] کے بڑھنے کا سبب بنا ہؤا ہے؛ جبکہ امام خمینی کے انقلاب کا انجن پوری تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے مقاومت کی گاڑی کے ساتھ، 43 سال کے عرصے سے؛ جو نہ تو ترکوں کی طرح ستارۂ داؤد (David star) کی روشنی [اور نہ ہی اس ستارے کے حامل یہودی پرچم کے تلے] روشنی کا بھیک مانگتا ہے، نہ ہی مصر کی طرح اپنے مقدرات کا فیصلہ یہود نواز اخوانیوں کے سپرد کرتا ہے، نہ ہی نفع و نقصان کے چکروں میں الجھتا ہے۔ کامیابیاں اس کی بیان کی محتاج نہیں ہیں۔ بےشک خمینی روحِ خدا تھے زمانے کے پیکر میں / محمد صادق علی زادہ
۔۔۔
5۔ یہ لیجئے ایک نیا تجربہ
ایک وہم زدہ سربراہ مملکت کی حماقتوں کا ایک مجموعہ
میں وہ لمحہ نہیں بھول پاؤں گا جب انھوں نے ڈاؤوس کے اجلاس میں شمعون پیریز کے مقابلے میں موقف اختیار کیا؛ تو بعض لوگوں نے (ترکی-اسرائیل سفارتی، تجارتی اور معاشی تعلقات کو نظر انداز کیا اور) انقلابیوں کو طعنہ دیتے ہوئے کہا: اسے کہتے ہیں اسرائیل کا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ، یہاں تک کہ پیریز کے ساتھ اردوگان کا برتاؤ ہر محفل و مجلس کی شیرینی میں بدل گیا تھا!
یہاں تک کہ جو کوٹ اس دن اردوگان نے پہن لیا تھا، “اردوگانی کوٹ” کے طور پر ان دنوں کا فیشن بن گیا۔
لیکن اردوگان نے مختلف شعبوں میں بوقلموں صفتی کی انتہا کردی اور ان کی اس چند رنگی کے اثرات نہ ترکی کے لئے مفید واقع ہوئے اور نہ ہی اسلام کے لئے۔
وہ کئی برسوں تک جس دن غُراتے رہے مگر درپردہ اور امت کی آنکھوں سے دور، یہودی ریاست کو مثبت اشارے بھی دیتے رہے اور ہری بتیاں بھی دکھاتے رہے؛ کیونکہ جو کچھ انھوں نے سیاست سے سمجھ لیا تھا، بدقسمتی سے، وہی تھا، جو دنیا اسلام کے مغرب نواز عشروں سے سیکھتے رہے ہیں، یعنی ایک قوم کے مقدرات مغرب کی خوشامد گوئی سے جوڑ لینا ۔۔ حالانکہ اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے ارشاد فرمایا ہے کہ: یہود ونصاریٰ آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے دین (و مذہب) کے پیرو نہ بن جائیں۔
عجیب دنیا ہے یہ، جہاں فلسطینی کاز کی حمایت اور صہیونی ریاست اور یہودیت کے خلاف جدوجہد کے دعویدار یکے بعد از دیگرے اپنا اصل چہرہ بےنقاب کررہے ہیں۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ حق و باطل ابھر کر سامنے آیا ہے، ہدایت ضلالت سے الگ ہوکر ابھری ہے۔ تو جو طاغوت [بڑے اور چھوٹے شیطانوں] کو چھوڑ کر اللہ پر ایمان ﻻئے تو اس نے مضبوط رسی کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گی۔۔۔” (بقرہ – 256) / محمود باقری
۔۔۔
6۔ ایک پروفیسر، ڈاکٹر علي اكبر رائفي پور
صرف ایک صہیونی صہیونی کو بھائی کہہ سکتا ہے۔
منافق بھیڑیئے کے دسترخوان پر بیٹھ کر شکار کے گوشت سے لطف اندوز ہوتا ہے، اور گڈریئے کے ساتھ بیٹھ کر آنسو بہاتا ہے۔
۔۔۔
7۔ اردوگانی جماعت کے قیام میں صہیونیوں کا کردار، مرحوم نجم الدین اربکان کے زبانی
سابق اسلام پسند ترک وزیر اعظم اور ناخلف شاگرد رجب طیب اردوگان کے استاد “نجم الدین اربکان مرحوم” نے اپنی وفات سے چند ہی روز پہلے کہا تھا کہ جس نے اردوگان کی جماعت “انصاف و ترقی پارٹی” (AK PARTI) کی بنیاد رکھی ہے اور اس کے لئے پروگرام لکھتا ہے وہ صہیونزم ہے!
یاد رہے کہ نجم الدین اربکان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے پانچ سال بعد انصاف و ترقی پارٹی نے دوسری جماعت کے تعاون کے بغیر پارلیمانی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی؛ اور اردوگان مدتوں سے مخلوط حکومتوں کا تجربہ کرنے والے ملک ترکی میں یک جماعتی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔
امریکہ جتنا کہ نجم الدین اربکان کا دشمن تھا اتنا ہی اردوگان اور ان کی جماعت کا دوست بنا۔ امریکیوں نے اردوگان کی [نام نہاد اسلام پسند] حکومت کو لبرلزم اور سیکولرزم کے لئے فرشتۂ نجات قرار دیا جو عالم اسلام میں مغرب کو درپیش مسائل حل کرسکتی ہے اور مسلمانوں کے درمیان بنیادپرستی اور مغرب دشمنی کے جذبات اور رجحانات پر قابو پا سکتی ہے۔ کیونکہ اس نئی جماعت اور حکومت اور اس کے زعیم نے انہیں اسی طرح کی ضمانتیں فراہم کی تھیں!
مرحوم اربکان اسلامی مقاومت کے حامی اور صہیونی ریاست کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے کو مسترد کرتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔