امریکہ میں انسانی حقوق کی وسیع پامالی

امریکہ میں سنہ ۲۰۱۵ع‍ اور سنہ ۲۰۱۸ع‍ کے درمیان انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کو انسانی حقوق کے رپورٹروں اور ماہرین سمیت بین الاقوامی ماہرین، نیز اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کی آراء اور رپورٹوں کی روشنی میں اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: امریکہ دنیا بھر میں اپنا تسلط جمانے کے لئے انسانی حقوق بالخصوص حقوق نسواں وغیرہ کی پامالی کے دعوے کرتا ہے اور دوسرے ملکوں پر الزام دھرتا ہے لیکن ساتھ ساتھ کچھ خودمختار ممالک اور بعض انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے امریکہ میں انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی پامالی کے بارے میں بھی کبھی کبھی کچھ تنقید آمیز باتیں سنائی دیتی ہیں گوکہ منفعل دنیا اپنی صفائیاں پیش کرتے کرتے امریکی دنیا کی خوشنودی میں اس قدر مصروف ہے کہ اسے امریکیوں کے ہاتھوں انسان کی تذلیل کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کا کردار ہم سب کے سامنے ہے، کبھی تو لگتا ہے کہ یہ عالمی ادارہ امریکہ کی غلامی کو اپنا فریضہ سمجھتا ہے جیسا کہ بہت سے سیاسی اور عسکری امور میں دیکھا جاسکتا ہے؛ لیکن امریکہ کے اندر انسانی حقوق کی حالت اتنی نازک ہوچکی ہے کہ امریکہ اور یورپ کی جارحیتوں کے لئے راہ ہموار کرنے والے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کو بھی اپنی رہی سہی ساکھ کے بچاؤ کے لئے، بولنا پڑ رہا ہے۔
لندن میں تعینات انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشل (Amnesty International) کی ۲۰۱۶ع‍ کی سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر میں خاتون قیدیوں کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے بیان کرتی ہے کہ خاتون قیدیوں کے لحاظ سے دنیا کا سب سے پہلا ملک امریکہ ہے۔
سب سے زیادہ قیدی خواتین کس ملک میں ہیں؟
سنہ ۲۰۱۶ع‍ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی آخری سالانہ رپورٹ کے ضمن میں دنیا بھر میں خاتون قیدیوں کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ دنیا بھر میں خاتون قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے امریکہ اپنی آبادی کے پیش نظر پہلے درجے پر “فائز” ہے۔
بعض بین الاقوامی ادارے اور خودمختار ممالک عرصہ دراز سے ناقابل انکار دستاویزات پیش کرکے امریکہ میں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں لیکن منفعل دنیا اپنے اوپر لگے الزامات کی صفائیاں پیش کرتے کرتے امریکی دنیا کی خوشنودی میں اس قدر مصروف رہی ہے کہ اسے امریکیوں کے ہاتھوں انسان کی تذلیل کے بارے میں سوچنے تک کی فرصت ہی نہیں ہے۔
انسانی حقوق کی پامالی کا جائزہ دو پہلؤوں سے لیا جاسکتا ہے:
اندرونی لحاظ سے پناہ گزینوں، سرخ فاموں، سیاہ فاموں، زرد فاموں، غرباء اور قیدیوں کے حقوق کی پامالی، جیلخانوں کی حالات و کیفیات، فوجداری قوانین، ملزموں پر پولیس کا تشدد وغیرہ؛ اور بیرونی لحاظ سے جیسے: دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت، دوسرے ممالک پر جارحیت، جیسے: پاکستانی، شامی، افغانی، یمنی اور عراقی عوام پر ڈرون حملے، سائبر حملے، خودمختار ممالک بالخصوص ایران کے عوام پر ظالمانہ معاشی پابندیاں، القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد ٹولوں کی دیکھ بھال اور حمایت وغیرہ۔
دوسرے ممالک پر انسانی حقوق اور انسان دوستانہ اقدامات کی دشمن ریاستوں کی جارحیتوں کی حمایت جیسے: فلسطینیوں اور مقبوضہ فلسطین کے پڑوسی ممالک پر حمایت قابض اور غاصب یہودی ریاست کی جارحیتوں کی حمایت، سعودی ریاست کی یمن پر جارحیت کی حمایت، انسانی حقوق کے کنونشنوں میں عدم شمولیت یا بعض بین الاقوامی مفاہمت ناموں سے علیحدگی۔
اس تحریر میں امریکہ میں سنہ ۲۰۱۵ع‍ اور سنہ ۲۰۱۸ع‍ کے درمیان انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کو انسانی حقوق کے رپورٹروں اور ماہرین سمیت بین الاقوامی ماہرین، نیز اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کی آراء اور رپورٹوں کی روشنی میں اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 

جاری