امریکہ چاہے بھی تو بے وقوفی سے باز نہیں آ سکتا

مشہور امریکی سیاسی ماہر اور ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر سٹیفن والٹ (Stephen M. Walt) نے استدلال کیا ہے کہ لبرلزم کے اصولوں کے نفاذ پر امریکی حکومت کا اصرار، اس مسئلے کا سبب بن رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی غلطیوں سے کبھی بھی سبق حاصل نہ کرسکے؛ اور مسلسل خطاؤں کا ارتکاب کرتی رہے۔ انھوں نے اپنے مضمون کا عنوان "امریکہ چاہے بھی تو بے وقوفی سے باز نہیں آ سکتا" (The United States Couldn't Stop Being Stupid if It Wanted) قرار دیا ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: سٹیفن والٹ – جو بین الاقوامی تعلقات میں “دفاعی حقیقت پسندی” (Defensive realism) کے نظریئے کے خالق اور فارن پالیسی میگزین کے کالم نویس ہیں – نے کئی بار امریکہ کی احمقانہ پالیسیوں کو مورد تنقید قرار دیا ہے اور لکھا ہے: “امریکہ کی عالمی زعامت کی وکالت کرنے والے کبھی اعتراف کرتے ہیں کہ واشنگٹن نے اپنے آپ کو حد سے زیادہ پھیلا دیا ہے، بے وقوفانہ پالیسیوں پر کاربند رہا ہے، خارجہ پالیسی میں اپنے اعلان کردہ مقاصد میں ناکام رہا ہے اور اپنے اعلان کردہ سیاسی اصولوں کو خود ہی پامال کر دیا ہے۔
سٹیفن والٹ لکھتے ہیں:
بعض اوقات امریکی عالمی زعامت کے حامی اعتراف کرتے ہیں کہ امریکہ نے اپنے آپ کو حد سے زیادہ پھیلا دیا ہے، بے وقوفانہ پالیسیوں پر کاربند رہا ہے، اپنی خارجہ پالیسی کے اعلان کردہ مقاصد میں ناکام رہا ہے، نیز اپنے ہی وضع کردہ سیاسی اصولوں کو پامال کیا ہے۔ وہ ان اقدامات کو افسوسناک انحرافات تو سمجھتے ہیں لیکن اسی اثنا میں وہ ان “شاذ و نادر” غلطیوں سے سبق لے گا اور مستقبل میں زیادہ دانشمندی کے ساتھ عمل کرے گا۔
مثال کے طور پر دس سال قبل، سیاسیات کے ماہرین اسٹیفن بروکس (Stephen Brooks)، جان اکن بیری (John Ikenberry)، اور ولیم ووہلفورتھ (William Wohlforth) نے اعتراف کیا کہ عراق کی جنگ ایک غلطی تھی لیکن انھوں نے اپنی “گہری مصروفیت” () کی پالیسی پر اصرار کیا اور اس کو پھر بھی بڑی امریکی تزویراتی حکمت عملی کی رو سے صحیح آپشن قرار دیا۔ ان کے خیال میں، تمام ریاست ہائے متحدہ پر لازم تھا کہ ایک بے ضرر عالمی نظام برقرار رکھنے کے لئے اپنے موجودہ وعدوں کو برقرار رکھتا اور عراق پر دوبارہ حملہ نہیں کرنا چاہئے تھا؛ جیسا کہ سابق امریکی صدر بارک اوباما نے یہ کہنا پسند کیا کہ “ہمیں صرف اس “احمقانہ گندگی” چھوڑنے کی ضرورت ہے۔
جارج پیکر (George Packer) نے اٹلانٹک میگزین نے امریکی طاقت کا حالیہ دفاع اس اچھی طرح ڈھانپی گئی دلیل کا تازہ ترین نسخہ ہے۔ پیکر نے اپنے مضمون کو ایک واضح غلط موازنے سے شروع کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ امریکی “ہماری بیرونی مذہبی جنگ میں زیادہ روی کرتے ہیں اور پھر ہم اخراجات اور اپنی قوت کم کرنے میں زیادہ روی کرتے ہیں اور ہرگز نہیں رکتے؛ جبکہ اس مرحلے پر معمول کے ممالک اچھے توازن تک پہنچنے کے لئے کوشاں ہوتے ہیں”۔
لیکن جس ملک کے دنیا بھر میں 700 سے زائد فوجی اڈے ہیں؛ اس کے دنیا کے تمام سمندروں میں جنگی گروپ ہیں، درجنوں ممالک کے ساتھ اس نے باضابطہ اتحاد قائم کر لئے ہیں، حال ہی میں اس نے روس کے خلاف نیابتی جنگ (proxy war) کا، چین کے خلاف اقتصادی جنگ کا، افریقہ میں [مبینہ] انسداد دہشت گردی کی جنگوں کا آغاز کیا ہے اور ساتھ ہی ایران، کیوبا، شمالی کوریا وغیرہ میں حکومتوں کو کمزور یا گرانے کی مسلسل کوششیں بھی جاری ہیں؛ تو اس کے باوجود یہ دعوی کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے اخراجات کم کرنے اور تشکیل نو میں سستی، زیادہ روی کرتے ہیں؟ پیکر کا “نفیس توازن” – یعنی ایسی خارجہ پالیسی جو نہ زیادہ گرم ہو اور نہ ہی زیادہ ٹھنڈی ہو اور صرف “صحیح ہو – کا نظریہ اب بھی باعث بنے گا کہ امریکہ تقریبا دنیا کے تمام گوشوں میں اپنے جاہ طَلبانہ مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں رہے۔
بدقسمتی سے پیکر سمیت امریکی بالادستی کے تمام وکالت کاروں کے لئے یہ قبول کرنا بہت دشوار ہے کہ امریکہ جیسا ایک طاقتور لبرل ملک اپنی خارجہ پالیسی کی جاہ طلبیوں کو محدود کر دے۔ میں امریکہ کی لبرل اقدار کو کسی بھی دوسرے شخص کی طرح پسند کرتا ہوں، لیکن “لبرل اقدار اور وسیع طاقت کا امتزاج” اس امر کو تقریباً ناگزیر بنا دیتا ہے کہ امریکہ بہت کم کے بجائے بہت زیادہ آگے بڑھنے کی کوشش کر ڈالے۔ اگر پیکر جیسے لوگ اچھے توازن (Fine balance) کے حامی ہیں تو انہیں مداخلت پسندی کے محرکات کو تقویت پہنچانے کے بارے میں زیادہ اور ان محرکات کو لگام دینے والوں کے بارے میں کم فکرمند ہونا چاہئے۔
امریکہ کے لئے تحمل سے کام لینا اتنا مشکل کیوں ہے؟
پہلی مشکل خود لبرلزم ہے۔ لیبرلزم کا آغاز اس دعوے سے ہوتا ہے کہ تمام انسانوں کو کچھ خاص فطری حقوق حاصل ہیں (جیسے “زندگی، آزادی اور خوشی کی تلاش”)۔ لبرلزم کے پیروکاروں کے لئے بنیادی سیاسی چیلنج بہت مضبوط سیاسی اداروں کا قیام ہے جو ہمیں ایک دوسرے سے محفوظ رکھ سکیں، لیکن وہ اتنے زیادہ مضبوط بھی اور قابو سے باہر بھی نہ ہوں کہ ہمیں ان حقوق سے محروم کر دیں۔ تاہم لبرل ریاستیں – ناقص ہی سہی – سیاسی طاقت کو تقسیم کرکے اس توازن کو قائم کرتی ہیں؛ راہنماؤں کو انتخابات، قانون کی حکمرانی کے استحکام، فکری آزادی، بیان اور اجتماع کی آزآدی اور رواداری کے اصولوں پر تاکید کے ذریعے – جوابدہ بنانا۔ چنانچہ [اگر لبرل کا مطلب آزاد فکری ہو تو] حقیقی لبرلز کے ہاں جائز حکومتیں وہ ہیں جو ان خصوصیات کی حامل ہوں اور ان سے ہر شہری کے فطری حقوق کے تحفظ کے لئے بروئے کار لائیں۔
لیکن جان لینا چاہئے کہ چونکہ ان اصولوں کا آغاز اس دعوے سے ہوتا ہے کہ تمام انسانوں کے حقوق برابر ہیں، لہذا لبرلزم ایک خاص ریاست یا بنی انسان کے ایک ذیلی مجموعے تک محدود نہیں ہونا چاہئے اور اسے اس کے اپنے احاطے کے ساتھ ہم آہنگ [باقی] رہنا چاہئے۔ کوئی بھی حقیقی لبرل شخص یہ اعلان نہیں کر سکتا کہ امریکی، ڈنمارکی، اسٹریلوی، ہسپانوی یا جنوبی کوریائی باشندے ان حقوق کے حقدار ہیں؛ اور بیلاروس، روس، ایران، چین، سعودی عرب، مغربی کنارے (فلسطین) اور دوسرے علاقوں کے لوگ ان کے حقدار نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے، لبرل ریاستیں سختی سے اس رویے کی طرف مائل ہیں جسے جان میئر شیمر (John Mearsheimer) “صلیبی تحریک” (Crusader impulse) کا نام دیتے ہیں اور جہاں تک ان کی طاقت اجازت دے، لبرل اصولوں کو پھیلانا چاہئے ہیں۔ اتفاق سے یہی مسئلہ دوسرے آفاقی آفاقی نظریات کو بھی آ لیتا ہے؛ چاہے وہ مارکسزم-لیننزم کی شکل میں ہوں یا مختلف مذہبی تحریکیں ہوں جو تمام انسانوں کو ایک خاص عقیدے کے زیر اثر لانے کو اپنا فرض سمجھتی ہیں۔ جب کوئی ملک اور اس کے رہنما حقیقی طور پر سمجھتے ہیں کہ ان کے [مثالیت پر مبنی] معیار ہی معاشرے کو منظم کرنے اور اس پر حکمرانی کرنے کا واحد مناسب فارمولہ پیش کرتے ہیں، چنانچہ انہیں دوسروں کو قائل کرنے یا اپنانے پر مجبور کرنے کے لئے کوشاں ہونا چاہئے؛ حالانکہ یہ رویہ، کم از کم، ان لوگوں کے ساتھ کمشکش کا یقینی سبب بنے گا جن کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ جیسا کہ امریکی سینٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے سابق سربراہ رچرڈ بی رسل (Richard Russell Jr.)، نے اسے 1960 کی دہائی میں بیان کیا، “ہمارے لئے کہیں بھی جانا اور کچھ بھی کرنا آسان ہے، ہم ہمیشہ کہیں نہ کہیں جا کر کہیں بھی کچھ کرتے رہیں گے”۔ دنیا میں جب بھی کہیں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، تو امریکہ کے پاس اس کے سلسلے میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ کمزور ریاستوں کے پاس یکساں عرض البلد نہیں ہوتا؛ چنانچہ وہ ایک ہی جیسے فتنوں کا سامنا نہیں ہوتا۔ نیوزی لینڈ بہت سی قابل تعریف خصوصیات کی حامل ایک صحت مند لبرل جمہوریت ہے، لیکن کوئی بھی توقع نہیں کرتا کہ کیویاں (Kiwis) روس کے یوکرین پر حملے، ایران کے جوہری پروگرام یا جنوبی بحیرہ چین میں چینی مداخلت سے نمٹنے میں حصہ لیں گی۔
ایک [امریکی] صدر پابندیاں لگا سکتا ہے، ناکہ بندی کا حکم دے سکتا ہے، طاقت کے استعمال کی دھمکی دے سکتا ہے (یا اسے طاقت کو براہ راست استعمال کرسکتا ہے)، اور تقریباً ہمیشہ امریکہ کو سنگین خطرے میں ڈالے بغیر (کم از کم مختصر مدت میں) بہت سے دوسرے اقدامات بجا لا سکتا ہے۔ ان حالات میں، کچھ کرنے وسوسے کے سامنے ڈٹ جانا انتہائی مشکل ہوگا، خاص طور پر جب ناقدین کا گروہ صبر و تحمل پر مبنی کسی بھی عمل کو ارادوں کی ناکامی، بے جا رواداری، یا امریکی مفادات پر مہلک وار قرار دینے اور ان پر تنقید کرنے کے لئے تیار ہیں۔
اور پھر ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے گذشتہ 70 برسوں سے دنیا کی کمان کی چوٹیوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، لیکن اب یہاں طاقتور افسرشاہی اور کمپنیوں پر مشتمل قوتیں موجود ہیں جو امریکہ کے حد سے بڑھ کر عالمی کردار کو برقرار رکھنے میں [اپنے مفادات کی خاطر] ذاتی دلچسپی رکھتی ہیں۔
سنہ 1961ع‍ میں [جنرل ریٹائرڈ] ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور (Dwight D. Eisenhower) نے بحیثیت صدر امریکہ اپنی وداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ “دوسری جنگ عظیم کے دوران اور سرد جنگ کے آغاز میں ایک طاقتور “فوجی-صنعتی کمپلیکس” کا ظہور ایک گہری پیشرفت تھی جس نے امریکی خارجہ پالیسی کا راستہ ہمیشہ کے لئے، زیادہ سے زیادہ، عسکریت پسندی اور مداخلت پسندی کی طرف موڑ دیا”۔
یہ اثر خاص طور پر “خارجہ پالیسی کے تھنک ٹینکس کی پوری دنیا” میں واضح ہے، جن کی اکثریت امریکی عالمی مصروفیت کو فروغ دینے اور امریکی مرکزیت پر مبنی عالمی نظام کا دفاع کرنے کے لئے وقف ہے۔ نتیجہ – جیسا کہ زیک بیوچیمپ (Zack Beauchamp) نے چند سال قبل کہا تھا – یہ ہے کہ “واشنگٹن کی خارجہ پالیسی پر بحث زیادہ تر مرکز اور دائیں بازو کے درمیان انجام پاتی ہے؛ اور زیر بحث مسئلہ بطور معمول یہ ہے کہ امریکہ کو طاقت کا کتنا استعمال کرنا چاہئے اور اس بات پر ہرگز بحث نہیں ہوتی کہ کیا [اصولا] اسے طاقت کا استعمال کرنا بھی چاہئے [یا نہیں]؟”۔
اگلا مسئلہ جس کی طرف میں نے پہلے ہی اشارہ کیا تھا، یہ ہے کہ لبرل امریکہ بیرونی اثرات قبول کرنے کے لئے کھلا ہے، جبکہ دوسرے ممالک ایسے نہیں ہیں۔ بیرونی ممالک کی حکومتیں واشنگٹن کے اندر اور خاص طور پر کیپیٹل ہل (کانگریس اور سینٹ) میں اپنا کیس آگے بڑھانے کے لئے لابنگ کمپنیوں کی خدمات حاصل کر سکتی ہیں اور بعض مسائل میں، حکومت اور کانگریس پر دباؤ ڈالنے کے لئے، گھریلو امریکی گروپوں پر انحصار کر سکتی ہیں۔ وہ ایسے امریکی تھنک ٹینکس کو فراخدلانہ عطیات دے سکتی ہیں جو ان کے مقصد کو آگے بڑھاتے ہیں اور بیرونی راہنما اپنی آرا‏ء اور مضامین با اثر امریکی اخبارات اور جرائد میں چھپوا سکتے ہیں اس لئے کہ امریکی سیاستدانوں اور عام لوگوں کے افکار کو متاثر کر سکیں۔ [ان کی] اس طرح کی کوششیں حتمی طور پر کامیاب نہیں ہؤا کرتیں، لیکن ان کوششوں کا اثر امریکہ کو کم کام کرنے کے بجائے زیادہ کام کرنے کی ترغیب دے گا۔
بڑھتا ہے۔ ہمارے پاس 11 نیٹو اتحادی تھے جو یورپ کے بارے میں امریکی پالیسی کو تشکیل دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب ہمارے پاس 29 ہیں۔ ان میں سے کچھ ریاستیں اجتماعی دفاع میں اہم وسائل کا حصہ ڈالتی ہیں، لیکن دیگر میں سے کچھ کمزور اور کمزور ہیں اور انہیں برابر کے شراکت داروں کے مقابلے میں زیادہ مناسب طور پر محافظ کے طور پر دیکھا جاتا ہے؛ حیرت کی بات نہیں ہے کہ یہی چھوٹی اور کمزور ریاستیں ان بلند ترین آوازوں میں شامل ہیں جن کا اصرار ہے کہ امریکہ اپنے وعدوں پر قائم رہے اور ان کی حفاظت کرے، اور خبردار کرتے ہیں کہ امریکی ساکھ ایک عالمی طاقت کے طور پر خطرے میں ہے اور مزید بے خطر [benign] عالمی نظام کی کوئی امید ان کے مشورے پر منحصر ہے۔ ہمارے بہت سے گاہکوں کے مطابق، امریکہ کی مصروفیت جتنی گہری ہوگی، اسے اتنا ہی زیادہ گہرائی میں مصروف “باقی رہنا” پڑے گا۔
غلطی نہ کریں: میں اتحادیوں کے تحفظات کو نظر انداز کرنے یا ان کے مشوروں کو مسترد کرنے پر بحث نہیں کر رہا ہوں۔ اتحادی رہنماؤں کے پاس عصری عالمی مسائل کے بارے میں کہنے کو اکثر دانشمندانہ باتیں ہوتی ہیں، اور ان مثالوں پر آسانی سے سوچا جا سکتا ہے (عراق، وغیرہ کے بارے میں؟) جہاں امریکہ اس پر مکمل انحصار نہ بھی کرتا تو فرانسیسی یا جرمن انتباہات پر کان دھرتا تو بہتر ہوتا۔ لیکن ممکن ہے کہ اب بھی خارجہ پالیسی “بلاب Bolb” (1) کے زیادہ تر مداخلت پسندانہ جذبات اور خود غرضی پر مبنی مشوروں (اور مجرکات) کے درمیان اب بھی ایک غیر صحتمند امتزاج، موجود ہو جو امریکی حمایت اور مدد کی توقع رکھنے والے ممالک خارجہ پالیسی پر بحث میں کھپا سکتے ہیں۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ریاستہائے متحدہ کے غیر ملکی شراکت دار “چچا سام” (2) سے عام طور پر کام چاہتے ہیں کہ وہ ان کی طرف سے زیادہ سے زیادہ کام کرے۔ اور شاذ و نادر ہی تجویز کرتے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اپنی سرگرمیوں کو کم کر دے۔
ان سارے عوامل و عناصر کو اکٹھا کیا جائے، تو کوئی بھی پوچھ سکتا ہے کہ امریکہ کے لئے اپنے بیوقوفانہ اقدامات روکنا اس قدر مشکل کیوں ہے؟ آئیڈیالوجی، طاقت، نوکرشاہی کی چالبازی، اور امریکی طاقت سے اپنے مقاصد کے لئے فائدہ اٹھانے کے لئے دوسرے ممالک کی آمادگی (اور اشتیاق)، کو یکجا کیا جائے تو بیک وقت – کچھ کر بیٹھے اور واضح ترجیحات متعین نہ کر سکنے کے اور فتنہ ظاہر ہونے کی صورت میں ان پر قائم رہنے کے لئے – ایک مضبوط ماحول فراہم ہوتا ہے۔
چنانچہ عمدہ توازن کے حصول کے لئے، جو بظاہر پیکر جیسے تجزیہ نگاروں کی خواہش بھی ہے، عمدہ توازن حاصل کرنے کے لئے اس رجحان کا دفاع کرنے یا اسے تقویت دینے کے بجائے اس کا مقابلہ کرنے پر زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1. The Bolb = چھالا یا بلبلہ: یہ اصطلاح خاص طور پر [ناقد] امریکی ابلاغی حلقوں میں، اس ملک کی خارجہ پالیسی کی مشینری کو کہا جاتا ہے۔
2۔ Uncle Sam = امریکی جکومت یا عوام کی تجسیم (مجسم کرنا)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: سٹیفن والٹ، Stephen M. Walt – امریکی میگزین “foreignpolicy”