امریکہ کل بھی مردہ باد تھا، امریکہ آج بھی مردہ باد ہے

امریکہ قاتل ہے، جو اپنے مخالفین کو قتل کرواتا ہے۔ اس کی اس حوالے سے بہت ہی بھیانک تاریخ ہے، اس کے جرائم پر کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اس کی سازشوں کو طشت از بام کرتی بہت سی کتب موجود ہیں، اس پر بہت سی فلمیں بن چکی ہیں اور خود امریکہ میں اس کے خفیہ ڈاکومنٹس جو کچھ عرصہ بعد قانونی طور پہ سامنے آجاتے ہیں۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: قائد شہید علامہ سید عارف الحسینی کی بابصیرت، انقلابی، ولایت فقیہ کی محافظ قیادت و رہبری جب پاکستان کے انقلابی فکر جوانون کی میسر آئی تو اتنے زیادہ ایام اور مناسبتوں کے پروگرام ہوتے تھے کہ ان کا شمار مشکل ہے۔ ہم شہید قائد کی زندگی میں کتنے خوش نصیب تھے کہ ہر مناسبت سے شہید خود راہنمائی فرماتے تھے اور تاکید کرتے تھے کہ یہ دن منایا جائے۔ اس دن کی مناسبت سے اپنا پیغام بھی نشر کرتے اور ذاتی طور پر پروگراموں میں شریک بھی ہوتے۔ شہید کی قیادت میں جو ایام منائے جاتے تھے، ان کے بعد آنے والوں نے ان ایام اور مناسببتوں کو ہی بھلا دیا۔ ان مناسبتوں میں یوم انہدام جنت البقیع، ہفتہ نزول قرآن، یوم نفاذ فقہ جعفریہ، سالگرد انقلاب، برات از مشرکین جیسے ایام کیساتھ ساتھ یوم مردہ باد امریکہ بھی ہے کہ ان ایام کو باقاعدہ ملک گیر سطح پہ منایا جاتا تھا۔ یوم مردہ باد امریکہ شہید قائد کے فرمان پر 16 مئی 1986ء کے دن پہلی بار لاہور میں منایا گیا۔

دراصل امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل کا وجود 15 مئی کو رکھا گیا تھا، جسے امریکہ نے تسلیم کیا اور اس مناسبت سے شہید قائد نے اسے امریکہ مردہ باد کا نام دیا۔ لاہور میں اس روز مال روڈ پر مظاہرہ کیا گیا، جس میں شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی بھی بڑھ چڑھ کر شریک تھے۔ اس دن امریکہ کا پرچم بھی جلایا گیا اور مال روڈ پر اسمبلی ہال چوک میں واقع معروف الفلاح بلڈنگ پر ایک بڑا بینر بھی لٹکایا گیا، جس پر امریکہ مردہ باد لکھا گیا تھا، اس مظاہرے میں شہید ڈاکٹر سمیت کچھ گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب اس پاک سرزمین پر کوئی کھل کر امریکہ مردہ باد کا نعرہ نہیں لگاتا تھا۔ مذہبی تنظیمیں جو مارشل لاء کی چھتری تلے پلتی ہیں، اس دور میں بھی مارشل لاء کی چھتری تلے امریکہ کے ساتھ مل کر روس کے خلاف اپنا “جہاد” کر رہی تھیں۔

روس افغانستان پر حملہ آور تھا تو آمر ضیاء الحق جو ایک پاپولر جمہوری قیادت کو پھانسی دے کر امریکی آشیر باد سے اقتدار پر قابض تھا، اس نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے معاشرے کے مختلف طبقات کو تقسیم کیا تھا اور ملک میں سی آئی اے کیساتھ مل کر جہادی مقاصد کیلئے مخصوص مکتب فکر کے دینی مدارس کا جال بچھا چکا تھا۔ ایسے میں ان لوگوں سے کیسے توقع کی جا سکتی تھی کہ یہ امریکہ کو مردہ باد کہیں، جبکہ افغانستان میں ڈالرز کی برسات سے جہاد کروانے والا امریکہ فلسطین میں اسرائیل کی کھلی جارحیت، قبضہ پالیسی، ظلم و تشدد اور سازشوں کی پشت پناہی کر رہا تھا، پھر کسی اسلام حقیقی کے مخلص کو کیسے دھوکہ دیا جا سکتا تھا کہ وہ اس ظالم و جابر اور جارح و قابض کا ساتھ دے، لہذا شہید قائد جو جمہور اسلامی کے بانی امام خمینی کی پاکستان میں شبیہ تھے، انہوں نے فلسطینیوں کی حمایت اور ان کی آواز بن کر پاکستان میں امریکہ کو للکارا اور اسے برملا مردہ باد کہا۔

ہمیں یاد ہے کہ اس کے ساتھ اپنی نفرت کے اظہار کیلئے اس کے پرچموں کو جلایا جاتا تھا، وہ پرچم جو ظلم و بربریت کی علامت سمجھا جاتا تھا، اسے پائوں تلے روندا جاتا۔ ایک بات یہاں تسلیم کرنے میں ہرج نہیں سمجھتا کہ ہم سے پہلے بھی اس ملک میں امریکہ کو مردہ باد کہنے والے موجود تھے اور یہ سرخے تھے، ہاں ہم میں اور ان میں ایک بنیادی فرق تھا کہ ہم
لا شرقیہ ولا غربیہ
سپر طاقت ہے خدا
کا نعرہ مستانہ لگانے والے تھے، جو اسلام کی اصل اور بنیادی فکر کا حامل تھا، جسے امام خمینی نے راسخ کیا تھا، جبکہ سرخے اگر امریکہ مردہ باد کہتے تھے تو ان کا تعلق روس سے تھا۔ روس اس وقت خود ایک طاغوتی طاقت تھی، روس سے کمیونزم، سوشلزم پھیلایا جاتا تھا، جو کسی بھی اسلام پسند کیلئے کسی بھی طور قابل قبول نہیں تھا۔ گویا امام خمینی (رہ) نے اس دور کی تصویر اس طرح کھینچی تھی کہ امریکہ اور روس قینچی کے دو پھلوں کی مانند ہیں، جب مسلمانوں کو کاٹنا ہوتا ہے تو یہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

اس دور میں بھی جب بہ ظاہر امریکہ و روس دونوں سپر طاقتیں کہلائی جاتی تھیں اور مدمقابل سمجھی جاتی تھیں، ان کی قیادتیں باہم ملاقاتیں بھی کرتی تھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ معاہدوں کی پابندی بھی کرتے تھے، آج کے روس اور اس دور کے روس میں زمین آسمان کا فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یوم مردہ باد امریکہ فلسطینیوں کے حقوق، ان کی زمینوں کے غصب کرنے، انہیں ظلم کا شکار کرنے والی ناجائز ریاست کے وجود کو تسلیم کرنے کے باعث شروع ہوا، مگر اس سے ہٹ کر بھی اسے مردہ باد کہنا عین فطرت ہے کہ امریکہ ازل سے انسانیت کا دشمن ہے، امریکہ جب سے وجود میں آیا ہے، اس نے تجاوز کیا ہے، ملکوں اور ریاستوں پر قابض ہوتا آیا ہے، حکومتوں کو تبدیل کرتا آیا ہے، اپنی من پسند حکومتوں کو اقتدار دلانے کا بہت وسیع تجربہ رکھتا ہے۔ امریکہ ہمیشہ سے کمزوروں، آزادی خواہوں اور غیرت و حمیت کے پروردوں کا مخالف ہی رہا ہے۔

امریکہ قاتل ہے، جو اپنے مخالفین کو قتل کرواتا ہے۔ اس کی اس حوالے سے بہت ہی بھیانک تاریخ ہے، اس کے جرائم پر کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اس کی سازشوں کو طشت از بام کرتی بہت سی کتب موجود ہیں، اس پر بہت سی فلمیں بن چکی ہیں اور خود امریکہ میں اس کے خفیہ ڈاکومنٹس جو کچھ عرصہ بعد قانونی طور پہ سامنے آجاتے ہیں، ان میں یہ سیاہ تاریخ دیکھی جا سکتی ہے۔ آج امریکہ اپنے زوال کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس کی گرتی معیشت، کمزور ساکھ اور ناکام پالیسیاں اب دنیا بھر کے کمزوروں، مستضعفین اور پسے ہوئے طبقات کیلئے حوصلوں کا باعث ہیں کہ اس کے وجود کو تتر بتر ہوتے اب زیادہ دیر نہیں لگی۔ اس کا سارا زور کمزوروں پر ہی چلتا ہے، آج روس کے مقابل امریکہ کتنا کمزور ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے باوجود اسے جرات نہیں ہوئی کہ روس کے سامنے آکر اس سے جنگ کرسکے۔ اگر یہی کام جو روس نے کیا ہے، کسی اور ملک نے کیا ہوتا تو اب تک امریکہ، نیٹو اتحادیوں کو ساتھ ملا کر اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا چکا ہوتا، مگر روس کے مقابل اسے جرات نہیں ہوئی۔

ہمیں اس بات پہ خوشی ہے کہ ہم جو نعرہ پینتیس سال پہلے لگا رہے تھے، لوگوں کو بیدار کر رہے تھے اور مخالفتیں برداشت کر رہے تھے، آج پاکستانی قوم نے اس نعرے کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔ ہم نے اصولی اور عقلی طور پر اس نعرے کو اختیار کیا تھا، آج بھی جو لوگ یہ نعرے لگا رہے ہیں، انہیں اصولی و عقلی طور پر اسے اختیار کرنا چاہیئے، ایسا نہ ہو کہ یہ فقط ایک سیاسی چال ہو، اگر ایسا ہوا تو عوام جو اب امریکہ، اس کے لے پالکوں اور ملک کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے چہروں کو پہچان چکی ہے، اس موقف سے کسی بھی طور پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ ہی کسی کو ہٹنے دے گی۔ ہمارے لئے تو امریکہ اس ملک کے خلاف سازشیں نہ بھی کرتا تو مردہ باد ہی تھا کہ ہم نے سارے جہان میں اس کے جرائم کو بے نقاب کیا ہے اور پھر اسے مردہ باد کہا ہے۔