امریکہ کی اپنی تاسیس کے ۲۴۵ سالوں میں ۲۲۷ جنگوں میں شرکت یورپین رکن پارلمنٹ کا اعتراف

میل والاس نے کچھ دنوں قبل بھی امریکہ کی جانب سے لگائی جانی والی اقتصادی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران، عراق، شام ونزوئلا اور کوبا پر لگائی جانے والی پابندیاں بشریت پر ظلم و جنایت سے عبارت ہیں۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: فارس بین الاقوامی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یورپ کی پارلمان کے ایک قانون ساز رکن نے امریکہ کی جارحیت و جنگ بھڑکانے کے عزائم کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی عسکری طاقت کمزور ممالک کو لوٹ کر ان سے فائدہ اٹھانے اور امریکہ کو مالی فائدہ پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے ۔
آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے یورپین قانون ساز اسمبلی کے رکن Michael Wallace میک والاس نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ امریکہ نے اپنی تاسیس کے ۲۴۵ سالوں کے عرصے میں ابھی تک ۲۲۷ جنگوں میں شرکت کی ہے اور یہ امریکی امپریالیزم ہے جسکا مقصد کمزور ملکوں کو لوٹنا اور امریکہ کو فائدہ پہنچانا ہے ۔
امریکہ کی تاریخ ۱۷۷۶ کی طرف پلٹتی ہے جب ریاست ہائے متحدہ کو رسمی طور پر ایک خود مختار ملک کے طور پر شناخت حاصل ہوئی ۔
میل والاس نے کچھ دنوں قبل بھی امریکہ کی جانب سے لگائی جانی والی اقتصادی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران، عراق، شام ونزوئلا اور کوبا پر لگائی جانے والی پابندیاں بشریت پر ظلم و جنایت سے عبارت ہیں۔


والاس نے امریکہ کی سابقہ وزیر خارجہ ماڈلین آلبرایٹ کی موت کے بعد ایک ٹویٹ میں لکھا تھا ” امریکہ کی جانب سے عراق پر لگائی گئی پابندیاں جنکے بارے میں آلبرائٹ جو خود ایک جنگی مجرم تھی کا کہنا تھا یہ پابندیاں عراق کے لوگوں کے لئے ایک اجتماعی سزا کی حیثیت رکھتی تھیں ۔
والاس نے امریکہ کی جانب سے ظالمانہ اقتصادی پابندیوں کا شکار ہونے والے دیگر ممالک کا نام لیتے ہوئے اس بات کو بیان کیا کہ عراق پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے ۵ لاکھ بچے لقمہ اجل بن گے اور یہ در حقیقت بشریت کے ساتھ ظلم و جنایت ہے بالکل اسی طرح آج ایران ونزوئلا ، شام اور کوبا و افغانستان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے ۔


قابل ذکر ہے کہ ۸۴ سالہ آلبرائٹ کی موت ۲۳ مارچ ۲۰۲۲ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر ہوئی البرائٹ کا شمار امریکہ کے سابقہ صدر جمہوریہ بل کلنٹن کے اہم لوگوں میں ہوتا تھا ابتدا میں آلبرائٹ نے ریاست ہائے متحدہ کی سفیر کے طور پر خدمت کی اس کے بعد کلنٹن کے دوسرے صدارتی عہد میں امریکی سیاست کے بڑے عہدے پر براجمان ہوئی ۔
آلبرائٹ نے نیٹو کی توسیع کی حمایت کی تھی اور ۱۹۹۶ ء آلبرایٹ نے اقوام متحدہ میں امریکہ کے نمائندہ و سفیر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ۶۰ منٹ نامی ایک پروگرام میں جسے” سی بی ایس” نامی چینل سے پیش کیا گیا اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ امریکہ کی جانب سے مختلف ممالک پر لگائی گئی پابندیاں بجا ہیں عراقی بچوں کے قتل عام کی حمایت کی تھی ۔