امریکہ کے چہرے سے برطرف ہوتا منافقت کا نقاب

بین الاقوامی، جنگی، انسانی، انسانی حقوق اور جمہوری قوانین کا احترام اور دیگر ممالک کی خودمختاری کا احترام وہ امور ہیں جن کی خلاف ورزی کے بعد امریکی حکمرانوں کی منافقت عیاں ہو گئی ہے اور عالمی اور علاقائی سطح پر ان کا گستاخ، مجرمانہ، جارحانہ، غیر انسانی، لوٹ مار والا اور نسل پرستانہ چہرہ کھل کر سامنے آیا ہے۔

فاران: فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم نے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے خلاف جو طوفان الاقصی نامی عظیم فوجی آپریشن انجام دیا اس کے اثرات صرف 7 اکتوبر 2023ء تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ فلسطینی قوم کی مزاحمت اور مظلوم فلسطینی عوام کی قربانیاں دے کر شجاعانہ استقامت کے اظہار نے آج تک ایسے عظیم معجزے ظاہر کئے ہیں جو عام حالات میں بالکل ممکن نہیں تھے یا اگر ممکن بھی تھے تو ان کیلئے بہت زیادہ محنت اور اخراجات کی ضرورت تھی۔ اگرچہ طوفان الاقصی فوجی آپریشن کے آغاز سے امریکہ نے خود کو غیر جانبدار، ثالثی کرنے والا ملک اور جنگ کا پھیلاو روکنے کی کوشش کرنے والے کے طور پر پیش کیا ہے لیکن آج تک اس نے مظلوم اہل غزہ کے خلاف غاصب صیہونی رژیم کے جنگی جرائم کی حمایت میں جو عملی اقدامات انجام دیے ہیں انہوں نے اس کا حقیقی چہرہ آشکار کر دیا ہے۔

امریکہ اب تک غزہ میں صیہونی حکمرانوں کے تمام تر انسان سوز مظالم جیسے بیگناہ عام شہریوں کا قتل عام، اسپتالوں، اسکولوں، ایمبولینسوں، صحافیوں پر بمباری، شہید فلسطینیوں کی لاشوں سے اعضاء چرا کر لے جانا، ٹینکوں سے اسپتالوں پر چڑھائی اور زخمی اور بیمار شہریوں کو شہید کرنا، ڈاکٹرز اور میڈیکل کا دیگر عملہ اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دینا وغیرہ میں برابر کا شریک رہا ہے اور حتی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پیش کی جانے والی جنگ بندی کی قراردادوں کو بھی ویٹو کرتا آیا ہے۔ ان تمام اقدامات نے اس کے چہرے سے منافقت کی نقاب ہٹا دی ہے اور جمہوریت اور انسانی حقوق کے جھوٹے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ اس کا نتیجہ امریکہ اور عالمی رائے عامہ میں موجودہ امریکی حکمرانوں سے شدید نفرت کی صورت میں ظاہر ہوا ہے جو امریکہ میں صدارتی الیکشن قریب ہونے کے باعث اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاوس میں براجمان امریکہ کے منافق حکمرانوں اور امریکی ذرائع ابلاغ کے خلاف احتجاج اور ان پر عدم اعتماد کا اظہار صرف امریکہ، لندن اور یورپی ممالک کی سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی صدر جو بائیڈن کی حالیہ تقریر کے دوران بھی یہ صدائے احتجاج سنی گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود جو بائیڈن کی زبان سے سنا جا رہا ہے کہ وہ غاصب صیہونی رژیم کی حمایت جاری رکھے گا جس کا نتیجہ غزہ میں جنگ اور مجرمانہ اقدامات کے تسلسل کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ امریکہ کے صیہونی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے بھی تل ابیب کا دورہ کیا ہے تاکہ غزہ میں جنگ کے تیسرے مرحلے کی منصوبہ بندی انجام دے سکے اور اپنے گمان میں غزہ پر فتح حاصل کرنے کے بعد اس کے انتظامی امور کے بارے میں صیہونی حکمرانوں سے صلاح مشورہ کر سکے۔

امریکہ اور جو بائیڈن کی جانب سے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی حمایت صرف فوجی سازوسامان اور اسلحہ کی ترسیل اور امریکہ کی اسپشل فورس ڈیلٹا کے کمانڈوز کا غزہ جنگ میں براہ راست شریک ہونے تک محدود نہیں ہے بلکہ امریکہ صیہونی رژیم کے دفاع میں براہ راست جنگ میں ملوث ہو چکا ہے۔ امریکہ بحیرہ احمر میں انصاراللہ یمن کی نیوی پر حملے اور عراق میں اس ملک کی مسلح افواج کا حصہ قرار پانے والی حشد الشعبی کے مراکز پر حملے جاری رکھے ہوا ہے۔ امریکہ یمن، عراق اور خطے کے دیگر ممالک کی خودمختاری اور حاکمیت کی واضح خلاف ورزیاں انجام دینے کے باوجود یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ غزہ میں جاری جنگ پورے خطے میں پھیل جانے سے روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

گذشتہ کئی سالوں سے امریکی حکمرانوں نے عراق میں اپنی غیر قانونی موجودگی کو داعش کے خلاف جنگ کا لبادہ اوڑھا رکھا تھا اور عراقی حکام کو یہ تاثر دیتے رہے کہ ہم آپ کی حمایت اور فوجی مشاورت کیلئے یہاں موجود ہیں۔ لیکن اب جب عراقی عوام اور پارلیمنٹ نے امریکہ سے فوجی انخلاء کا مطالبہ کیا ہے تو پینٹاگون کے ترجمان کی زبانی انتہائی ڈھٹائی اور غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ وہ عراق سے فوجی انخلاء کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا۔ البتہ موصول ہونے والی اہم رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران عراق میں امریکی اہلکاروں کی واحد سرگرمی تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی تنظیم نو اور اسے دوبارہ فعال کرنے پر مشتمل ہے۔ ان کی پہلی ترجیح عراق، خاص طور پر اس کے مغربی حصوں میں عدم استحکام پھیلانا ہے تاکہ اس طرح یہاں اپنی فوجی موجودگی کا مناسب بہانہ فراہم کر سکیں۔

بین الاقوامی، جنگی، انسانی، انسانی حقوق اور جمہوری قوانین کا احترام اور دیگر ممالک کی خودمختاری کا احترام وہ امور ہیں جن کی خلاف ورزی کے بعد امریکی حکمرانوں کی منافقت عیاں ہو گئی ہے اور عالمی اور علاقائی سطح پر ان کا گستاخ، مجرمانہ، جارحانہ، غیر انسانی، لوٹ مار والا اور نسل پرستانہ چہرہ کھل کر سامنے آیا ہے۔ صیہونیوں کی نسل پرستانہ جنگ کے پھیلاو کو روکنے کی کوشش کرنے کا دعوی علاقائی اور عالمی امن و امان کی خاطر نہیں بلکہ صیہونیوں کو مزید مواقع فراہم کرنے اور امریکی اور مغربی دہشت گرد فوجیوں کو غزہ جنگ کے تیسرے مرحلے میں شریک کرنے کی خاطر انجام پا رہے ہیں۔ اسلامی مزاحمت نے علاقائی اور عالمی سطح پر نہ صرف امریکہ کے چہرے سے نقاب الٹ دی ہے بلکہ استقامت اور مزاحمت کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کو شکست دے کر اسے بے آبرو اور رسوا کر دیا ہے۔