امریکی یونیورسٹیز میں آزادی اظہار کا قتل عام

جب طالب علموں نے ناک میں دم کر دیا اور کسی صورت میں اپنے مطالبات سے نہیں رک رہے تو اب امریکی سیاستدان میدان میں اترے ہیں۔ امریکی ایوان کے اسپیکر نے فلسطینی حامی مظاہرین کا مذاق اڑایا اور کہا کہ کلاس میں واپس جاؤ۔ یعنی تمہارے یہاں رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔

فاران: آزادی اظہار ایک ایسا نعرہ ہے، جس کی آڑ میں دسیوں ملکوں اور اقوام کو پابندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مغرب نے اسے بہت زیادہ پروجیکٹ کیا ہے۔ آپ این جی اوز کے زیراہتمام ہونے والی ورکشاپس کو دیکھیں، اس میں ہر دوسرا آدمی آزادی اظہار کی بات کر رہا ہوتا ہے۔ آزادی اظہار اور احتجاج کا حق ہر امن پسند معاشرے میں تمام شہریوں کو حاصل ہوتا ہے۔ عام طور پر مغربی ممالک میں سرخ فیتہ کراس کرنے والے احتجاج نہیں ہوتے، اس کی کئی وجوہات ہیں، ہمارے ہاں تو بیرونی اشاروں پر بھی ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے مظاہرے کیے جاتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ ہمیشہ تیسری دنیا کے ممالک کو آزادی اظہار اور پرامن احتجاج کا سبق دیتے ہیں۔ نوجوان جہاں کا بھی ہو، جب اسے پتہ چلتا ہے کہ کہیں ظلم ہو رہا ہے تو وہ اپنی بساط کے مطابق اس کے خلاف اٹھتا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے غزہ میں جاری نسل کشی کو دو سو دن ہوگئے ہیں۔پچھلے چند دنوں سے امریکہ کی بڑی یونیورسٹیز اور کالجز میں ایک حیران کن صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے، جس نے امریکی حکام کی ناک میں دم کر دیا ہے، وہ ہیں غزہ جنگ کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے۔ “Gaza Solidarity Encampment” غزہ یکجہتی کیمپ” کے نام سے شروع ہونے والے یہ دھرنے پورے امریکہ کی یونیورسٹیز میں پھیل چکے ہیں۔ یہ طلباء بہت سادے مطالبات کر رہے ہیں۔ غزہ میں جنگ بندی کی جائے، اس نسل کشی میں اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد کو فوری طور پر روک دیا جائے۔ اسلحہ فراہم کرنے والوں اور جنگ سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں سے اسٹاک، بانڈز، یا سرمایہ کاری کے فنڈز واپس لیے جائیں۔

ان طلباء اور فیکلٹی ممبران کو دوبارہ یونیورسٹیز میں داخلہ دیا جائے، جنہیں صرف اہل فلسطین کی حمایت کرنے پر یونیورسٹیز سے نکال دیا گیا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا ایسا امریکہ میں ہوا ہے؟ تو جی جناب بین الاقوامی میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ امریکی یونیورسٹیز میں اپنا آزادی اظہار اور پرامن احتجاج کا حق استعمال کرنے پر لوگوں کو ایسی سزائیں دی جا رہی ہیں۔بات صرف اس پر محدود نہیں رہی بلکہ انتظامیہ باقاعدہ ان طالب علموں کو ہراس کر رہی ہے کہ وہ اپنا احتجاج ختم کر دیں۔ جب انہوں نے کسی صورت میں ختم نہیں کیا تو ان پر پولیس اور نیم فوجی دستوں سے یونیورسٹی کیمپسز کے اندر کریک ڈاون شروع کر دیا گیا ہے۔

آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں احتجاج کرنے والے کم از کم 34 طلباء کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی طرح کم از کم 50 مزید طلباء یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (USC) سے حراست میں لے گئے ہیں۔ مینیسوٹا یونیورسٹی کے نو طالب علموں کو منگل کی صبح گرفتار کیا گیا۔ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، نیویارک یونیورسٹی میں، پیر کی رات کو مظاہرین کو منتشتر کرنے کے لیے بڑی تعداد میں اہلکار آئے اور اساتذہ اور طلباء کی بڑی تعداد کو زد و کوب کیا اور ایک سو پچاس طلباء اور اساتذہ کرفتار کر لیے گئے ہیں۔ ییل یونیورسٹی سے کم از کم 45 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد وہاں فلسطین کے حامی مظاہروں میں اضافہ دیکھا گیا۔ انہوں نے رات سے ہی کیمپس کے بینک پلازہ میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔

دنیا میں ہارورڈ یونیورسٹی کا بڑا نام ہے اور وہاں سے آزادی اظہار اور احتجاج کے حق کے بھاشن پوری دنیا میں سنائے جاتے ہیں۔ صحافی ہارورڈ کرمسن کے مطابق، ہارورڈ انڈرگریجویٹ فلسطین سولیڈیریٹی کمیٹی کو معطلی اور طلباء کو ممکنہ اخراج کا سامنا ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سال کی تمام تنظیمی سرگرمیاں ختم کر دیں، ورنہ سزا کے لیے تیار رہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی نے ہارورڈ یارڈ تک کمیٹی کے ممبران کی رسائی پر پابندی لگا دی ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کے حامی مظاہرین کو کیمپس پہنچنے سے روکنا ہے۔ آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ حالات کس قدر خراب ہیں؟ امریکی یونیورسٹیز کے مسلمان اور غیر مسلم یہاں تک جنگ مخالف یہودی طلباء بھی ان مظاہروں اور دھرنوں میں شریک ہو رہے ہیں۔

جب طالب علموں نے ناک میں دم کر دیا اور کسی صورت میں اپنے مطالبات سے نہیں رک رہے تو اب امریکی سیاستدان میدان میں اترے ہیں۔ امریکی ایوان کے اسپیکر نے فلسطینی حامی مظاہرین کا مذاق اڑایا اور کہا کہ کلاس میں واپس جاؤ۔ یعنی تمہارے یہاں رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ یونیورسٹی صدر سے مظاہرین کو منتشر کرنے یا استعفیٰ دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ طالب علم پرعزم ہیں اور اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ سوشل ورک کی ایک طالبہ ایمی الیاس نے بتایا کہ ہم اس وقت تک رہیں گے، جب تک وہ ہم سے بات نہیں کرتے اور ہمارے مطالبات نہیں سنتے۔

کچھ لوگ ان مظاہروں کو یہود مخالف مظاہروں کے طور پر پیش کر رہے ہیں، یہ پرانا طریقہ واردات ہے۔ طالب علموں نے واضح کیا ہے کہ ہم جنگ کے مخالف ہیں اور اہل فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں، کسی مذہب کے خلاف نہیں ہیں، اسی لیے بہت سے یہودی طلباء ہمارے ساتھ ہیں۔ کچھ پرو اسرائیلی مظاہرین کو بدنام کرنے کے لیے مظاہرے میں شامل ہوتے ہیں اور ایسی باتیں کرکے رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ ایک تجزیہ نگار نے درست کہا طالب علموں کی آواز کو سنو، جب کلائمیٹ پر بول رہے تھے تو ٹھیک تھے، جب وہ گن وائلنس پر نکلے تھے، وہ ٹھیک تھے، آج اہل غزہ کی نسل کشی روکنے کے لیے نکلے ہیں تو بھی ٹھیک ہیں۔

یونیورسٹیاں جو مکالموں کے لیے بہترین مقام ہوتی ہیں، وہ طلباء کی آوازوں سے خوفزہ ہیں۔ کیلیفورنیا اسٹیٹ پولی ٹیکنیک یونیورسٹی یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بقیہ سمسٹر کے لیے ہائبرڈ لرننگ پر جائیں گے۔ طالب علم کہاں رکنے والے ہیں۔ انہوں نے بھی یونیورسٹیز اور کالجز میں خیمے لگانے شروع کر دیئے ہیں۔ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں کم از کم 20 خیموں کا ایک کیمپ قائم کیا گیا تھا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، وہ یونیورسٹی کے اسرائیلی فوج کے ساتھ اپنے تحقیقی تعلقات منقطع کرنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں مظاہرین نے کیمپس کے مرکزی علاقے سپرول پلازہ میں ایک فلسطین کیمپ قائم کیا ہے۔ مشی گن یونیورسٹی میں تقریباً 20 خیموں کا ایک کیمپ لگایا گیا۔ بوسٹن کے ایمرسن کالج میں طلباء فلسطین کی آزادی کی حمایت کر رہے ہیں اور اپنے احتجاج کے ایک حصے کے طور پر بوئلسٹن سٹریٹ کے قریب کیمپ لگا لیے ہیں۔ امریکہ میں اہل سیاست اپنے ورلڈ آرڈر کو بچانے میں مشغول ہیں، وہاں کے یہ انسان دوست طلباء ہمیں امید دلا رہے ہیں کہ انسان مشرق کا ہو یا مغرب کا، وہ کسی صورت میں انسانوں کا قتل عام نہیں دیکھ سکتا اور یہی اصل انسانیت ہے۔