انقلاب اسلامی ایران دنیا بھر کے مظلوموں کا انقلاب ہے

آج اگر خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بالکل درست ہے کہ سنہ 1979ء میں امام خمینی کی قیادت میں آنے والا اسلامی انقلاب صرف ایران کا نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور ہر مظلوم کا انقلاب ہے۔ جہاں مظلوم ہوں گے، وہاں انقلاب اسلامی ان کے ساتھ ہوگا۔

فاران: انقلاب کے معنی تبدیلی کے ہیں۔ جب بھی انقلاب کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد ایک ایسی جدوجہد ہے کہ جو پرانے نظام کو ہٹانے اور نیا نظام قائم کرنے کی بات کرتی ہے۔ ایران میں آنے والا اسلامی انقلاب دنیا کا واحد ایسا کامیاب انقلاب ہے، جو پینتالیس سالوں سے ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں سترھویں، اٹھارویں اور بیسویں صدی میں پانچ انقلاب اور بھی ملتے ہیں۔ 1649ء میں انگلش انقلاب، 1776ء میں امریکہ کا انقلاب، 1789ء میں انقلاب فرانس، 1917ء میں انقلاب روس اور پھر 1949ء میں انقلاب چین۔ یہ سارے انقلاب کسی نہ کسی مقصد اور ہدف کے تحت رونماء ہوئے، لیکن اگر اب ان تمام انقلاب کے بارے میں بات کی جائے تو ان میں سے کوئی ایک انقلاب بھی اپنی اصل اور اپنے ہدف پر باقی نہیں ہے بلکہ انحراف در انحراف کے بعد اگر یہ کہا جائے کہ خاتمہ ہوچکا ہے تو درست بات ہے۔

ان سب کے بعد ایران کی زمین پر آنے والا انقلاب نہ تو اوپر بتائے گئے کسی انقلاب سے مشابہت رکھتا تھا اور نہ ہی ان تمام انقلابوں کے طرح کمزور ثابت ہوا۔ انقلاب لانا ایک مرحلہ ہے، لیکن اس انقلاب کو باقی رکھنا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ بہرحال دنیا میں واحد ایران کا اسلامی انقلاب ہے، جو 1979ء میں وقوع پذیر ہوا اور آج بھی 2024ء تک اپنی اسی آب و تاب یا بلکہ پہلے سے زیادہ درخشاں انداز سے موجود ہے۔ یہ بھی ایک فطری عمل ہے کہ جب بھی کبھی کسی خطے میں انقلاب آتا ہے اور سیاست بدل جاتی ہے تو اس انقلاب کے خلاف سازشوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا جاتا ہے۔ انقلاب اسلامی ایران سے پہلے آنے والے انقلاب بھی ان مراحل سے گزرے ہیں اور اپنے آپ کو مکمل طور پر سازشوں کے سامنے کامیاب رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔

انقلاب اسلامی ایران کی آمد کے بعد اس انقلاب کو بھی ایسی ہی تمام سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف اندرونی دشمن کا مقابلہ کرنا تھا اور دوسری طرف بیرونی دشمن۔ یعنی دونوں ہی مقامات پر دشمنوں کی کمی نہیں تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جس زمانہ میں ایران میں اسلامی انقلاب نے جنم لیا، اس وقت دنیا میں کمیونزم، لبرلزم اور نہ جانے کون کون سے خرافات نے گھیر رکھا تھا، ان تمام نظریات کے سامنے ایک خالص نظریہ اسلامی انقلاب تھا، جس نے اپنے پہلے نعرے سے ہی اپنے راستوں کا تعین کر لیا تھا کہ نہ تو کمیونزم کی غلامی ہوگی اور نہ ہی امریکہ کی غلامی یعنی لبرلزم کی۔یعنی لا شرقیہ و لا غربیہ۔

اندرونی اور بیرونی تمام دشمنوں نے مل کر اسلامی انقلاب کے راستوں کو روکنے کی ہر مذموم کوشش کی، لیکن تقدیر الہیٰ کچھ اور ہی تھی اور ہے بھی۔ یہ اسلامی انقلاب ہر طرح کی مشکلات اور سازشوں کا مقابلہ کرتے کرتے آج یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ دنیا میں اپنی طاقت اور قابلیت کو لوہا منوا لیا ہے۔ آج چاہے چین جیسی طاقت ہو یا روس جیسی طاقت، سب کے سب اس انقلاب کی طاقت اور اثر کو مانتے ہیں۔ اسلامی انقلاب کا ازلی دشمن امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل تو بہت اچھی طرح سے اسلامی انقلاب کی طاقت اور اثر سے واقف ہیں کہ خطے بھر میں امریکی سیاست کا جنازہ نکالنے میں اسلامی انقلاب کا اہم کردار ہے۔

گذشتہ پینتالیس سالوں میں جہاں اسلامی انقلاب نے علمی و تحقیقی، فنون، سائنس و ٹیکنالوجی اور فوجی و دفاعی ہر میدان میں بے پناہ پیشرفت کی ہے۔ اس پیشرفت نے امریکہ اور مغربی دنیا کی حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دشمن قوتوں نے اسلامی انقلاب کو ختم کرنے اور کمزور کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی ہے۔ پابندیاں لگائی گئی ہیں، انقلاب اسلامی کے نامور سائنسدانوں کا قتل کیا گیا ہے، ملک میں دہشت گردی کے ذریعے عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کی گئی، اہم ترین افراد کو مختلف ممالک میں سفر کے دوران اور سرکاری کام کے دوران دہشت گردانہ حملوں میں قتل کیا گیا ہے، ثقافتی حربوں کے ذریعہ اسلام کی اساس اور اسلامی انقلاب کی بنیادوں کو ہلانے کی کوشش کی گئی لیکن دشمن کی ہر کوشش ناکام رہی ہے۔

انقلاب اسلامی ایران ان تمام تر مشکلات اور سختیوں کے ساتھ ساتھ سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سفر میں بے پناہ کامیابیوں میں سے ایک سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ خطے میں ریجنل سیاست کا بلاک قائم کرنے میں کامیابی ہے۔ یعنی امریکہ اور اسرائیل سمیت مغربی حکومتیں پہلے دن سے اس خطے کی حکومتوں کو کمزور اور عوام کو غلام بنا کر رکھنا چاہتی تھیں، لیکن انقلاب اسلامی نے جہاں ایران کی ملت کو استقلال بخش دیا، وہاں ساتھ ساتھ خطے میں بسنے والی دیگر اقوام بالخصوص ملت مظلوم فلسطین، ملت عراق، ملت لبنان، ملت شام، ملت یمن کو بھی استقلال کے راستے پر گامزن کیا ہے۔

موجودہ حالات میں عالمی سیاست پر رونماء ہونے والے حالات اور واقعات میں انقلاب اسلامی ایک روشن ستارہ کی مانند ہے۔ آج دنیا بھر میں اور بالخصوص مغربی ایشیائی ممالک میں امریکی طاقت کا گھمنڈ ٹوٹ رہا ہے تو اس طاقت کو خاک میں ملانے والا یہ انقلاب اسلامی ہے۔ انقلاب کے بانی امام خمینی ؒ ایک ایسی نعمت الہیٰ ہیں کہ جنہوں نے پوری دنیا کے انسانوں کو بیدار کیا۔ انقلاب اسلامی کے ذریعہ پوری دنیا کے مظلوم اور کمزور کر دیئے گئے انسانوں کو ایک نئی امید فراہم کی۔ دنیا میں طاقتور اور سامراجی قوتوں کے ہاتھوں کمزور کر دیئے گئے لوگوں کو اٹھ کھڑے ہونے کا سہارا دیا۔

آج اگر خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بالکل درست ہے کہ سنہ 1979ء میں امام خمینی کی قیادت میں آنے والا اسلامی انقلاب صرف ایران کا نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور ہر مظلوم کا انقلاب ہے۔ جہاں مظلوم ہوں گے، وہاں انقلاب اسلامی ان کے ساتھ ہوگا۔جہاں ظلم ہوگا، وہاں ظلم کا مقابلہ کرنے میں انقلاب اسلامی ایران سرفہرست ہوگا۔ امام خمینی کے بعد پینتایس سال سے ایران کے اسلامی انقلاب کو سنبھالنے والی بابصیرت قیادت حضرت آیت اللہ خامنہ ای نہ صرف ایران کی ملت کے لئے بلکہ پوری مسلم امہ کے لئے اللہ کی ایک بہترین اور عظیم نعمت ہیں۔