آزادی پر ہزاروں بیٹے بھی قربان کرنے کو تیار ہوں: شہید کے والد

گذشتہ روز اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں شہید ہونے والے عبدالرحمان کے والد جمال صبح نے کہا ہے کہ میرا ایک بیٹا آزادی پر قربان ہوا ہے۔ ہزاروں بیٹے بھی ہوں تو انہیں تحریک آزادی کے لیے پیش کرنے کو تیار ہوں۔

فاران: گذشتہ روز اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں شہید ہونے والے عبدالرحمان کے والد جمال صبح نے کہا ہے کہ میرا ایک بیٹا آزادی پر قربان ہوا ہے۔ ہزاروں بیٹے بھی ہوں تو انہیں تحریک آزادی کے لیے پیش کرنے کو تیار ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی غلط فہمی ہے کہ وہ فلسطینیوں کو شہید کرکے تحریک آزادی کو دبا دے گا۔ عبدالرحمان اور دوسرے شہدا کا خون رنگ لائے گا اور فلسطین میں مزاحمت کا شعلہ مزید بھڑک اٹھے گا۔

صبح نے وضاحت کی کہ ان کا بیٹا عبدالرحمان ان مزاحمتی جنگجوؤں میں سے ایک تھا جس نے پوری طاقت اور بہادری کے ساتھ قابض افواج کا مقابلہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ “عبدالرحمٰن کی شہادت اللہ کی طرف سے ہم پر ایک احسان ہے اور ہم اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔”

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ “ہمارا دشمن ایک ہے، ہمارا مقصد ایک ہے، اور مغربی کنارے، بیت المقدس اور غزہ میں مزاحمت ایک ہے”۔ “فلسطینی عوام کے لیے میرا پیغام متحد ہونا ہے کیونکہ ہمارا دشمن ایک ہے۔”

خیال رہے کہ کل اتوار کواسرائیلی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو فلسطینیوں 29 سالہ عبدالرحمان سبحان اور 22 سالہ محمد العزیزی کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔

حماس نے شہید ہونے والے فلسطینیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے جذبہ آزادی کو سراہا اور کہا ہے کہ فلسطینی شہدا کا بدلہ لیا جائے گا۔