ایران طاقتور ہے، مزاحمتی تحریکوں کی حمایت جاری رہے گی

حالیہ دنوں میں بھی ایران کو مغربی حکومتوں کی جانب سے ایسے ہی منفی اور اوچھے ہتھکنڈوں کا سامنا ہے، لیکن اس مرتبہ تو شہداء کے جنازوں میں عوام نے بہت بڑی تعداد میں شریک ہو کر مغربی دنیا کے تمام ناپاک عزائم کو پہلے ہی مرحلہ میں خاک میں ملا دیا ہے۔

فاران: گذشتہ دنوں ایران میں ہیلی کاپٹر حادثہ کے پیش آنے سے صدر اور وزیر خارجہ سمیت اہم شخصیات کی شہادت کے بعد مغربی حکومتیں اور ان کا شیطانی میڈیا مسلسل ایران کے خلاف منفی ہتھکنڈوں اور پراپیگنڈا کا استعمال کر رہا ہے۔ ایران کے دشمن مغربی ممالک ہمیشہ ایران کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں اور کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے کہ جس کے ذریعے وہ ایران کے خلاف اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی کوشش نہ کرتے ہوں۔ ایسے متعدد اور درجنوں بلکہ سینکڑوں واقعات موجود ہیں، جن میں براہ راست امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک سمیت غاصب صیہونی حکومت اسرائیل نے ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔

دراصل مغربی حکومتوں کو ایران کے اس اسلامی انقلاب کے نظام سے تکلیف ہے، جو عالمی استعماری قوتوں کی اجارہ داری اور دنیا میں غنڈہ گردی سمیت ان کے تسلط کو تسلیم نہیں کرتا۔ انقلاب اسلامی استقلال کی بات کرتا ہے اور انسانوں کی حمیت و عزت کی بات کرتا ہے۔ انقلاب اسلامی حق اور انصاف کی بات کرتا ہے، یعنی فلسطین کے لئے آواز بلند کرتا ہے اور اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے تو اسے ہر حال میں فلسطینیوں کو ہی لوٹا دینا چاہیئے اور فلسطین پر قابض اور ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل کو ختم ہونا چاہیئے۔ اس لئے ایران ہر باطل اور شیطانی صفت حکومت کی آنکھ میں ایک کانٹے کی طرح چبھتا رہتا ہے۔

حالیہ دنوں میں بھی ایران کو مغربی حکومتوں کی جانب سے ایسے ہی منفی اور اوچھے ہتھکنڈوں کا سامنا ہے، لیکن اس مرتبہ تو شہداء کے جنازوں میں عوام نے بہت بڑی تعداد میں شریک ہو کر مغربی دنیا کے تمام ناپاک عزائم کو پہلے ہی مرحلہ میں خاک میں ملا دیا ہے۔ اس پہلے مرحلہ میں ہی شکست کے بعد اب مغربی حکومتیں فلسطین کو نشانہ بنا کر ایران کی فلسطین کے ساتھ وابستگی اور حمایت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ پر ایک سوال بہت گردش کر رہا ہے کہ آیا شہید صدر رئیسی اور شہید وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے بعد ایران فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کی حمایت جاری رکھے سکے گا؟ اس سوال کا جواب بھی حالانکہ ایران نے شہداء کے جنازوں کے فوری بعد ہی دنیا کو دے دیا ہے۔

حادثہ میں شہید ہونے والی تمام محترم شخصیات کے جنازوں میں فلسطینی مزاحمت سے تعلق رکھنے والے تمام عناصر بشمول حماس، حزب اللہ، جہاد اسلامی، پاپولر فرنٹ، حشد الشعبی، انصار اللہ سمیت تمام مزاحمتی گروہوں کے قائدین نے شرکت کی۔ اسی طرح ایران کے دارالحکومت تہران میں القدس فورس کمانڈر جنرل اسماعیل قآنی کی موجودگی میں تمام مزاحمتی گروہوں کے قائدین کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی تصاویر نے مغرب دنیا کے ان جھوٹے اور مکارانہ سوالات کا دم نکال کر رکھ دیا ہے۔ پوری دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ ایران فلسطینی مزاحمت کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گا۔ جس مزاحمت کے قیام کے لئے ایران نے گذشتہ پینتالیس سالوں میں ایک نہیں درجنوں بھی نہیں، سیکڑوں قیمتی قربانیاں دی ہیں، اس مزاحمت کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔

چند دن قبل ہی حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے بھی اپنی ایک تقریر میں اس بات کی طرف اشارہ کیا اور دنیا کو بتایا کہ انقلاب اسلامی کا نظام شخصیات پر نہیں بلکہ اصولوں کے ذریعے چلتا ہے۔ اس نظام میں افراد آتے جاتے رہتے ہیں۔ لہذا ماضی میں بھی بڑی سے بڑی قربانی کے باجود انقلاب اسلامی نے کبھی فلسطینی مزاحمت کو تنہاء نہیں ہونے دیا اور نہ ہی ساتھ ترک کیا بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر سانحہ اور قربانیوں کے بعد فلسطین کی مزاحمت خطے میں مزید تقویت کا باعث بنتی رہی ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے مغربی ذرائع ابلاغ اور مغربی حکومتوں کے جھوٹے اور من گھڑت پراپیگنڈا کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران آج بھی بہت زیادہ طاقتور ہے۔شہید صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت سے فلسطین کی مزاحمت کی حمایت میں کوئی فرق آیا ہے اور نہ ہی آئے گا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ جو لوگ اس انتظار میں ہیں کہ اس سانحہ کے بعد ایران فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو چھوڑ دے گا، وہ سب کے سب دھوکہ میں ہیں۔