یروشلم پوسٹ:

ایران نے حساس اسرائیلی مقامات کی فہرست شائع کرکے اسرائیل کو للکارا ہے

بعض عرب ذرائع ابلاغ میں یہودی ریاست کے حساس فوجی اڈوں اور دوسرے اہم مقامات کی فہرست کی اشاعت کے بعد، صہیونی اخبار "یروشلم پوسٹ" نے عرب اخبارات کے اس اقدام کو ایران کی طرف سے یہودی ریاست کے لئے ایک اہم پیغام اور براہ راست دھمکی قرار دیا ہے۔

فاران: یروشلم پوسٹ نے پیر کے روز (28 نومبر 2022ع‍ کو) اپنی ایک رپورٹ بعنوان “ایران نے مستقبل میں نشانہ بنانے کے لئے، اسرائیل کے حساس مقامات کی فہرست، شائع کی” میں لکھا: وزارت عظمیٰ اور کنیسٹ (پارلیمان) اور وزارت جنگ کی عمارتوں جیسے حساس مقامات اس فہرست کا حصہ ہیں۔
مذکورہ اخبار نے لکھا: ایٹمی تنصیبات، حیفا میں رافائل میزائل نظامات، وائیزمین سائنٹفک انسٹی ٹیوٹ، اسرائیل ٹیکالوجی انسٹی ٹیوٹ، ہوائی اڈے، فوجی چھاؤنیاں، سیکورٹی اور جاسوسی ادارے، بشمول بن گورین ایئرپورٹ اور رامون ایئرپورٹ ایرانی حملے کے دوسرے ممکنہ اہداف قرار دیئے گئے ہیں۔
اخبار نے لکھا: اس فہرست میں متذکرہ اہداف میں زیادہ تر فوجی، سیکورٹی اور جاسوسی اداروں کے مراکز ہیں؛ یہ فہرست عرب دنیا میں ایران کے قریبی ذرائع نے شائع کی ہے اور اس طرح کا اقدام اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ہے اور یہ در حقیقت اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے صہیونی ریاست کو براہ راست دھمکی ہے۔
یروشلم پوسٹ نے اس فہرست کی اشاعت کو ایران کی حمایت یافتہ مقاومتی تنظیموں کی حکمت عملی کی تبدیلی کی علامت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: لگتا ہے کہ ایران اپنا مقامی ساختہ میزائل شکن نظام شام منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اخبار کے مطابق، تہران نے اس فہرست کی اشاعت کے ذریعے تل ابیب کو پیغام دیا ہے کہ “اسلامی جمہوریہ ایران اسرائیلی [ریاست] کے ساتھ تناؤ کے نئے مرحلے میں داخل ہؤا ہے اور شام، لبنان اور غزہ میں اپنے اتحادیوں کو صحیح نشانے پر لگنے والے میزائل، ڈرون طیارے اور جدید ترین اسلحہ فراہم کرنا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ صہیونی اخبار نے اپنا یہ موقف احمد عبدالرحمن کی دو حصوں پر مشتمل رپورٹ پر رد عمل کے طور پر اپنایا ہے جو حال ہی میں “المیادین” ٹی وی چینل کی ویب گاہ پر شائع ہوئی تھی۔ اس رپورٹ کے ضمن میں صہیونی ریاست کے حساس سیاسی، معاشی اور اہم عسکری مراکز اور اڈوں کی فہرست کے ساتھ ساتھ ان پر حملے کے نتائج اور اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی تھی۔ دوسری عرب ویب گاہوں نے اس رپورٹ کو المیادین کے حوالے سے ہی شا‏ئع کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ مہدوی