ایران کا موساد سے تعلق رکھنے والے گروہ کو ختم کرنے کا دعویٰ

ٹی وی نے کہا کہ اس گروپ نے متعدد’’حساس علاقوں‘‘ میں تخریب کاری اور’’بے مثال دہشت گردکارروائیوں‘‘ کا منصوبہ بنایا تھا۔رپورٹ میں ان حساس فوجی اور سکیورٹی تنصیبات کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

فاران: ایران نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد سے منسلک ایک گروپ کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس نے مبیّنہ طور پر ایران کے اندردہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس گروپ کے ارکان ایک پڑوسی ملک کے کرد آبادی والے علاقے سے ایران میں داخل ہوئے تھے۔اس نے اس ملک نام نہیں لیا لیکن ترکیہ اورعراق دونوں میں اقلیتی کرد نسل کی آبادی ہے اور وہ دونوں ملکوں کے ایران سے متصل سرحدی علاقوں میں آباد ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی فورسز نے اس گروپ کے تمام ارکان کو گرفتارکرلیا ہے اورملک بھر میں متعدد کارروائیوں میں اس گروپ کابڑی مقدار میں اسلحہ، دھماکاخیز مواد اور تکنیکی اور مواصلاتی سازوسامان ضبط کرلیا ہے۔

ٹی وی نے کہا کہ اس گروپ نے متعدد’’حساس علاقوں‘‘ میں تخریب کاری اور’’بے مثال دہشت گردکارروائیوں‘‘ کا منصوبہ بنایا تھا۔رپورٹ میں ان حساس فوجی اور سکیورٹی تنصیبات کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔واضح رہے کہ ترکیہ اورعراق کی سرحدوں کے ساتھ واقع مغربی ایران میں ایرانی فورسز اور کرد علاحدگی پسندوں کے علاوہ انتہا پسند داعش سے وابستہ عسکریت پسندوں کے درمیان کبھی کبھار لڑائی ہوتی رہتی ہے۔

گذشتہ ماہ ایران کے سرکاری خبررساں ادارے ایرنا نے جنوب مشرقی صوبہ سیستان اوربلوچستان کے حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ اپریل میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ کام کرنے کے شُبے میں تین افراد کوگرفتار کیاگیا تھا اور وہ تینوں ایران کے جوہری سائنسدانوں کو قتل کرناچاہتے تھے۔

یادرہے کہ مئی میں تہران کے مشرق میں واقع فوجی ساوسامان اور اسلحہ سازی کے ایک بڑے اڈے پارچین فوجی کمپلیکس میں ایک واقعہ پیش آیا تھا مگر اس کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔اس میں ایک انجینئر ہلاک اور ایک ملازم زخمی ہو گیا تھا۔بعد ازاں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے اس واقعہ کو’’صنعتی تخریب کاری‘‘ قراردیا تھا۔