بارہا مخالفت کے بعد نیتن یاہو کا جنگ بندی قبول کرنے کی وجوہات

صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں اسرائیلی کابینہ لگ بھگ تیرہ مرتبہ جنگ بندی کی پیشکش مسترد کرنے کے بعد آخرکار اسے قبول کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے غزہ کے خلاف جاری جنگ عارض طور پر روک دینے کی کئی وجوہات پائی جاتی ہیں

فاران: صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں اسرائیلی کابینہ لگ بھگ تیرہ مرتبہ جنگ بندی کی پیشکش مسترد کرنے کے بعد آخرکار اسے قبول کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے غزہ کے خلاف جاری جنگ عارض طور پر روک دینے کی کئی وجوہات پائی جاتی ہیں جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:

1)۔ غاصب صیہونی رژیم اب تک جنگ بندی کا معاہدہ قبول کرنے سے کتراتی آ رہی تھی کیونکہ نیتن یاہو اور صیہونی فوج کے سربراہان کی نظر میں کسی بھی قسم کی جنگ بندی درحقیقت حماس کیلئے فتح شمار کی جائے گی۔ غاصب صیہونی رژیم نے جن اہداف و مقاصد کیلئے غزہ پر فوجی جارحیت کا آغاز کیا تھا اب تک ان میں سے کوئی ہدف بھی پورا نہیں ہو سکا۔ اس کا پہلا ہدف حماس کے ہاتھوں اسیر صیہونی فوجیوں اور آبادکاروں کو آزاد کروانا تھا۔

دوسری طرف حماس ابتدا سے ہی اعلان کر چکی تھی کہ طوفان الاقصی فوجی آپریشن کا بنیادی مقصد اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی اسیروں کو آزاد کروانا ہے۔ لہذا جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کیلئے انجام پانے والے معاہدے کو اسلامی مزاحمت کی عظیم کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ کامیابی اس بات کا باعث بنے گی کہ اسلامی مزاحمت مستقبل میں بھی ایسی حکمت عملی بروئے کار لاتی رہے۔ مزید برآں، حماس کی قید میں موجود خواتین اور بچوں سمیت سویلین افراد ایک طرح سے ان پر اخلاقی، میڈیا اور سیاسی ذمہ داریاں عائد ہونے کا باعث بن رہے تھے۔ اسی وجہ سے حماس انہیں کسی نہ کسی بہانے آزاد کرنے کی خواہاں تھی۔ اب جبکہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ انجام پا چکا ہے تو حماس ان کے بدلے اسرائیل کی قید میں موجود فلسطینی بچوں اور خواتین کو بھی آزادی دلا دے گی۔

2)۔ قیدیوں کا تبادلہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی انجام پانے کا محتاج تھا لہذا نیتن یاہو اور صیہونی فوج جنگ بندی کے خواہاں نہیں تھے۔ دوسری طرف صیہونی فوج اب تک نہ تو حماس کے اعلی سطحی رہنماوں کو قتل کرنے میں کامیاب رہی تھی اور نہ ہی حماس کے سیاسی اور فوجی ڈھانچے کو کوئی قابل ذکر نقصان پہنچا پائی تھی۔ دوسری طرف اسرائیل کے اندر سے حکومت پر اسرائیلی قیدیوں کو آزاد کروانے کیلئے دباو بڑھتا جا رہا تھا۔ لہذا نیتن یاہو کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

3)۔ نیتن یاہو اور اس کی کابینہ نے اسرائیلی قیدیوں کے کارڈ کو مغربی اور یورپی حکومتوں پر دباو ڈالنے کیلئے استعمال کیا اور اس طرح عالمی ذرائع ابلاغ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ نے بھی غزہ پر صیہونی جارحیت کو جائز قرار دینے کی بہت کوشش کی لیکن انہیں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

4)۔ بنجمن نیتن یاہو اور اس کی کابینہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ حماس کی قید میں موجود اسرائیلی قیدیوں کا میڈیا پر آ کر اظہار خیال کرنے سے ان کے اس جھوٹے پروپیگنڈے کا پول کھل جائے گا جو اس مدت میں انہوں نے حماس اور اسلامی مزاحمتی گروہوں کے خلاف انجام دیا ہے۔ اس کا نتیجہ نیتن یاہو حکومت کی سرنگونی کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ لہذا وہ ان قیدیوں کی آزادی نہیں چاہتے تھے لیکن آخرکار عالمی دباو کے تحت انہیں ایسا کرنا پڑ گیا۔

5)۔ نیتن یاہو اور اس کی دائیں بازو کی شدت پسند کابینہ کی نظر میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ اس میں حتی اسرائیلی اور غیر اسرائیلی ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نیتن یاہو غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام اور نسل کشی کیلئے تلمود کی تعلیمات کو بنیاد بنا کر پیش کرتا ہے۔ نیتن یاہو اور اس کی کابینہ نے غزہ کے خلاف جارحیت وہاں مقیم فلسطینیوں کی نسل کشی اور انہیں غزہ چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور کرنے کیلئے شروع کی تھی۔

یوں غاصب صیہونی رژیم غزہ کی پٹی پر بھی ناجائز قبضہ برقرار کرنے کے درپے تھی۔ لیکن غزہ میں فلسطینیوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کر کے اسرائیلی ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ صیہونی رژیم کی جانب سے اب تک جنگ بندی قبول نہ کرنے کی ایک وجہ یہی تھی کہ وہ فلسطینی شہریوں پر زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنا چاہتے تھے۔ لیکن جب صیہونی حکام کو اس مقصد میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو آخرکار جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہو گئے۔

6)۔ نیتن یاہو ہر قیمت پر غزہ جنگ میں فوجی کامیابی کے درپے تھا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ناکامی کی صورت میں اس کی سیاسی موت واقع ہو سکتی ہے۔ بنجمن نیتن یاہو پہلے سے عدالت میں اپنے خلاف کئی کیسز کا سامنا کر رہا ہے اور اندرونی سطح پر اس پر شدید دباو پایا جاتا ہے۔

غزہ جنگ میں فوجی کامیابی کے حصول کی شدید ضرورت اور خواہش نیتن یاہو کی جانب سے جنگ بندی قبول کرنے میں آڑے آ رہی تھی۔ لیکن جب پورا زور لگانے کے باوجود میدان جنگ میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو پائی تو اس نے مایوس ہو کر آخرکار جنگ بندی قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں پایا۔

7)۔ نیتن یاہو کی شدید خواہش تھی کہ قطر کی بجائے مصر جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کرے۔ وہ اس طرح ایک طرف تو غزہ کے محاصرے میں شریک کے طور پر مصر کی پوزیشن مضبوط کرنے کے درپے تھا جبکہ دوسری طرف اسلامی مزاحمتی گروہوں پر زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے تیرہ مرتبہ جنگ بندی کو مسترد کر دیا لیکن آخر میں جب دیکھا کہ ایسا ممکن نہیں تو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہو گیا۔