بارہ سالہ فلسطینی بچے پر اسرائیلی فوجیوں نے پوری مشین گن خالی کردی

عبرانی اخبار نے شہید فلسطینی بچے کی شہادت کے مناظر کو المناک اور خوفناک قرار دیا۔

فاران: اسرائیل کے کثیر الاشاعت عبرانی اخبار’ہارٹز‘ نے جمعہ کے روز ایک رپورٹ جاری ہے جس میں 25 مارچ کو غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں بلاطہ پناہ گزین کیمپ میں ایک سولہ سالہ بچے کو بے دردی کے ساتھ شہید کیے جانے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

عبرانی اخبار نے شہید فلسطینی بچے کی شہادت کے مناظر کو المناک اور خوفناک قرار دیا۔ اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نہتے 16 سالہ فلسطینی بچے نادر کے جسم میں 12 گولیاں ماری گئیں۔ اس طرح بچے کے جسم پر پوری مشین گن خالی گئی جس کے نتیجے میں بچے کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ سرمیں گولیاں  مارے جانے سے اس کا دماغ پھٹ گیا۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچے کے جسم میں پیوست ہونے والی گولیاں بہت گہری تھیں جس کے باعث بہت زیادہ خون بہا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جرم کا کوئی جواز نہیں۔ بچے جب گولیاں ماری گئیں تو وہ نہتا تھا اور فوج کی فائرنگ سے بھاگنے کی کوشش جس پر اسے بے دردی کے ساتھ گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔