طوفان الاقصیٰ؛

بحیرہ قلزم کے بادشاہ کو اسرائیل کی کُرنِش

یمن، وہ ملک ہے جو مقبوضہ فلسطین سے 2000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، طوفان الاقصیٰ کے بعد کے ایک مہینے میں ٹوٹتے پھوٹتے صہیونی پیکر پر مہلک ترین ضربیں لگانے میں کامیاب ہؤا۔

فاران: یمن، وہ ملک ہے جو مقبوضہ فلسطین سے 2000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، طوفان الاقصیٰ کے بعد کے ایک مہینے میں ٹوٹتے پھوٹتے صہیونی پیکر پر مہلک ترین ضربیں لگانے میں کامیاب ہؤا۔
یمن کی انقلابی حکومت نے ـ غزہ میں صہیونی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کُشی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ـ 19 نومبر 2023ع‍ کو ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا کہ ذیل کی خصوصیات رکھنے والے بحری جہاز یمن کے نشانے پر ہونگے:
– وہ جہاز جو غاصب صہیونی کا پرچم لہرائیں گے،
– وہ جہاز جو غاصب صہیونی ریاست کے زیر استعمال ہیں،
– وہ جہاز جو صہیونی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔
یمن سمندر میں غاصب صہیونیوں کے خلاف میدان میں اترا، لیکن کیوں؟
سنہ 2019ع‍ سے “ایران اور اسرائیل کی بحری جنگ” کے عنوان سے ایک مسئلہ ذرائع ابلاغ میں ابھرا۔ البتہ تل ابیب کی جعلی ریاست نے ڈیڑھ سال قبل مجبور ہوکر اس جنگ کے یکطرفہ خاتمے کا اعلان کیا۔ اس جنگ میں صہیونی ریاست کا کردار امریکی آلہ کار کا کردار تھا، اور ماجرا کچھ یوں تھا کہ امریکہ نے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ لانے کا اعلان کیا تھا اور غاصب ریاست اسی امریکی پالیسی کے ضمن میں ایران کے تجارتی تعلقات میں خلل ڈالنے کی غرض سے ایرانی تیل بردار بحری جہازوں کے خلاف تخریبی کاروائیان کرتی تھی۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی مئی 2019ع‍ میں، بحیرہ قلزم (یا بحر احمر Red Sea) میں ایک ایرانی تیل بردار جہاز میں مشکوک فنی خرابی تھی۔
صہیونی ریاست کے خفیہ اداروں سے وابستہ اخباری ویب گاہ دیبکا فائل (DEBKAfile) نے سنہ 2021ع‍ میں رپورٹ دی تھی کہ اسرائیل نے 2019ع‍ سے 2021ع‍ تک کے دو سالہ عرصے میں ایران کے 12 تیل بردار جہازوں کے خلاف تخریبی کاروائیاں کیں۔ یہ کاروائیاں بحیرہ روم کی طرف جانے والی آبراہوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کی صورت میں تھا۔ دوسرا نمونہ ـ چھ اپریل 2021ع‍ کو بحیرہ قلزم میں، اریٹیریا (Eritrea) کے ساحل کے قریب، پیش آنے والا حادثہ تھا ـ جب ایران کے باربردار جہاز ساویز (MV Saviz) ایک سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرایا۔ سرکاری طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان سمندری جنگ کا انکار کیا جاتا رہا مگر صہیونی اور مغربی ذرائع میں یہ جنگ فاتحانہ انداز سے جاری رہی۔
غاصب ریاست کے سلامتی امور کے نامہ نگار یوسی میلمن (Yossi Melman) نے اسی حوالے سے لکھا: “کام اچھی طرح سے آگے بڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ ایران نے فیصلہ کیا، کہ بس اتنا ہی کافی ہے”، جس کا مطلب یہ تھا کہ ایران نے مؤثر جوابی کاروائیوں کا آغاز کیا تھا۔
مغربی ذرائع کے دعوؤں کے مطابق، صہیونی ریاست کا ایک کارگو جہاز [بحیرہ عرب میں] نشانہ بنا جو موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہین (Yossi Cohen) کے قریبی اسرائیلی ارب پتی اور رشتہ دار ابرہام رامی اونگر (Abraham Rami Ungar) کی ملکیت تھا۔ یوسی کوہین خود گاڑیوں کی منڈی نیز بحری تجارت کا بروکر ہے۔ رامی اونگر اسی جہاز کا مالک ہے جس کا ایک جہاز گلیکسی لیڈر (Galaxy leader) 19 نومبر 2023ع‍ کو یمنی فوج نے بحیرہ قلزم میں، ضبط کر لیا۔
جعلی ریاست کے حکام نے ابتداء میں اس جہاز کے مالکین کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئی دعویٰ کیا کہ یہ جہاز جاپان اور برطانیہ کا ہے، لیکن اس جہاز کی ملکیت کے سلسلے میں عمومی نقل و حمل کی ویب گاہوں کی اطلاعات کے مطابق گلیکسی لیڈر ابراہام رامی اونگر کی ملکیت ہے۔ بحری سلامتی کی ایک کمپنی ایمبری (Ambrey) نے بھی تصدیق کی ہے کہ Ray Car Carriers کمپنی اس کشتی کی مالک ہے جس کی پیرنٹ کمپنی ابراہام رامی اونگر کی ملکیت ہے۔
بہرحال مبینہ بحری جنگ کا یہ سلسلہ ایسی سمت میں آگے بڑھا کہ غاصب صہیونی ریاست کو 2021ع‍ یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرنا پڑا۔ اس جنگ بندی کا سبب وہی ہوسکتا ہے جو یوسی میلمن نے کہہ دیا کہ: ” کام اچھی طرح سے آگے بڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ ایران نے فیصلہ کیا، کہ بس اتنا ہی کافی ہے؛ کیونکہ بحری آبراہیں اسرائیل کی کمزوری سمجھی جاتی ہیں”۔
اب یمن نے اس کمزوری کو چھیڑ رکھا ہے۔ گلیکسی لیڈر نامی جہاز کے ضبط ہونے کے بعد اسرائیلی تجارتی برادری کو زبردست جھٹکا پہنچا ہے اور متنازعہ علاقوں میں اسرائیلی سرمایوں کی زد پذیری نمایاں ہو چکی ہے۔ [واضح رہے کہ آج [26 نومبر 2023ع‍] بھی بحر ہند میں ایک صہیونی جہاز ڈرون حملے کا نشانہ بنا ہے اور ایک جہاز کو یمنی بحریہ نے ضبط کر دیا ہے]۔
اقتصادی پیچیدگی کی رَصَدگاہ (Observatory of Economic Complexity [OEC]) نے 2021ع‍ میں رپورٹ دی کہ صہیونی ریاست کی برآمدات کا تخمینہ 64.1 ارب ڈالر اور درآمدات کا تخمینہ 92.1 ارب ڈالر ہے۔ ادھر صہیونی ریاست کی وزارت نقل و حمل کے اعداد و شمار کی رو سے، غاصب صہیونی ریاست کی زیادہ تر تجارت بحری راستوں سے انجام پاتی ہے اور اس کی اہم تجارتی بندرگاہیں حیفا، اشدود اور ایلات میں واقع ہیں اور اس ریاست کی 98 فیصد تجارت ان بندرگاہوں سے انجام پاتی ہے۔ یہ سب اس حقیقت کی دلیل ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کی معیشت سمندری راستوں کے سہارے قائم ہے۔
اسی مسئلے کی رو سے، غاصب ریاست برآمدات اور ایشیائی ممالک، بحر الکاہل کے ممالک اور قرن افریقا (Horn of Africa) کے بعض ممالک سے ساز و سامان اور خدمات کی درآمدات کے لئے بحر قلزم میں جہازرانی سے وابستہ ہے:
صہیونی ریاست کی درآمدات:
چین سے (14.3%)، بھارت سے (3.68%)، ہانگ کانگ سے (3.067%)، جنوبی کوریا سے (2.22%)، سنگاپور سے (1.84%)، جاپان سے (1.8%)، تائیوان سے (1.12%)، تھائی لینڈ سے (0.9%)، ویت نام سے (0.62%)، انڈونیشیا سے (0.18%)، سری لنکا سے (0.17%)، فلپائن سے (0.089%)، بنگلہ دیش سے (0.067%)، کمبوڈیا سے (0.019%) اور ملیشیا سے (0.011%)۔ علاوہ ازیں جعلی ریاست کی درآمدات جنوبی افریقہ سے (%0.28)، آسٹریلیا سے (0.27%) اور نیوزی لینڈ سے (0.032%) ہیں۔
یوں سمجھئے کہ غاصب صہیونی ریاست کی 30 فیصد درآمدات بحیرہ قلزم سے گذر کر آتی ہیں۔
عارضی ریاست کی برآمدات ایشیا میں:
چین کو (7.86%)، بھارت کو (4.41%)، تائیوان کو (2.63%)، ہانگ کانگ کو (2.43%)، جنوبی کوریا کو (2.26%)، جاپان کو (1.81%)، سنگاپور کو (1.17%)، ویت نام کو (0.9%)، تھائی لینڈ کو (0.66%)، فلپائن کو (0.44%)، سری لنکا کو (0.17%)۔ اس میں آسٹریلیا کو جانے والی (1.06%) جنوبی افریقہ کو (%0.38) اور نیوزی لینڈ کو (0.18%) برآمدات کا اضافہ کریں۔
یوں صہیونی ریاست کی 30 فیصد برآمدات بحیرہ قلزم سے گذر کر جاتی ہیں۔ جہازوں اور ان پر لدے ہوئے مال کی قیمتوں کے علاوہ بحری نقل و حملے کے انشورنس کی رقم بھی بہت اہم ہے۔ اگر یمنی حکومت کی موجود حکمت عملی مستحکم اور جاری رہی تو انشورنس کمپنیاں اسرائیلی کشتیوں کو خدمات پیش کرنے کی پرانی پالیسی پر نظر ثانی کریں گی۔
جہازرانی کی کمپنیوں نے پہلے ہی، جنگ غزہ کی وجہ سے، اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسرائیل کے لئے سامان لادنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔

یمنیوں کے ہاتھوں صہیونی جہاز کی ضبطی سے قبل بھی، جنگ کے خطرے کی وجہ سے جہازران کمپنیوں کو انشورنس پریمیم میں 10 گنا اضافے کا سامنا تھا، اور قاعدہ یہ ہے کہ صہیونی جہازوں کی مسلسل ضبطیوں اور بحری تنازعے کی بحری جنگ پر منتج ہونے کا امکان اس عدد میں زبردست اضآفہ کرے گا۔
اسرائیلی جہازوں کی نقل و حرکت پر قدغن اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کے براہ راست اثرات اشیائے صرف پر قیمتوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ کیونکہ دوسری اشیاء کے درکنار، غاصب صہیونی ریاست کی 70 فیصد اشیائے خورد و نوش کی برآمدات کا دارومدار سمندی راستوں پر ہے۔
اور ہاں! یہ مسئلہ یہیں اختتام پذیر نہيں ہوتا بلکہ پوری دنیا کے اسرائیلی اور صہیونی تاجر بھی محفوظ نہيں رہیں گے۔ ابراہام رامی اونگر کا بحری جہاز گلیکسی لیڈر ترکی سے بھارت کی طرف رواں دواں تھا، اور اسی اثناء میں یمنی فوج کا شکار ہو گیا۔
بحیرہ قلزم سے بحری راستے کی تبدیلی صہیونیوں کے لئے آسان نہیں ہوگ، کیونکہ اس کا مطلب براعظم افریقہ کا پورا چکر کاٹنا ہوگا جو دنیا کی صہیونی کمپنیوں کے اخراجات میں ایک دھماکے کے مترادف ہوگا۔
بحیرہ قلزم اور آبنائے باب المندب دنیا کی اہم ترین تجارتی آب راہوں میں سے ایک ہے جس کے طرف یمن اور دوسری طرف ننھی سی ریاست جیبوتی واقع ہے۔ اسی بنا پر امریکہ، جرمنی، ہسپانیہ، اطالیہ، فرانس، برطانیہ، جاپان اور چین نے تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر اس چھوٹی ریاست میں اپنے اڈے قائم کر لئے ہیں، تاکہ اس تزویراتی آب راہ پر نظر رکھ سکیں۔
یمن مقبوضہ فلسطین سے 2000 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جس نے گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران صہونی ریاست کے ٹوٹتے پھوٹتے پیکر پر ہلاکت خیز ترین ضربیں لگائی ہیں۔ یمنی میزائل اور ڈرون طیارے اب تک درجنوں مرتبہ امریکی، سعودی، اردنی، مصری اور صہیونی میزائل شکن نظامات سے عبور کرکے صہیونیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
انصار اللہ یمن نے 19 نومبر 2023ع‍ کو ایک صہیونی ارب پتی کے جنگی جہاز کو ضبط کرکے بحیرہ قلزم میں جعلی اسرائیل اور اس کے حامیوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا؛ جبکہ امریکی ہیلی کاپٹر بردار جہاز (LHD-5) USS Bataan ریڈ الرٹ پر تھا۔ مذکورہ جہاز جولائی کے مہینے میں سپاہ پاسداران کا مقابلہ کرنے کے لئے! خلیج فارس بھی آیا تھا جو اب یمن کے پانیوں میں پہنچ گیا ہے!
یمن نے اسرائیلی جہاز کو ضبط کیا تو Glovis Star اور Hermes Leader نامی دو صہیونی جہاز یمنی کی حدود سے دور چلے گئے۔ یمنی بحریہ کے کمانڈر میجر جنرل محمد فضل عبد النبی نے اعلان کیا: “ہم خبردار کرتے ہیں کہ جو بھی فوجی دستہ اسرائیلی جہازوں کی حفاظت کے لئے آئے گا، وہ اسرائیل کے خلاف ہماری جنگ کے ضمن میں جائز نشانہ سمجھا جائے گا”۔