بچوں کے قتل عام پر اسرائیل کو قصور وار ٹھہرایا جائے: گوٹیرس

گوٹیرس نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سالانہ رپورٹ میں بچوں اور مسلح تصادم سے متعلق، جس میں گذشتہ ایک سال کے دوران دنیا بھر میں ہونے والے تنازعات میں بچوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کوریکارڈ کیا گیا، میں

فاران: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے “اسرائیل” کے ہاتھوں قتل ہونے والے فلسطینی بچوں کی تعداد پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے مواخذے اور بچوں کے قتل پر صہیونی ریاست کو جواب دہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

گوٹیرس نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سالانہ رپورٹ میں بچوں اور مسلح تصادم سے متعلق، جس میں گذشتہ ایک سال کے دوران دنیا بھر میں ہونے والے تنازعات میں بچوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کوریکارڈ کیا گیا، میں
فلسطینی بچوں پر بار بار کیے جانے والے حملوں پر اسرائیل پر سخت اور غیر واضح طور پر تنقید کی۔

رپورٹ میں گذشتہ ایک سال کے دوران اسرائیلی قابض افواج کے جرائم کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں غزہ کی پٹی پر جارحیت بھی شامل ہے۔ اس جارحیت کے نتیجے میں بچوں سمیت بڑی تعداد میں فلسطینی شہری شہید ہوئے تھے۔

گوٹیرس نے کہا کہ وہ قابض فوج کے ہاتھوں اور گنجان آباد علاقوں پر فضائی حملوں میں براہ راست بارود کے استعمال اور ان خلاف ورزیوں کے لیے مسلسل جوابدہی کے فقدان پر فلسطینی بچوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی وجہ سے حیران ہیں۔”

انہوں نے اسرائیلی افواج پر زور دیا کہ وہ فلسطینی بچوں کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدامات کرے اور بچوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے سے گریز کرے۔

گوٹیرس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ہر اس معاملے کی تحقیقات کرے جس میں گولہ بارود استعمال کیا گیا ہو۔ انہوں نے پہلی بار تسلیم کیا کہ “فلسطینی بچوں کے خلاف اسرائیلی خلاف ورزیوں پر صہیونی ریاست کو جواب دہ ٹھہرانے کا کوئی منظم اقدام نہیں کیا گیا ہے۔