بے خبری و تغافل اور معاشرے  کی تباہی و بربادی

ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے ایسی عادتوں سے خود کو نجات دلائے  جو بری ہیں  ، یہ بری عادتیں غفلت کی بنیاد پر بالکل ایسے ہی انسانی روح میں جم جاتی ہیں جیسے میل کچیل ، انسان غسل کرتا ہے تو میل کچیل چھوٹ جاتا ہے فکر بھی روح کے غسل کی طرح ہے جتنا انسان گہرائی میں جا کر سوچے گا فکر کرے گا اتنا ہی روح کی گندگی صاف ہوگی ۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: بے خبری اور تغافل ایسی بیماری ہے  جس کا بر وقت علاج نہ ہو تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے ، بے خبر انسان خود بھی اپنے لئے مشکلات کے وجود میں آنے کا سبب بنتا ہے دوسروں کے لئے بھی مصیبت کا سبب ہوتا ہے ،بے خبر انسان کی روح مسلسل غفلت کی  وجہ  سے مردہ ہو جاتی ہے وہ اسیر ہوائے نفس ہو کر شیطان کے ہاتھوں کھلونا بن جاتا ہے ، جب انسان غفلت کے اس مرحلے میں پہنچتا ہے کہ  جہاں اس کو ہر اپنی بات صحیح لگتی ہے  اپنا ہر قدم درست لگتا ہے تو یہی وہ منزل ہوتی ہے جہاں انسان پر اب کسی اخلاقی نصیحت کا اثر نہیں ہوتا ۔ جو کوئی بھی ایسے غافل انسان کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے جواب ملتا ہے ہم اپنے بارے میں آپ سے بہتر سوچ سکتے ہیں آپ سے بہتر انداز میں اپنے  لئے کر سکتے ہیں، ہمیں پتہ ہے کیا کرنا ہے ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے  ۔ یہ ایسی ہی بیماری ہے کہ  فرض کریں ایک انسان جو سخت علیل و مریض ہو ڈاکٹر سے کہے کہ مجھے اپنا علاج پتہ ہے آپ کی ضرورت نہیں ۔

 انسان کی اصلاح غفلت سے نکلے بغیر ممکن نہیں :

انسان اسی وقت اپنی اصلاح کر سکتا ہے جب وہ اپنے عیب سے باخبر ہو، جسے عیب کا ہی پتہ نہ ہو یا جو اپنے عیب کو عیب نہ سمجھ کر ہنر سمجھ ر ہا ہو اسے سمجھانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ، واضح ہے کہ انسان اگر اپنی بیماریوں سے آگاہ ہوگا تبھی اسے معالج کی تلاش ہوگی  انسان ڈاکٹر کے پاس اسی وقت جاتا ہے جب اسے پتہ ہو کہ مرض لاحق ہے لیکن جو انسان اپنے آپ بالکل صحت مند سمجھ رہا ہے  وہ کبھی کسی طبیب  کی تلاش میں سرگرداں نظر نہیں آ ئے گا ، یہی وجہ ہے کہ دانشوروں نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ آگہی و علم کے ذریعہ انسان تمام رذائل و برائیوں کی زنجیروں کو توڑ سکتا ہے ، اپنے آپ کا برے اخلاق و خصائل سے پاکیزہ بنا سکتا ہے  لیکن بے خبری میں جینے والا انسان انہیں زنجیروں کو  زیور سمجھ بیٹھتا ہے جو اسکے وجود کو جکڑے ہوئے ہیں ۔

 غور و فکر غفلت سے نکالنے کا ذریعہ : 

دین نے غور  فکر و تدبر کی بات اسی لئے کی ہے کہ یہ اس کے ذریعہ انسان غفلت سے نکلتا ہے آگہی کے میدان میں قدم رکھتا ہے  آفاق و انفس کامطالعہ کرتا ہے اور رب کریم کی نعمتوں کے مقابل شکر  بجا لاتا ہے ۔

خطرات سے مقابلہ ہو یا اپنے نفس کی اصلاح کی بات  جب تک انسان فکر نہیں کرے گا نہ کسی خطرے سے مقابلہ کر سکتا ہے نہ ہی اپنے نفس کی تربیت و تعمیر ، چنانچہ فکر و شعور کے ساتھ  مطالعہ نفس انسان کو اس بات پر ودار کرتا ہے کہ وہ دیکھے اس کے وجود کے اندر کیا نقائص  پائے جا رہے ہیں ،  اپنے نفس  پر جب وہ غور کرتا ہے تو  ہی نقائص کو برطرف کرنے کی منصوبہ بندی کر پاتا ہے اور پھر آئینہ نفس کو گناہوں سے  کے غبار سے دھوتا ہے ، جہاں فکر و تدبر انسان کو  اس کی خامیوں کی  طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ ہے وہیں غفلت کی پرت جتنی جمتی جاتی ہے اتنا ہی اصلاح کے کام میں دشواری آتی جاتی ہے ، آپ نے آئینہ کو دیکھا ہوگا اگر اس پر کوئی داغ پڑ جائے اور اسے فورا صاف کر دیا جائے تو آئینہ شفاف ہو جاتا ہے لیکن اگر روز ہی اس پر ہر دن کے سورج کے ساتھ داغ پر داغ پڑتے رہیں تو آئینہ ایک منزل پر اتنا سیاہ ہو جاتا ہے کہ اس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا   پھر آئینہ وہ کام نہیں کر پاتا جس کے لئے اسے آئینہ کہا گیا ہے ۔

 نفس کی اصلاح کے لئے ثبات قدم و عزم مصمم ضروری :

شک نہیں کہ انسان کے نفس کی اصلاح کوئی آسان کام نہیں ہے  اس کے لئے بہت مشقت کی ضرورت ہوتی ہے  استقامت و پائداری کی ضرورت ہوتی ہے ،انسان اگر بری عادتوں سے نجات چاہے تو سب سے پہلے اسے ہمت کی ضرورت ہے پھر صبر و تحمل کی ضرورت ہے اس کے بعد یہ مرحلہ آتا ہے کہ  برائیوں کی جگہ اچھائیوں کو رائج کرے اس کے لئے بھی  عزم مصمم ضروری ہے ، بہت سے دانشوروں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے  کہ جب تک آپ روز حالت فکر میں نہ اٹھیں گے آپ کچھ نہیں کر سکتے ، چنانچہ پروفیسر کارل سے منسوب یہ بات ملتی ہے : زندگی کو عقلانیت کی بنیادوں پر گزارنے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ روز ہی انسان صبح اٹھ کر پورے دن کا پروگرام بنا لے اور ہر شب غور کرے کہ جو اس نے پروگرام بنایا تھا آج دن بھر میں پورا بھی ہوا یا نہیں ؟ ۔

ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے ایسی عادتوں سے خود کو نجات دلائے  جو بری ہیں  ، یہ بری عادتیں غفلت کی بنیاد پر بالکل ایسے ہی انسانی روح میں جم جاتی ہیں جیسے میل کچیل ، انسان غسل کرتا ہے تو میل کچیل چھوٹ جاتا ہے فکر بھی روح کے غسل کی طرح ہے جتنا انسان گہرائی میں جا کر سوچے گا فکر کرے گا اتنا ہی روح کی گندگی صاف ہوگی ۔

 انسان کے وجود کی صلاحیتیں اور ان کا اظہار :

مالک نے انسان کو اس کائنات میں اس لئے بھیجا ہے کہ وہ اپنے وجود کے اندر پائے جانے والے ذخائر کو سامنے لائے اور خود بھی آگے بڑھے سماج و معاشرے کو بھی کمال کی راہوںپر  گامزن کرائے ، یہ تبھی  ہوگا جب انسان اپنی عادتوں کو سدھارے اور قوت ادراک کو بڑھائے   لیکن انسان کی غفلت اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی  غفلت کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ انسان کی توجہ اس بات پر نہیں رہتی جس پر رہنا چاہیے ، غفلت انسان کو پرواز سے روک دیتی ہے اور اسے لا یعنی ایسی چیزوں میں الجھا دیتی ہے جو اس کے کسی کام کی نہیں ہوتیں بلکہ اسکا سرمایہ عمر گھٹتا رہتا ہے  اور وہ کوئی با مقصد کام نہیں کر پاتا ۔

ہم اپنے گردو پیش میں نظر ڈالیں تو ہمیں کئی ایسے غافل وجود ملیں گے  جنکا بوجھ زمیں ڈھو رہی ہے انہیں نہ آج کا پتہ ہے نہ ہی آنے والے کل کا ۔وہ بڑی سی اسکرین پر روز  خبریں ضرور دکھتے ہیں لیکن ان کے ذہن کی اسکرین روز بروز سکڑتی ہی جا رہی ہے  نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم چائے کے ہوٹلوں پر  تو بڑی بڑی باتیں سنتے ہیں نکڑ اور چوراہے  یا چوپالوں میں تو  بہت سے لوگ ہیں جو قوم  کا درد پور ے وجود سے انڈیلتے  نظر آتے ہیں لیکن عملی میدان میں کچھ بھی نہیں ہے ، نہ ہمارے پاس اچھے اسکول و کالجز ہیں ، نہ پاسپٹلز کی سہولت ہیں نہ ہی  کوئی ایسا سرمایہ جس سے قوم کی معیشت کو سنبھالا جائے اور اگر اکا دکا کچھ لوگ کچھ کر بھی رہے ہیں تو سہارا دینے والے کم اور ٹانگ کھینچنے والے زیادہ ہیں ۔

یہ بڑی بڑی  گلی و نکڑ میں بڑی بڑی ڈیگیں مارنے والے دیکھیں کہ ہمارے خلاف کچھ قدر زہریلے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے ، کس قدر  مذہبی منافر ت کی آگ کو حصول اقتدار کی خاطر  ہوا دی جا رہی ہے تو انہیں اندازہ ہو کہ ہم کہاں کھڑے ہیں  اس پارٹی اور اس پارٹی کے نیتا سے تھوڑے سے مراسم ہو گئے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم محفوظ ہیں یا کوئی  ہماری آواز بن کر ہمارے حقوق دلا دے گا جو بھی جنگ ہے وہ ہمیں خود ہی لڑنا ہے ۔ ہم میں سے بعض  اپنے گاوں کا دیہات میں حکمراں جماعت کی جانب سے اقلیتیوں کے لئے کچھ پرواگرام کرا لینے کی بنا اتساہے ہو جاتے ہیں کہ سرکار ہمارے لئے یہ کر رہی وہ کر ہی جب کہ اس مسموم فضا کو نہیں دیکھتے جو پورے ملک میں ہمارے خلاف بنائی جا رہی ہے اور حد تو یہ ہے کہ اب وہ آئین بھی محفوظ نہیں جس کی ہم دوہائی لگاتے ہیں ، اگر کوئی  اس مذہبی نفرت کی خندق میں کودنے سے پہلے عقلانیت کی بات کرتا ہے تو اسے بھی نشانہ بنایا جاتا ہے  ابھی حال ہی میں بنارس میں ایک دلت پروفیسر کو ایک یونیورسٹی سے اس لیے نکالا گیا ہے کہ انہوں نے ہندو خواتین کو ملک کے آئین اور ہندو پرسنل لا قانون کو پڑھنے کی صلاح دی تھی [1] ملک کے آئین کو پڑھنے کی بات  ہندو  پرسنل لا کے مطالعہ کی بات میں ایسا کیا ہے کہ   نفرتوں کے بچاری نہیں چاہتے کوئی انہیں پڑھے ؟۔۔

یہ حالات تو  رنسانس سے پہلے کے اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب  یہودی عورتوں کو انکی مذہبی کتاب سے دور رکھا جاتا تھا  ظاہر ہے اگر کوئی ملک کے آئین  کو پڑھے گا تو بہتر طور پر  اس کے نفاذ میں کوشاں ہوگا ، علم ہمیشہ  راستے کھولتا ہے   جہالت ہمیشہ راستے مسدود کرتی ہے ۔

یہ تو ایک معمولی سی مثال سی ایسی نہ جانے کتنی ہی داستانیں ہیں جو روز رقم ہو رہی ہیں اور ہم ان سے غافل ہیں ،آج مشکل یہ ہو گئی ہے کہ چو طرفہ طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن ہم ہی میں سے بعض اٹھ کر دشمنوں کی پالیسیوں کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں  جبکہ بعض ہمارے ہندو بھائی  کھلی ذہنیت کے ساتھ ہمارا ہر طرح سے ساتھ بھی دے رہے ہیں لیکن منصوبہ بندی نہ ہوے کی وجہ سے ہم کچھ نہیں کر پا رہے ہیں  جب تک ہم اس ملک کی اکثریت اس بات کواس بات کو تسلیم نہیں کرتی  کہ اکثریت   کا  ایک بڑا حصہ مسلمانوں کو ظلم اور بربریت کا نشانہ بنانے میں مختلف انداز سے ملوث ہے،تب تک  اس اژدہے کا سر نہیں کچلا جا سکتا ہو نفرت کا دودھ پی پی کر  پھولتا جا رہا ہے اور روز ہی کسی نہ کسی کو نگل رہا ہے حال ہی میں  تجزیہ  نگار عاصم  علی  نے خوبصورت انداز میں بعض مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے جن پر توجہ کی ضرورت ہے  [2]

گجرات کے ایک علاقے میں جس طرح پتھراو کے الزام  کے تحت  مسلمان جوانوں کو لا کر  بجلی کی کھمبے سے باندھ کر مارا گیا اور پولیس نے انہیں سزا دی وہ اپنے آپ  میں عجیب وغریب ہونے کے ساتھ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ جس طرح کل طالبانزم کی ہمارے چینل کھل کر مخالفت کر رہے تھے آج اس مذہبی جنون کی مخالفت انہوں نے نہیں کی تو انہیں وہی سب کچھ دیکھنا پڑے گا جو افغانستان کے مظلوم عوام نے دیکھا اور سہا ہے ، کتنی عجیب بات ہے طالبانی طرز فکر کی مخالفت کرنے والے بڑی دھوم دھام سے ایسے مناظر کو ٹیلیکاسٹ کرتے ہیں جس میں  بغیر کسی جج کے بغیر کسی تعزیرات کے خود عوام ہی منصف جج بن کر فیصلہ کر رہے ہیں اور پولیس انکا ساتھ دے رہی ہے  نہ کوئی قانون ہے نہ کورٹ نہ کچہری  اور اسے خوب خوب مرچی مصالحہ لگا کر دکھایا جا رہا ہے  کیا یہ انسانیت ہے ؟ کیا یہ ملک  کی سلامتی  وامنیت کے حق میں ہے ؟  یہ تو محض ایک واقعہ ہے جس کی طرف عاصم علی  صاحب نے اشارہ کیا ہے  نہ جانے اس طرح کے کتنے ہی واقعات ہے ہیں جو روز ہی رونما ہو رہے ہیں لیکن ہمیں پتہ ہی نہیں ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے  اس سے قبل کے دیر ہو جائے سبھی کو جاگنے کی ضرورت ہے سبھی کو بے خبری  و تغافل سے نکلنے کی ضرورت ہے  سب سے پہلے ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ حالات کا صحیح تجزیہ کریں اور دیکھیں ملک میں کیا ہو رہا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے اس میں  ہمارا رول کیا ہے ؟  شک نہیں کہ معاشرے کی تباہی میں جہاں بہت سے عناصر ہیں ان میں ایک بے خبری اور تغافل بھی ہے ، بے خبری و تغافل  میں مبتلا معاشرے کے ساتھ کچھ بھی کر لو کوئی نہیں بولتا  اور یہی سکوت پورے معاشرے کی تباہی کا سبب ہے ۔

 

. [1] https://m.thewire.in/article/caste/varanasi-abvp-professor-dalit-fired-banned

https://theprint.in/opinion/why-its-easier-to-call-kheda-police-violence-talibanisation-than-hindutvaisation/1157871/. [2]