تل ابیب: مہارت کا دعویٰ اور خوف کا اعادہ

صہیونی پولیس نے کل بروز سوموار (13 جون) نے اعلان کیا ہے کہ تین صہیونیوں کو کو خفیہ معلومات انٹرنیٹ پر نشر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں ایک فوجی بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق پولیس، فوج اور شین بیٹ کے اہلکار ان افراد سے مشترکہ تفتیش مکمل کر چکے ہیں۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: گزشتہ سے پیوستہ
کسی کے لئے بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ صہیونی ریاست مال ویئر (Malware) اور اسپائی ویئر (Spyware) کی تیاری میں پیش پیش ہے؛ یہاں تک کہ تل ابیب نے بارہا سائبر حملوں میں اپنی مہارتوں پر زور دیا ہے۔ لیکن اس بیان بازیوں اور مبینہ مہارتوں کے باوجود، سائبر حملے صہیونی ریاست کی بقاء کے لئے چیلنج اور سلامتی کے لئے سنجیدہ خطرہ بن چکے ہیں اور مختصر وقفوں میں اس ریاست کے عمومی اور سیکورٹی ڈھانچوں کو کو ہلا کر رکھ دیا گیا ہے۔ ان حملوں میں تل ابیب کی حیرت اور سرگردانی، سائبر حملوں سے نمٹنے اور معلومات کی حفاظت میں ناکامی اور حتیٰ کہ حملہ آور ہیکنگ گروپوں کے بارے میں کافی معلومات کی قلت اور سمجھ بوجھ کی کمی نے یہودی ریاست کی سائبر کمزوری کا دائرہ وسیع تر کر دیا ہے۔
سائبر حملوں سے نمٹنے میں البتہ تل ابیب کی جعلی ریاست کی کمزوری نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ اب غاصب ریاست کو درپیش طویل المدت چیلنج میں تبدیل ہؤا ہے۔ سائبر حملوں سے نمٹنے میں صہیونی ریاست کی بے بسی ہی باعث بنی ہے کہ اس نے سائبر دفاعی نظام کو ترقی دینے کا آغاز کیا ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی نے سات سال قبل – حفاظتی خلاء کو پُر کرنے اور سائبر حملوں سے نمٹنے کی غرض سے حکمت عملی تلاش کرنے کے لئے غاصب ریاست کے سلامتی کے سینیئر ماہرین کی موجودگی میں – ایک کانفرنس منعقد کیا۔ یہ کانفرنس غاصب ریاست کے لئے اس قدر اہم تھی کہ اس وقت کے صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی کانفرنس ہال میں حاضر ہؤا؛ نیتن یاہو نے اس کانفرنس کے موقع پر کہا کہ “یہودی ریاست جس قدر کہ کمپیوٹر پر انحصار کرے گی اتنی ہی زد پذیر اور غیر محفوظ ہوگی”۔ نیتن یاہو کے موقف کی وجہ یہ تھی کہ صہیونیوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ایسے گروپ انہیں بدترین حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں جن کا سراغ لگانا اور مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔
تل ابیب میں بیرونی جاسوس
مقبوضہ سرزمین میں جاسوسوں کا سراغ ملنے اور گرفتار ہونے کی خبریں، تل ابیب کے حوالے سے مستقل، دلچسپ اور مقبول خبروں میں شامل ہیں۔ ان خبروں کی تفصیلات اس لئے دلچسپ ہیں کہ سامعین و قارئین [و صارفین و ناظرین] ان سے اس حقیقت کا بخوبی ادراک کر سکتے ہیں کہ یہودی ریاست کی اندرونی تہہوں تک رسوخ کرنا ممکن ہے اور دوسری طرف سے اس کے دشمن اور حریف کے اثر و نفوذ میں اضافہ ہونا بھی ممکن ہے۔ صہیونی ریاست تل ابیب میں بیرونی [بالخصوص ایران کے] جاسوسوں کی موجودگی کا اقرار اور حیرت و پریشانی کا اظہار کرتی ہے، حتیٰ ان جاسوسوں کے اہداف و مقاصد اور کارکردگیاں بھی ابلاغیات کے شائقین کے لئے دلچسپ ہیں۔ جاسوسوں کی موجودگی کا خوف اور ان کی موجودگی پر یقین نے سائبر حملوں سے تل ابیب کے بڑھتے ہوئے خوف کا باعث ہے۔
چند ماہ قبل جب غاصب ریاست کی اندرونی سلامتی کے ادارے شاباک نے ایک بیان جاری کرکے ایران کے لئے جاسوسی کے الزام میں چار اسرائیلی عورتوں اور ایک مرد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تو سنہ 1989ع‍ سے 1996ع‍ تک صہیونی جاسوسی ادارے موساد کا سربراہ رہنے والے شبتائے شاویت (Shabtai Shavit) نے اخبار “اسرائیل ہیوم” کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا: “میں کسی وقت اسرائیل کی حفاظت کرنے والی ایجنسی کی چوٹی پر، اسرائیل کے تحفظ کے لئے ایرانیوں کو بھی بھرتی کیا کرتا تھا، اب اس ایران کے لئے جاسوسی کرنے والے اسرائیلی جاسوسوں کی گرفتاری کی خبر سن کر ششدر رہ گیا، میرے لئے ذاتی طور پر اس واقعے کا باور کرنا دشوار ہے”۔
شین بیٹ کے سابق سربراہ یعقوب پیری (Ya’akov Peri) نے تل آبیب میں جاسوسی کے حقائق کی توقعات اور ان کی موجودگی کا باور کرنے کی معمول کی سطح سے آگے بڑھ کر کہا: “مجھے ایران کی فعالیتوں سے حیرت نہیں ہوئی ہے۔ گوکہ یہ ایک تازہ اور انوکھا پہلو ہے [تقابل کا]”۔ یقینا تازہ پہلو سے پیری کا مطلب صہیونی ریاست کے اتہاہ گہرائیوں تک ایران کی رسائی مقصود تھی؛ اور یہ تازہ اور انوکھا پہلو، صہیونیوں کو “جاسوس کی تلاش میں” صہیونی وزیر جنگ کے گھر تک بھی لے گیا اور “بینی گانٹز” کی نوکرانی [خاکروبن] تک پہنچایا۔ گرفتاری کی وضاحت کرتے ہوئے صہیونیوں نے اعتراف کیا کہ خاتون نے ایران سے وابستہ ایک ہیکر گروپ کو معلومات فراہم کی تھیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب صہیونی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بینی گانٹز کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایران کی طرف انگلی اٹھائی گئی۔
تاہم اس کے بعد صہیونی ریاست کے دعوے مزید واضح ہوئے اور اس نے اسلامی جمہوریہ ایران پر براہ راست الزامات لگانا شروع کئے۔ جعلی ریاست کی اندرونی سلامتی کے سابق مشیر مئیر بن شبات (Meir Ben-Shabbat) نے اس سلسلے میں دلچسپ موقف اپنایا اور عبرانی اخبار گلوبز (globes) کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ “اسرائیل اور ایران کے درمیان – بالخصوص سائبر اسپیس کے میدان میں – ایک جنگ جاری ہے اور یہ جنگ، جو درحقیقت پس پردہ لڑی جا رہی ہے، بدستور جاری ہے۔ اور میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی”۔
سائبر کے میدان میں صہیونی ریاست کی بڑھتی ہوئی کمزوری کا ثبوت یہ ہے کہ اس ریاست کے سیکورٹی اور فوج کے حکام نے واشنگٹن سمیت اپنے مغربی حامیوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ باقاعدہ جنگ کا آغاز کریں: یعنی سائبر حملوں اور ہیکنگ کے مقابلے میں فوجی تقابل اور باقاعدہ جنگ!!! یعنی یہ کہ جعلی ریاست نہ صرف ایران کی سائبر طاقت کا مقابلہ کرنے سے بالکل عاجز ہے بلکہ مقابلے کے راستے بھی کھو گئی ہے۔
مورخہ 13 جون کی خبریں:
صہیونی ریاست پر تازہ سائبر حملہ ہؤا ہے۔ صابرین نیوز کی رپورٹ کا عنوان ہے “تل ابیب میں نئے جاسوس: صہیونی ریاست سائبر حملوں کے نشانے پر”۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی ریاست پر ایک بہت بڑا سائبر حملہ ہؤا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق شارپ بوائز (Sharpboys) ہیکنگ گروپ نے مالویئر (malware) حملے کے ذریعے صہیونی ریاست کی سیاحتی ویب گاہوں پر حملہ کرکے 200 افراد کے کریڈٹ کارڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ذیل کی ویب سائٹ اس حملے کا نشانہ بنی ہیں:
hotel4u.co.il
noapass.co.il
gol.co.il
booking-hotels.co.il
booking-kibbutz.co.il
come2israel.co.il
come2israel.com
funtoursisrael.com
mlonot.co.il
ortal.net

سیف القدس آپریشن کا دائمی گھاؤ
سیف القدس کا معرکہ صہیونیوں کے لئے ایک دھچکے سے کم نہ تھا جس نے کم از کم 11 دن تک صہیونیوں کے رابطوں کو دنیا سے منقطع کیا اور انہیں ڈر کے مارے پناہ گاہوں میں زندگی گذارنا پڑی۔ مقاومت نے تل ابیب میں “اللد” ہوائی اڈے اور النقب میں “رامون” ہوائی اڈے پر میزائل برسائے اور سنہ 1948ع‍ کے بعد پہلی مرتبہ، ان کے فرار کے راستوں کو بند کئے رکھا۔ اس بار جنگ فلسطینیوں نے شروع کی تھی اور میزائل حملوں کا فیصلہ بھی خالصتا فلسطینی تھا جو محمد ضیف، یحییٰ سنوار اور مقاومت کے جرنیلوں نے اٹھایا تھا۔
اور ہاں پھر بھی جاسوس پکڑے گئے!
صہیونی پولیس نے کل بروز سوموار (13 جون) نے اعلان کیا ہے کہ تین صہیونیوں کو کو خفیہ معلومات انٹرنیٹ پر نشر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں ایک فوجی بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق پولیس، فوج اور شین بیٹ کے اہلکار ان افراد سے مشترکہ تفتیش مکمل کر چکے ہیں۔ یہ افراد فوجی عدالت کے حکم پر گرفتار ہوئے تھے۔ گرفتار ہونے والا فوجی، عسکری انٹیلی جنس کا رکن تھا۔