حماس کو فلسطینی اتھارٹی کو سخت انتباہ

قاسم نے مزید کہا کہ صدر جو بائیڈن کا بیت المقدس کا دورہ اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر کے ساتھ ملاقات ان کے دورے کو خوبصورت بنانے کی کوشش ہے۔

فاران: اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے  کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے بارے میں امریکی صدرجو بائیڈن کی گفتگوان کے قابض ریاست کے وژن کے تئیں اپنے تعصب کو مضبوط کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔امریکا کی جانب سے رائے عامہ کو کچھ کھوکھلنے نعروں اور وعدوں کے ذریعے وہم بیچنے کا سلسلہ جاری ہے جو حقیقت کو چھپا نہیں سکے گا۔ ہمارے عوام کے خلاف جارحیت میں امریکا کی شراکت داری سے ہوتی ہے اور نام نہاد القدس اعلامیہ اس کا واضح مظہر ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک پریس بیان میں کہا کہ یہ واضح تھا کہ صدر بائیڈن نے شہید شیرین ابو عاقلہ کے قتل کے حوالے سے قابض ریاست ے بیانیے کو اپنایا، اور انہوں نے اس معاملے کو سرد مہری سے نمٹایا۔اس کے حوالے سے جان بوجھ کر نظر انداز کیا حالانکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ابو عاقلہ کے قتل کا جرم اسرائیلی فوج کا دانستہ اور سوچا سمجھا اقدام تھا۔

قاسم نے مزید کہا کہ صدر جو بائیڈن کا بیت المقدس کا دورہ اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر کے ساتھ ملاقات ان کے دورے کو خوبصورت بنانے کی کوشش ہے۔ امریکا خطے کے دوسرے ممالک صہیونی ریاست کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے اور ان کے ساتھ صہیونی ریاست کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا  کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے لیے یہ اعلان کرنا عجیب ہے کہ وہ قابض کے ساتھ امن کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور ہمارے لوگوں اور ان کے مقدسات کے خلاف قابض دشمن کے تمام جرائم کے بعد بھی فلسطینی اتھارٹی صہیونی دشمن کے ساتھ مذاکرات کی جال میں الجھنا چاہتی ہے۔

حماس کے ترجمان نے فلسطینی اتھارٹی کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ “فریب بیچنا بند کریں اور قابض ریاست کے خلاف مزاحمت اور امریکی پالیسی کو مسترد کرنے یا امریکا اور اسرائیل میں کے ساتھ کھڑے ہونے میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔

حماس کے مغربی کنارے میں قومی تعلقات کے شعبے کے سربراہ جاسر البرغوثی نے زور دیا کہ بائیڈن کا فلسطینی عوام کے حقوق کو نظر انداز کرنا، ان سے معمولی بات کرنا اور صہیونی ریاست کے لیے ان کی مکمل حمایت کا  واضح اظہار ہے