خطے میں صہیونی اجارہ داری کی امریکی کوششیں مسترد:حماس

"حماس" نے مزید کہا کہ  "بائیڈن کا صہیونی ریاست  اور خطے کا دورہ طرناک ہے۔ امریکی انتظامیہ کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اس دورے کے سیاسی ، قانونی اور انسانی نتائج کی ذمہ داری امریکی انتظامیہ پر عاید ہوگی۔

فاران: اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے امریکی صدر جوبائیڈن کے دورہ مشرق وسطیٰ پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ اس دورے کا مقصد خطے میں صہیونی ریاست کے رسوخ اور اس کی بالادستی کو مستحکم کرنا ہے۔

حماس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت اور فلسطینی قوم امریکی صدر کے دورے کو مسترد کرتے ہیں۔ امریکا کی کھلم کھلا اسرائیل کی طرف داری جاری ہے اور جوبائیڈن خطے میں صہیونی ریاست کو مزید رسوخ دلانے کی مہم پر ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کا صہیونی ریاست کے لیے اندھا تعصب اور قابض ریاست کی حمایت فلسطینیوں کے حقوق کی نفی ہے۔

“حماس” نے مزید کہا کہ  “بائیڈن کا صہیونی ریاست  اور خطے کا دورہ طرناک ہے۔ امریکی انتظامیہ کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اس دورے کے سیاسی ، قانونی اور انسانی نتائج کی ذمہ داری امریکی انتظامیہ پر عاید ہوگی۔

حماس نے جوبائیڈن کے “اس دورے کے ایجنڈے” کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کا فلسطین پر قبضہ برقرار رکھنے میں صہیونی ریاست کی مدد کرنا ہمارے وطن کی اراضی دشمن کو دینے کے متراف ہے۔ فلسطینی اپنےحقوق اور آزادی پر کسی دباؤ کا شکار نہیں ہوں گے۔

حماس نے زور دے کر کہا کہ یہ دورہ “خطے میں صیہونی وجود کو مربوط کرنے  اور اس کے ساتھ  تعلقات کومعمول پر لانے کے دائرے کو وسعت دینے کی کوشش ہے جو خطے کی سلامتی اور اس کے عوام کی استحکام کے لئے ایک نیا چیلنج ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کل بدھ کو مشرق وسطیٰ کے تین روزہ دورے پر اسرائیل پہنچے تھے۔ وہ فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر کے دورے کے بعد سعودی عرب جائیں گے جہاں وہ ایک علاقائی کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔ کانفرنس میں خلیجی ممالک کی قیادت کے علاوہ اردن، مصر اور عراق کے سربرہان مملکت بھی شرکت کریں گے۔