سعودی حکام بھی آخرکار پلٹ آئے

سعودی بادشاہ اور ولی عہد نے اسلامی انقلاب کی 45ویں سالگرہ اپنے الگ الگ پیغامات میں صدر سید ابراہیم ر‏ئیسی کو مبارک باد دی ہے۔

فاران: سعودی بادشاہ اور ولی عہد نے اسلامی انقلاب کی 45ویں سالگرہ اپنے الگ الگ پیغامات میں صدر سید ابراہیم ر‏ئیسی کو مبارک باد دی ہے۔
ان دوستانہ پیغامات کا دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ آج سے چند ہی سال قبل سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کو یقین تھا [اور یقینا انہیں آج بھی یقین ہوگا] کہ ایران شیعیان اہل بیت(ع) کے بارہویں امام کے ظہور کے لئے ماحول سازی کر رہا ہے اور اس کے ساتھ کسی قسم کا تعاون و تعامل ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا تھا کہ “ہم جنگ کو ایران کے اندر منتقل کریں گے”۔
لیکن تہران نے صبر و تحمل کے ساتھ یمن میں اپنے اتحادیوں کی حمایت جاری رکھی اور سعودی عرب کو اس نتیجے پر پہنچنے میں مدد دی کہ “اس کی جنگ پسندیاں لا حاصل ہیں اور محور مقاومت [یا محاذ مزاحمت] کو ایک عینی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا چاہئے”۔
آج یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ ایران نے سعودی عرب کے ساتھ سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے کسی بھی اصول سے پسپائی اختیار نہیں کی ہے بلکہ سعودی عرب کو اس حقیقت سے آشنا کر دیا ہے کہ “سعودی عرب کے مفاد امریکیوں کی اندھادھند پیروی میں نہیں بلکہ خطے کے حقائق تسلیم کرنے میں ہے”۔
اور ہاں! ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کے سمجھوتے کے ایک سال بعد اس بارے میں کچھ کہنا زیادہ ممکن ہؤا ہے کہ “سمجھوتے کے حصول کے لئے کون سا ملک اپنی پالیسیوں سے پسپا ہؤا ہے”۔
یقینا سعودی حکام آج خدا کا شکر ادا کر رہے ہونگے کہ یمن کے ساتھ جنگ اختتام پذیر ہوئی ہے، یمن جو اسلامی جمہوریہ ایران کا تزویراتی اتحادی ملک ہے اور آج اس قدر طاقتور ہو چکا ہے کہ بحیرہ احمر میں امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ دو دو ہاتھ کر رہا ہے اور کسی بھی ملک کا بحری جہاز صنعا کی اجازت کے بغیر باب المندب سے گذر کر بحیرہ احمر میں داخل نہیں ہو سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔
میڈیا کارکن علی رضا تقوی نیا کی ٹیلی گرام پوسٹ سے استفادہ کیا گیا