سعودی عرب، شیعہ مسلمانوں کی گرفتاریوں میں تیزی

سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں شیعہ مسلمانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ ایک بار پھر تیز ہو گیا ہے۔

فاران: سعودی اپوزیشن ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ملک کی سیکورٹی فورسز نے سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں گرفتاریوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔

فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق العہد نیوز سائٹ نے رپورٹ دی ہے کہ گزشتہ جولائی میں سعودی سیکیورٹی سروسز نے قطیف، الاحساء اور الدمام میں شدید چھاپے ماری کی اور سارہ العلی کو الاحساء سے بغیر کسی جرم یا مقدمے کے گرفتار کر لیا۔ سعودی سیکورٹی فورسز نے عبدالمجید بن حاجی الاحمد کو بھی گرفتار کرلیا جو دینی مدرسے کے استاد ہیں۔

اس نیوز سائٹ کے مطابق سعودی فورسز نے حسین رجب، حسین المطوع اور موسیٰ علی الخنیزی کو بھی گرفتار کر لیا۔ آل سعود کے حزب اختلاف کے ذرائع نے کہا کہ ان گرفتاریوں کا عام مقصد ان لوگوں کی میڈیا سرگرمی تھی کیونکہ وہ سوشل نیٹ ورکس اور نیوز پلیٹ فارمز میں سرگرم تھے اور ان کا نقطہ نظر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسی سے متصادم تھا۔

ان ذرائع نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ یہ گرفتار افراد اس وقت تک اپنے اہل خانہ سے رابطے سے محروم ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی افواج نے ان کے تمام مواصلاتی ذرائع کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

مذکورہ ذرائع نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آل سعود کے حکام اس ملک کے شہریوں کو آزادانہ زندگی گزارنے سے روک رہے ہیں اور سعودی عرب کے کم عمر ترین سیاسی قیدی “مرتجی قریریص” کی قید پر افسوس کا اظہار کیا۔