سلام کمانڈر دنیائے تشیع کا گزشتہ چند سالوں میں مقبول ترین مذہبی ترانہ

المیادین کی رپورٹ میں مزید اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ سلام کمانڈر ، ایک ایسا ترانہ ہے جو آج ہر ایرانی گھر میں سنا جا رہا ہے جس کا ایک خاص ثقافتی پیغام ہے نورانی کلمات اور موثر آہنگ و انداز کے ساتھ یہ ایک ایسا ترانہ ہے جو معاشرے کے دل کی دھڑکن بن گیا ہے حتی ایران کی سرحدوں سے عبور کر کے یہ بعض عربی اور افریقی ممالک تک بھی پہنچ گیا ہے .

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: فارس نیوز ایجنسی کی خبر کے مطابق ” سلام کمانڈر” جسے فارسی میں “سلام فرماندہ “کے طورپوری دنیا میں جانا جا رہا ہے ایک ایسا ترانہ ہے جو امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے سلسلہ سے بچوں کے نفسیات کو پیش نظر رکھ کر لکھا اور فلمایا گیا ہے ، یہ وہ ترانہ ہے جس نے بہت ہی مختصر سے وقت میں دنیا بھر میں اپنا ایک الگ ہی مقام بنایا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ٹی وی چینلز نے اس ترانے پر خاص رپورٹیں پیش کی ہیں ، لبنان کے المیادین ٹی وی نے بھی اس ترانے پر اپنی خاص رپورٹ پیش کی۔ المیادین ٹی وی نے ایران میں اس ترانے کے پڑھے جانے کے مختلف اجتماعات کی تصاویر کو نشر کرتے ہوئے جس میں بچے نوجوان خواتین و مرد سبھی مل کر امام زمانہ سے استغاثہ کر رہے ہیں اس بات کو بیان کیا کہ یہ وہ ترانہ ہے جو امام غائب کے سلسلہ سے لکھا گیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایران کے مختلف شہروں میں اپنی وہ جگہ بنائی جو نا قابل یقین تھی ، مختصر سے عرصے میں یہ ترانہ ہر شہر و ہر گلی میں بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے ساتھ زبان زد خاص و عام ہو گیا اور نہ صرف ایران میں ہی بلکہ دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی اس کی گھن گرج سنی جانے لگی ، سینگال، ہندوستان ، فلسطین ، شام ، لبنان ، عراق اور دیگر مقامات پر ڈیجیٹل دنیا میں سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کے علاوہ عوامی پروگراموں میں اب بھی یہ مسسلسل تیزی کے ساتھ نشر ہو رہا ہے۔
المیادین ٹی وی کے نامہ نگار اور رپورٹر نے تہران سے اپنی ایک رپورٹ میں ایران کے آزادی اسٹیڈیم میں ایک لاکھ لوگوں کے اجتماع کی جھلکیوں کو پیش کرتے ہوئے اس عظیم اجتماع کے روح پرور مناظر و حالات کو دکھاتے ہوئے اظہار خیال کیا ” اس ناقابل شمار لوگوں کے سیلاب میں اس باوقار منظر میں کس طرح ایک تصویر ہم سب کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے جہاں ایک خاتون اس ترانے کے اشعار کو اپنے اشاروں کی زبان میں دل کی سچائی کے ساتھ دل سے پڑھ رہی ہے اور اپنے زمانے کے امام سے اپنے عشق کا اظہار کر رہی ہے یہ وہ چیز ہے کہ بہت ساری باتوں کے نچوڑ کو پیش کرتی ہے جو اس ترانے کا حصہ ہیں ۔
المیادین کے رپورٹر نے آگے کی اپنی گفتگو میں کہا ” یہ وہ منظر ہے جسے ہم نے ایران کے مختلف صوبوں اور شہروں میں دیکھا ہے جس میں چھوٹے اور بڑے اور ایسے بچے جنکا سن دس سال سے بھی کم ہے متحد ہو کر اپنے امام سے عہد کر رہے ہیں وہ امام جس کے منتظر ہیں اپنے اس امام کو عشق ومحبت کے ساتھ پکار کر سلام کر رہے ہیں اور ایک ساتھ مل کر آواز دے رہے ہیں سلام کمانڈر ۔
ایرانی ہدایت کار ، فلم نویس واہل قلم قاسم عوض بیگی نے المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے اس ترانے کے نشر ہونے کے سلسلہ سے اس بات کو بیان کیا کہ جو لوگ اس ترانے کو پسند کرتے ہیں جن کے دل کو اس ترانے نے چھو لیا ہے وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ ان کے گھر والوں نے اور بچوں نے اس ترانے کی ٹیم سے کہا کہ مختلف شہروں اور صوبوں میں جائیں اور اس ترانے کو پڑھیں تاکہ دنیا کو بتا سکیں کہ پوری سچائی کے ساتھ ہم اپنے پیشوا اور رہبر و امام کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔
قاسم عوض بیگی نے “سلام کمانڈر” کے سلسلہ سے بتایا کہ یہ ایک ایسی قابل محسوس اور ایرانی معاشرے کے دل میں گھر کر جانے والی اصطلاح ہے کہ جس پر ہونے والی دشمنان دین و ایمان کی یلغار نہ صرف یہ کہ اثر انداز نہ ہو سکی اور اس سے اس ترانے پر فرق نہیں پڑا بلکہ جیسے جیسے دشمنوں کے حملے بڑھتے گئے ویسے ویسے ہی یہ اور مقبول ہوتا گیا ،اور آج دشمن اس ترانے کے مزید دنیا میں پھیلنے سے پریشان ہے اس لئے کہ یہ وہ ترانہ ہے جو آنے والی نسلوں کے درمیان انقلابی جذبے کی بیداری کا سبب ہے
المیادین کی رپورٹ میں مزید اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ سلام کمانڈر ، ایک ایسا ترانہ ہے جو آج ہر ایرانی گھر میں سنا جا رہا ہے جس کا ایک خاص ثقافتی پیغام ہے نورانی کلمات اور موثر آہنگ و انداز کے ساتھ یہ ایک ایسا ترانہ ہے جو معاشرے کے دل کی دھڑکن بن گیا ہے حتی ایران کی سرحدوں سے عبور کر کے یہ بعض عربی اور افریقی ممالک تک بھی پہنچ گیا ہے .
اس ترانے کا منظوم ترجمہ “نجیب زیدی ” نے اس طرح اردو کے قالب میں بھی پیش کیا ہے
یا مولانا یا صاحب الزمان
الغوث الغوث ادرکنی .
سلام آقا سلام آقا
سلام مولا سلام مولا
عاشق یہ جاں ہے امام ِ زمانہ
عاشق یہ دل ہے امام ِ زمانہ

تمہارے بنا یہ، دنیا ہے خالی
گلشن میں کیا ہے، اگر نہ ہو مالی
اگر آو تم تو بہاریں بھی آئیں
سبھی مل کے خوش ہوں خوشیاں منائیں
تمہارے بنا ہے بے معنی یہ دنیا
ائے عشق ہستی! جو ہو تم تو احساس مجھکو یہ ہوئے
سب کچھ مجھے مل گیا ہے جہاں میں۔
یہ دنیا مری ہے بہاروں کی ساتھی۔
نہ ہو تم تو دنیا کے معنی ہی کیا ہیں؟
جو ہو ہم نفس تم بہاریں بھی آئیں ۔
نہ ہو تم تو دنیا میں رکھا ہی کیا ہے ۔
عاشق یہ جاں ہے امام ِ زمانہ
عاشق یہ دل ہے امام ِ زمانہ
سلام کمانڈر !
سلام ہو اس نسلِ غیور دوراں کا
سلام کمانڈر ! سید علی نے ہی چودہ سو تینتالیس کی مسحور دہائی میں ہم سب کو بلایا ہے
ہاں خامنہ ای نے ہی ہم سب کو سدا دی ہے

سلام کمانڈر ۔
آ جاو جانم کہ ساتھی بنوں گا
سدا جانِ من بن کے ناصر رہونگا
مہزیارِ زماں بن کے مولا ۔
تمہیں پر جیونگا تمہیں پر مرونگا۔
میں بن جاونگا مہزیارِ زمانہ
میں بن کے علی ابن مہزیار زمانہ
تمہیں پر جیونگا۔
اسی چھوٹے قد سے سپاہی بنوں گا ۔
اسی کمسنی میں عدو سے لڑونگا۔

سلام کمانڈر !
سلام ہو اس نسلِ غیور دوراں کا
سلام کمانڈر ! سید علی نے ہی چودہ سو تینتالیس کی مسحور دہائی میں ہم سب کو بلایا ہے
ہاں خامنہ ای نے ہی ہم سب کو صدا دی ہے ۔
نہ دیکھو کہ چھوٹے قدم ہیں یہ میرے ۔
انہیں سے میں اٹھ کر تمہارے لئے دشمنوں سے لڑونگا ۔
میں مرزایے کوچک کی صورت کہیں پر وغا میں
اجل بن کے میں دشمنوں کے سروں پر گرونگا ۔
نہ دیکھو مرے چھوٹے قدموں کو مولا ۔
صفِ تین سو تیرہ سے میرا ہو تم پر سلام ۔
نہ دیکھو کہ چھوٹا ہوں تم بس صدا دو۔
مجھے بس پکارو اور دیکھو کہ کیا کچھ کرونگا تمہارے لیے
مری کمسنی کو نہ دیکھو انہیں چھوٹے ہاتھوں سے ہر آن ہی میں تمہارے لئے بس دعاء کر رہا ہوں
نہ دیکھو کہ چھوٹا ہوں میں
میں اپنے ماں باپ کو خود کو تم پر فدا نہ کروں تو محبت ہی کیسی؟
سبھی تم پہ قربان مولا ۔
تمہار ے لئے میں جہاں سے
لڑونگا۔

سلام کمانڈر !
سلام ہو اس نسلِ غیور دوراں کا
سلام کمانڈر ! سید علی نے ہی چودہ سو تینتالیس کی مسحور دہائی میں ہم سب کو بلایا ہے
ہاں خامنہ ای نے ہی ہم سب کو سدا دی ہے ۔
عہد ہے یہ میرا کہ جاں تم پہ دونگا
تمہارے لئے حاج قاسم بنونگا
عہد ہے یہ میرا کہ بھجت کی صورت۔
کہیں اک سپاہی میں گمنام بن کر۔ جبینِ شہادت کا جھومر بنونگا۔
تمہاری اس طرح سے میں خدمت کرونگا ۔
میں نظامِ ولایت کا حامی رہونگا
عہد ہے یہ میرا ۔
کاش کہ حاج قاسم کی صورت میں میں بھی
تمہاری نگاہوں کے لائق بنوں
حاج قاسم کی صورت تمہاری نگاہ کرم
میرے اوپر پڑے
میری قسمت کھلے ۔
چودہ سو سال بھی اب تو ہونے کو آئے تمام ۔
سیکڑوں سال سے یہ زمانہ جہاں
ڈھونڈے ہے کہ ہے مہدیِ دوراں کہاں
یاور و ناصروں کی نہ قلت پہ رنجور ہو ۔
ساتھیوں کی کمی کا نہ غم اب کرو ۔
اس دہائی کا ہر ایک عاشق ہے ساتھی تمہارا
سلام کمانڈر ! سید علی نے ہی چودہ سو تینتالیس کی مسحور دہائی میں ہم سب کو بلایا ہے
ہاں خامنہ ای نے ہی ہم سب کو صدا دی ہے۔