سیدہ ہدیٰ موسوی: مغربی میڈیا نے عالم اسلام کے تمام طبقات کو نشانہ بنایا

حزب اللہ لبنان کے سابق سکریٹری جنرل کی بیٹی نے کہا: "مغربی میڈیا صرف نوجوانوں کو ہی نشانہ نہیں بناتا، بلکہ اسلامی دنیا کے تمام طبقوں کو بھی نشانہ بناتا ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، دوسری طرف، مسلمان نوجوان اپنے دفاع کی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔ اسلامی اقدار اور اسلامی معاشرے کے تشخص کے دفاع کے لیے ہر ممکنہ طریقے سے لڑتے ہیں۔ یہ ایک اہم کردار ہے جو نوجوانوں نے ادا کیا ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: “خواتین اور القدس” کے زیر عنوان منعقدہ بین الاقوامی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ لبنان کے سابق سکریٹری جنرل شہید سید عباس موسوی کی دختر نیک اختر سیدہ ہدیٰ موسوی نے علمائے کرام کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: روایات کے مطابق اسلامی تشخص کے دفاع میں علمائے کرام کا اہم کردار ہے، ان کا کردار حتی فوجی میدان میں دفاع کرنے والوں سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ خدا کے نزدیک دین کا دفاع جسموں کے دفاع سے زیادہ ہے، اس سے دشمنوں کے ثقافتی حملے کے خلاف نظریاتی دفاع کے میدان میں نوجوانوں کی موجودگی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: “اسلام پھیل رہا ہے اور اسلام پر دشمنوں کا حملہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، دشمنوں کو اسلام کے خطرے کا احساس ہے۔ عالمی استکبار، جب سے اسے اسلامی ریاست کے پھیلاؤ کا احساس ہوا، میڈیا کے ذریعے منحرف خیالات کا پرچار کرنے لگا، مثال کے طور پر حجاب کو پسماندگی کی علامت کے طور پر استعمال کیا۔
حزب اللہ لبنان کے سابق سکریٹری جنرل کی بیٹی نے مزید کہا: مغربی میڈیا نہ صرف نوجوانوں کو بلکہ اسلامی دنیا کے تمام طبقوں کو بھی نشانہ بناتا ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف، مسلمان نوجوانوں نے دفاع کی ذمہ داری محسوس کی۔ اسلامی اقدار اور اسلامی معاشرے کے تشخص کے دفاع کے لیے ہر ممکنہ طریقے سے، خدا کی راہ میں لڑے۔ یہ ایک اہم کردار ہے جو نوجوانوں نے ادا کیا ہے۔
اسلامی تہذیب کے پھیلاؤ کا ذکر کرتے ہوئے سید ہدیٰ موسوی نے کہا: اسلامی تہذیب عقل پر مبنی ہے اور مزاحمتی نوجوانوں کا انحصار الہی تعلیمات پر ہے، وہ عقل اور علم کے ساتھی ہیں اور ان میں جرات و بصیرت جیسی خصوصیات ہیں۔ مزاحمت کی فکر کی بنیاد جبر و استبداد کی نفی پر ہے، مزاحمت کا مطلب ہر طرح کے استبداد کا مقابلہ کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مغربی افکار مادیت پر مبنی ہیں، جب کہ مزاحمتی نوجوانوں کے افکار الہی تعلیمات پر مبنی ہیں اور انبیاء الہی اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے راستے پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں، استکباری نظام نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مزاحمت وہ راستہ ہے جو انبیاء علیہم السلام کے زمانے سے آج تک چلا آ رہا ہے، لہٰذا مزاحمت ایک ایسا پرندہ ہے جو شہادت کے مسئلہ پر یقین اور دینی افکار و علماء دین سے ارتباط کے دو پروں سے پرواز کرتی ہے۔

واضح رہے کہ “خواتین اور قدس شریف” بین الاقوامی کانفرنس اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی اور دیگر متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں ایران اور دیگر ممالک کے مفکرین نے شرکت کی۔