سینٹکام کے دہشت گردوں نے مقاومت کے انسداد دہشت گردی کے اڈوں کو نشانہ کیوں بنایا / داعش فضائیہ کی رونمائی

امریکی ڈیموکریٹ جماعت اپنی آبرو بچانے کے لئے ایک محدود کاروائی کرنا چاہتی تھی۔ ڈیموکریٹ انتظامیہ نے کل رات کی کاروائی کو وسیع اور کامیاب قرار دیا لیکن حریف ریپبلکنز نے اس کاروائی کو غیر اہم قرار دیا جو تاخیر سے انجام پائی ہے۔ امریکہ میں سابق برطانوی سفیر کم ڈاروچ (Kim Darroch) نے امریکہ میں موجودہ سیاسی اختلافات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے: امریکہ میں انتخابات کا سال ہے، چنانچہ ان کے لئے یہ کاروائی ناگزیر تھی کیونکہ بائیڈن انتظامیہ کمزوری نہیں دکھانا چاہتے۔

فاران: کل رات امریکہ نے مقاومت اسلامی کے اڈوں پر فضائی حملے کرکے، داعش کو الحشد الشعبی کی چھاؤنی پر زمینی حملے کا موقع فراہم کیا اور داعش نے امریکی حملوں کے عین وقت ہی الحشد الشعبی پر حملہ کیا۔
دہشت گرد امریکی فوج کا حملہ 30 منٹ تک جاری رہا اور دعوی کیا گیا کہ عراق کے چار علاقوں اور شام کے تین علاقوں میں 85 ٹھکانوں پر حملے ہوئے ہیں۔
امریکہ نے کہا ہے کہ یہ جارحیت اردن میں ٹاور-22 پر مقاومت کے حملے میں 3 امریکی افسروں کی ہلاکت کے بدلے کے طور پر کی گئی ہے، اس رات سے لے کر اب تک حملے کے حتمی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ گوکہ جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ میں الجھنے اور جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ جس سے معلوم ہو رہا تھا کہ بائیڈن خطے میں ایک مختصر سا ڈرامہ رچا کر ایک تیر سے دو نشانے لگانا چاہتے ہیں اور کسی خاص فوجی حصولیابی کے درپے نہیں ہیں۔ اس سے قبل بائیڈن نے واشنگٹن کے قریب ایک فوجی ہوائی اڈے میں اپنے ہلاک شدہ افسروں کی لاشوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا تھا: “ہم خطے میں اپنے حریفوں کو جواب دیں گے”۔
جس پر فاکس نیوز کے نامہ نگار نے لکھا کہ امریکی عوام بائیڈن کے اس جملے کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ “بائیڈن جوابی کاروائی میں تاخیر کر رہے ہیں تاکہ مقاومت کے مجاہدین شام اور عراق میں اپنے اڈوں کو خالی کر سکیں”۔
انتخابات کی آمد آمد پر فوجی کاروائی کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟
امریکی ڈیموکریٹ جماعت اپنی آبرو بچانے کے لئے ایک محدود کاروائی کرنا چاہتی تھی۔ ڈیموکریٹ انتظامیہ نے کل رات کی کاروائی کو وسیع اور کامیاب قرار دیا لیکن حریف ریپبلکنز نے اس کاروائی کو غیر اہم قرار دیا جو تاخیر سے انجام پائی ہے۔
امریکہ میں سابق برطانوی سفیر کم ڈاروچ (Kim Darroch) نے امریکہ میں موجودہ سیاسی اختلافات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے: امریکہ میں انتخابات کا سال ہے، چنانچہ ان کے لئے یہ کاروائی ناگزیر تھی کیونکہ بائیڈن انتظامیہ کمزوری نہیں دکھانا چاہتے۔
مختلف سفارتکاروں نے یہی رائے ظاہر کی ہے اور وائٹ ہاؤس نیز پینٹاگون حکام کے درہم برہم خیالات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کاروائی وائٹ ہاؤس کی وسیع تشہیری مہم کے برعکس، غیر اہم تھی یا یوں کہئے کہ یہ مہم ڈھول کی طرح کھوکھلی اور انتخابات کی آمد پر صرف سیاسی آبرو بچانے کے لئے تھی۔
میسیسیپی کے سینیٹر اور مسلح افواج کمیٹی کے رکن راجر وکر نے کہا: ہم ان حملوں کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن یہ غیر اہم اور کسی حکمت عملی کے بغیر انجام پائے ہیں اور مقاومت پھر بھی امریکیوں پر حملے کریں گے۔
پولیٹیکو میگزین کی تجزیہ کار ارین بانکو (Erin Banco) نے لکھا: واشنگٹن ایران سے آمنا سامنا کرنے سے اجتناب کرنا چاہتا ہے کیونکہ ایران کے ساتھ وسیع پیمانے پر جنگ نہیں لڑنا چاہتا صرف اپنا کھویا ہؤا توازن بحال کرنا چاہتا ہے۔ بائیڈن خطے کی پیچیدہ ترین صورت حال میں الجھے ہوئے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کے اقدامات کو مقررہ دائرے سے وسیع تر نہیں ہونا چاہئے۔
اس کاروائی کے نمائشی ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ امریکی حکام کاروائی کے لئے زیرو آور (zero hour) کا تعین نہیں کر پا رہے تھے، اور سیاسی حکام کہہ رہے تھے کہ کاروائی ابھی شروع نہیں ہوئی ہے کہ اسی اثناء میں سینٹکام دہشت گرد ٹولے نے بیان جاری کرکے اعلان کیا کہ “حملہ ہو چکا ہے”۔ فوج اور سیاسی حکام کے درمیان یہ عدم توازن اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ لوگ آخری لمحے تک باہمی اختلاف سے دوچار تھے۔
امریکہ نے داعش کی فضائیہ کا کردار ادا کیا
امریکی شام اور عراق میں دکھاوے کی کاروائی کے لئے بین الاقوامی اتحاد بنانے میں ناکام رہے اور برطانیہ آخری لمحوں میں پسپا ہوگیا اور برطانوی دفاع گرانٹ شیپس (Grant Shapps) نے کہا: “ہم ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے خلاف امریکی حملے میں حصہ نہیں لیں گے؛ ہم وسیع پیمانے کی علاقائی جنگ سے اجتناب کرنا چاہتے ہیں اور ایران سے کہتے ہیں کہ خطے پر اپنا کنٹرول مضبوط کرے”۔ اردنی فوج نے بھی براہ راست حصہ لینے سے پرہیز کیا اور اردنی ایف-16 طیارے امریکی پائلٹوں نے اڑائے! اس خیالی اتحاد کی شکست نے سیاسی ماہرین کے لئے بہت اہم پیغامات منتقل کئے۔
ایسے حال میں کہ، مقاومت اسلامی کی انگلی ٹریگر پر ہے،امریکیوں کی شبانہ نمائش تین اہم نکات کی حامل ہے:
1۔ امریکیوں نے ان اڈوں اور چھاؤنیوں کو نشانہ بنایا جو سنہ 2012 سے اب تک انسداد دہشت گردی اور داعش کے خلاف جنگ کے مراکز سمجھے جاتے ہیں، عراق کے مغرب میں القائم اور عکاشات کے علاقے اور شام میں المیادین اور البوکمال داعش کے خلاف جنگ کے اڈے ہیں جن پر سینٹکام کے دہشت گردوں نے حملہ کیا۔
2۔ ان دنوں ایران خطے میں داعش کی جڑیں اکھاڑنے میں مصرف ہے، چنانچہ امریکی جارحیت خطے میں داعش کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لئے انجام پائی، اور امریکی فضائی نمائش کے عین موقع پر داعش کے دہشت گردوں نے مغربی عراقی صوبے الانبار میں عراقی فوج اور الحشد الشعبی کے ٹھکانوں پر حملے کئے، جس سے ان دو دہشت گرد قوتوں کے مابین ہم آہنگی کا ثبوت ملتا ہے۔ امریکہ کی دہشت گردانہ فضائی کاروائی نے داعش کو انسداد دہشت گردی کی چھاؤنیوں پر حملے کا موقع فراہم کیا!
3۔ غزہ نے نیتن یاہو کو ناکوں چنے چبوائے ہیں، نیتن یاہو خالی ہاتھوں غزہ سے پسپا ہو رہا ہے اور اندرون خانہ اختلافات کی آگ میں بھسم ہو رہا ہے، بائیڈن نے ایک میدانی نمائش کا اہتمام کرکے اس کو دلدل سے نکالنے کی کوشش کی۔
امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر نے دہشت گردوں کی گذشتہ شب کی نمائش کے بعد لکھا: بدقسمتی سے، بائیڈن نے جوابی کاروائی کو ایک ہفتہ مؤخر کرکے دنیا اور بالخصوص ایران کو ہماری کاروائی کی نوعیت سے آگاہ کر دیا؛ حالانکہ ہم کچھ خاص چینلوں سے ایران کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں؛ اردن میں ہم پر پڑنے والی ضرب نے باب المندب کی گذرگاہ تک کو ہمارے اوپر بند کر دیا ہے یہاں تک کہ جہازرانی گروپ CMA CGM نے باقاعدہ اعلان کے بعد بحیرہ احمر میں کشیدگی میں اضافے کے باعث، اپنے جہازوں کے بحیرہ احمر میں داخلے کو معطل کردیا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔